مولانا تقی عثمانی

سورۃ البقرہ
اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ۭ فَمَنْ جَاۗءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ ۭ وَاَمْرُهٗٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ٢٧٥؁
يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ ٢٧٦؁
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ٢٧٧؁
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ٢٧٨؁
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ ٢٧٩؁
وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ٢٨٠؁
وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ ۼ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ٢٨١؁ۧ

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت میں) اٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھوکر پاگل بنا دیا ہو، یہ اس لیے ہوگا کہ انہوں نے کہا تھا کہ : بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہوتی ہے۔ (١٨٤) حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ لہذا جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی اور وہ (سودی معاملات سے) باز آگیا تو ماضی میں جو کچھ ہوا وہ اسی کا ہے۔ (١٨٥) اور اس ( کی باطنی کیفیت) کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جس شخص نے لوٹ کر پھر وہی کام کیا (١٨٦) تو ایسے لوگ دوزخی ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ ہر اس شخص کو ناپسند کرتا ہے جو ناشکرا گنہگار ہو۔
(ہاں) وہ لوگ جو ایمان لائیں، نیک عمل کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں وہ اپنے رب کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہوں گے، نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا نہ کوئی غم پہنچے گا۔
پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔ اور اگر تم (سود سے) توبہ کرو تو تمہارا اصل سرمایہ تمہارا حق ہے، نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔
اور اگر کوئی تنگدست (قرض دار) ہو تو اس کا ہاتھ کھلنے تک مہلت دینی ہے، اور صدقہ ہی کردو تو یہ تمہارے حق میں کہیں زیادہ بہتر ہے، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو۔
اور ڈرو اس دن سے جب تم سب اللہ کے پاس لوٹ کر جاؤ گے، پھر ہر ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہے پورا پورا دیا جائے گا، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔
184:” سود ” یا ” ربا ” ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کرکے وصول کی جائے، مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کرکے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے ؟ ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامان تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامان تجارت بناکر اس سے نفع کمایا جائے، وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے ؛ تاکہ اس کے ذریعہ اشیائے ضرورت خریدی اور بیچی جاسکیں، نقدی کا نقدی سے تبادلہ کرکے اسے بذات خود نفع کمانے کا ذریعہ بنالیا جائے تو اس سے بیشمار مفاسد پیدا ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں بیع اور سود کے درمیان فرق کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے ایک حاکمانہ جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دے دیا ہے تو ایک بندے کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حکم کی حکمت اور اس کا فلسفہ پوچھتا پھرے اور گویا عملاً یہ کہے کہ جب تک مجھے اس کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آجائے گا میں اس حکم پر عمل نہیں کروں گا، واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں یقیناً کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے ؛ لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہر شخص کی سمجھ میں بھی آجائے، لہذا اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے تو پہلے اس کے ہر حکم پر سرتسلیم خم کرنا چاہئے، اس کے بعد اگر کوئی شخص اپنے مزید اطینان کے لئے حکمت اور فلسفہ سمجھنے کی کوشش کرے تو کوئی حرج نہیں ؛ لیکن اس پر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کو موقوف رکھنا ایک مومن کا طرز عمل نہیں۔
185: مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے سود کی حرمت نازل ہونے سے پہلے لوگوں سے سود وصول کیا ہے، چونکہ اس وقت تک سود کے حرام ہونے کا اعلان نہیں ہوا تھا اس لئے وہ پچھلے معاملات معاف ہیں، اور ان کے ذریعے جو رقمیں وصول کی گئی ہیں وہ واپس کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ حرمت کے اعلان کے وقت جو سود کسی پر واجب الادا ہو وہ لینا جائز نہیں ہوگا ؛ بلکہ اسے چھوڑنا ہوگا جیسا کہ آیت نمبر ٢٧٨ میں حکم دیا گیا ہے۔
186: یعنی جن لوگوں نے حرمت سودی کو تسلیم نہ کیا اور وہی اعتراض کرتے رہے کہ بیع اور سود میں کوئی فرق نہیں، وہ کافر ہونے کی وجہ سے ابدی عذاب کے مستحق ہوں گے۔ سود کے موضوع پر مزید تفصیل کے لیے دیکھئے ان آیات کے تحت معارف القرآن اور مسئلہ سود از حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (رح) اور میرا مذکورہ بالا فیصلہ۔

سورہء آل عمران
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْ كُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ١٣٠؁ۚ
وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْٓ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ ١٣١؁ۚ

اے ایمان والو ! کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود مت کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو (٤٤)
اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
44: امام رازی نے تفسیر کبیر میں فرمایا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرض لے کر جنگ کی تیاری کی تھی، اس لئے کسی مسلمان کے دل میں بھی خیال ہوسکتا تھا کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیار کریں، اس آیت نے انہیں خبر دار کردیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے، یہاں سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے ؛ بلکہ اس وقت چونکہ سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتا تھا کہ سود اصل سے کئی گنا بڑھ جاتا تھا اس لئے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے ورنہ سورة بقرہ (آیت ٢٧٧ اور ٢٧٨) میں صاف واضح کردیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی زیادتی ہو وہ سود میں داخل اور حرام ہے۔

سورۃالنساء
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا ١٦٠؀ۙ
وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۭوَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ١٦١؁

غرض یہودیوں کی سنگین زیادتی کی وجہ سے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں حرام کردیں جو پہلے ان کے لیے حلال کی گئی تھیں۔ (٩٤) اور اس لیے کہ وہ بکثرت لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے۔
94: اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انعام (146:6) میں آئے گی۔
اور سود لیا کرتے تھے، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو لوگ کافر ہیں، ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

سورۃالروم
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ 39؀

اور یہ جو تم سود دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہو کر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ہے۔ (١٨) اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے ارادے سے دیتے ہو، تو جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں وہ ہیں جو (اپنے مال کو) کئی گنا بڑھا لیتے ہیں۔ (١٩)
18: واضح رہے کہ سورة روم کی یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی، اور یہ پہلی آیت ہے جس میں سود کی مذمت کی گئی ہے، اس وقت تک سود کو واضح لفظوں میں حرام نہیں کیا گیا تھا، لیکن اشارہ فرما دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سود کی آمدنی بڑھتی نہیں، یعنی سود لینے والا لیتا تو اسی ارادے سے ہے کہ اس سے اس کی دولت بڑھے گی، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بڑھتی نہیں، کیونکہ اول تو دنیا میں بھی حرام مال اگرچہ گنتی میں بڑھ جائے، لیکن اس میں برکت نہیں ہوتی، مال و دولت کا اصل فائدہ تو یہ ہے کہ انسان کو اس سے آرام و راحت نصیب ہو، لیکن حرام آمدنی کی گنتی بڑھانے والے بکثرت دنیا میں بھی پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں۔ اور انہیں راحت نصیب نہیں ہوتی۔ دوسرے دولت کی یہ بڑھوتری آخرت میں کچھ کام نہیں آتی، اس کے برخلاف صدقات آخرت میں کام آتے ہیں۔ اسی حقیقت کو سورة بقرہ میں 276 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے، اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔
واضح رہے کہ اس آیت میں ربا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مشہور معنی سود کے ہیں ؛ لیکن اس کے ایک معنی اور ہیں اور وہ یہ کہ کوئی شخص اس نیت سے کسی کو کوئی تحفہ دے کہ وہ اس کو اس سے زیادہ قیمتی تحفہ دے گا، مثلاً شادی بیاہ کے موقع پر نیوتہ کی جو رسم ہوتی ہے اس کا یہی مقصد ہوتا ہے ؛ چناچہ بہت سے مفسرین نے یہاں ربا کے یہی معنی مراد لئے ہیں، اور فرمایا ہے کہ اس آیت میں نیوتہ کی رسم کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، اس قسم کا تحفہ جس کا مقصد قیمتی تحفہ حاصل کرنا ہو اس کو سورة مدثر (آیت نمبر : ٦) میں بھی ناجائز قرار دیا گیا ہے۔
19: سورة آل عمران : 261 میں فرمایا گیا ہے کہ صدقے کا ثواب سات سو گنا ملتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتے ہیں، مزید اضافہ فرما دیتے ہیں۔