سود کے اخلاقی و روحانی نقصانات

(2)

ایجابی پہلو

پچھلے باب میں جو بحث ہم نے کی ہے اس سے تو صرف اتنی بات ثابت ہوتی ہے کہ سود نہ تو کوئی معقول چیز ہے’ نہ وہ انصاف کا تقاضا ہے’ نہ وہ کوئی معاشی ضرورت ہے’ اور نہ اس میں فی الحقیقت فائدے کا کوئی پہلو ہے۔ لیکن سود کی حرمت صرف ان منفی اسباب ہی پر مبنی نہیں ہے’ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ وہ قطعی طور پر ایک نقصان دہ چیز ہے اور بہت سے پہلوؤں سے بہت زیادہ نقصان دہ ہے۔
اس باب میں ہم ایک ایک کرکے ان نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیں گے تاکہ کسی معقول آدمی کو اس ناپاک چیز کی حرمت میں ذرہ برابر بھی شبہ باقی نہ رہ جائے۔

سود کے اخلاقی و روحانی نقصانات

سب سے پہلے اخلاق و روحانیت کے نقطہ نظر سے دیکھیے۔ کیونکہ اخلاق اور روح ہی اصل جوہر انسانیت ہے’ اور اگر کوئی چیز ہمارے اس جوہر کو نقصان پہنچانے والی ہو تو بہرحال وہ قابل ترک ہے’ خواہ کسی دوسرے پہلو سے اس میں کتنے ہی فوائد ہوں۔ اب اگر آپ سود کا نفسیاتی تجزیہ کریں گے تو آپ کو بیک نظر معلوم ہو جائے گا کہ روپیہ جمع کرنے کی خواہش سے لے کر سودی کاروبار کے مختلف مرحلوں تک پورا ذہنی عمل خود غرضی’ بخل’ تنگ دلی’ سنگ دلی اور زر پرستی جیسی صفات کے زیر اثر جاری رہتا ہے’ اور جتنا جتنا آدمی اس کاروبار میں آگے بڑھتا جاتا ہے’ یہی صفات اس کے اندر نشوونما پاتی چلی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس زکوۃ و صدقات کی ابتدائی نیت سے لے کر اس کے عملی ظہور تک پورا ذہنی عمل فیاضی’ ایثار’ ہمدردی’ فراخ دلی’ عالی ظرفی اور خیر اندیشی جیسی صفات کے کے زیر اثر واقع ہوتا ہے اور اس طریق کار پر مسلسل عمل کرتے رہنے سے یہی صفات انسان کے اندر نشوونما پاتی ہیں۔ کیا کوئی انسان دنیا میں ایسا ہے جس کا دل شہادت نہ دیتا ہو کہ اخلاقی صفات کے ان دونوں مجموعوں میں سے پہلا مجموعہ بد ترین اور دوسرا مجموعہ بہترین ہے؟

Previous Chapter Next Chapter