ڈاکٹر اسرار احمد

سورۃ البقرہ
اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ۭ فَمَنْ جَاۗءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ ۭ وَاَمْرُهٗٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ٢٧٥؁
يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ ٢٧٦؁
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ٢٧٧؁
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ٢٧٨؁
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ ٢٧٩؁
وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ٢٨٠؁
وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ ۼ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ٢٨١؁ۧ

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہیں کھڑے ہوتے مگر اس شخص کی طرح جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام ٹھہرایا ہے تو جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ وہ پہلے لے چکا ہے وہ اس کا ہے اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جس نے (اس نصیحت کے آجانے کے بعد بھی) دوبارہ یہ حرکت کی تو یہ لوگ جہنمی ہیں ‘ وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے اور گناہگار کو پسند نہیں کرتا
ہاں جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے
اے ایمان والو ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم واقعی مؤمن ہو
پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو خبردار ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اور اگر تم توبہ کرلو تو پھر اصل اموال تمہارے ہی ہیں نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے
اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو فراخی حاصل ہونے تک اسے مہلت دو اور اگر تم صدقہ ہی کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
اور ڈرو اس دن سے کہ جس دن تم لوٹا دیے جاؤ گے اللہ کی طرف پھر ہر جان کو پورا پورا دے دیا جائے گا جو کمائی اس نے کی ہوگی اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا
فرمایا :

آیت ٢٧٥ (اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا) (لاَ یَقُوْمُوْنَ الاَّ کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ط)

یہاں عام طور پر یہ سمجھا گیا ہے کہ یہ قیامت کے دن کا نقشہ ہے۔ قیامت کے دن کا یہ نقشہ تو ہوگا ہی ‘ اس دنیا میں بھی سود خوروں کا حال یہی ہوتا ہے ‘ اور ان کا یہ نقشہ کسی سٹاک ایکسچینج میں جا کر بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ معلوم ہوگا گویا دیوانے ہیں ‘ پاگل ہیں ‘ جو چیخ رہے ہیں ‘ دوڑ رہے ہیں ‘ بھاگ رہے ہیں۔ وہ نارمل انسان نظر نہیں آتے ‘ مخبوط الحواس لوگ نظر آتے ہیں جن پر گویا آسیب کا سایہ ہو۔

(ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ٧ )

کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ میں نے سو روپے کا مال خریدا ‘ ١١٠ روپے میں بیچ دیا ‘ دس روپے بچ گئے ‘ یہ ربح (منافع) ہے ‘ جو جائز ہے ‘ لیکن اگر سو روپے کسی کو دیے اور ١١٠ واپس لیے تو یہ ربا (سود) ہے ‘ یہ حرام کیوں ہوگیا ؟ ایک شخص نے دس لاکھ کا مکان بنایا ‘ چار ہزار روپے ماہانہ کرایے پردے دیا تو جائز ہوگیا ‘ اور دس لاکھ روپے کسی کو قرض دیے اور اس سے چار ہزار روپے مہینہ لینا شروع کیے تو یہ سود ہوگیا ‘ حرام ہوگیا ‘ ایسا کیوں ہے ؟ عقلی طور پر اس طرح کی باتیں سود کے حامیوں کی طرف سے کہی جاتی ہیں۔ (ربح اور ربا کا فرق سورة البقرۃ کی آیت ٢٦ کے ضمن میں بیان ہوچکا ہے۔ ) اس ظاہری مناسبت کی وجہ سے یہ مخبوط الحواس سود خور لوگ ان دونوں کے اندر کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کا عقلی جواب نہیں دیا ‘ بلکہ فرمایا :

(وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ط)

اب تم یہ بات کرو کہ اللہ کو مانتے ہو یا نہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مانتے ہو یا نہیں ؟ قرآن کو مانتے ہو یا نہیں ؟ یا محض اپنی عقل کو مانتے ہو ؟ اگر تم مسلمان ہو ‘ مؤمن ہو تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر سر تسلیم خم کرو :

(وَمَا اٰتٰٹکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُق وَمَا نَھٰٹکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْاق) (الحشر : ٧)

جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ۔ یہ تو شریعت کا معاملہ ہے۔ ویسے معاشیات کے اعتبار سے اس میں یہ فرق واقع ہوتا ہے کہ ایک ہے
fluid capital
اور ایک ہے
fixed capital
۔ جہاں تک مکان کا معاملہ ہے تو وہ
fixed capital
ہے۔ دس لاکھ روپے کے مکان میں جو شخص رہ رہا ہے وہ اس سے کیا فائدہ اٹھائے گا ؟ وہ اس میں رہائش اختیار کرے گا اور اس کے عوض ماہانہ کرایہ ادا کرے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ نے دس لاکھ روپے کسی کو نقد دے دیے تو وہ انہیں کسی کام میں لگائے گا۔ اس میں یہ بھی امکان ہے کہ دس لاکھ کے بارہ لاکھ یا پندرہ لاکھ بن جائیں اور یہ بھی کہ آٹھ لاکھ رہ جائیں۔ چناچہ اس صورت میں اگر آپ نے پہلے سے طے شدہ
(fix)
منافع وصول کیا تو یہ حرام ہوجائے گا۔ تو ان دونوں میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے عقلی جواب نہیں دیا۔ جواب دیا کہ اللہ نے بیع کو حلال ٹھہرایا ہے اور ربا کو حرام۔

(فَمَنْ جَآءَ ہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ط) ۔

وہ اس سے واپس نہیں لیا جائے گا۔ حساب کتاب نہیں کیا جائے گا کہ تم اتنا سود کھاچکے ہو ‘ واپس کرو۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

(وَاَمْرُہٗ اِلَی اللّٰہِ ط) ۔

اللہ تعالیٰ چاہے گا تو معاف کر دے گا اور چاہے گا تو پچھلے سود پر بھی سرزنش ہوگی۔

آیت ٢٧٦ (یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ ط)

ہمارے زمانے میں شیخ محمود احمد (مرحوم) نے اپنی کتاب
Man & Money
میں ثابت کیا ہے کہ تین چیزیں سود کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ جتنا سود بڑھے گا اسی قدر بےروزگاری بڑھے گی ‘ افراطِ زر
(inflation)
میں اضافہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں شرح سود
(interest rate)
بڑھے گا۔ شرح سود کے بڑھنے سے بےروزگاری مزید بڑھے گی اور افراطِ زر میں اور زیادہ اضافہ ہوگا۔ یہ ایک دائرۂ خبیثہ
(vicious circle)
ہے اور اس کے نتیجے میں کسی ملک کی معیشت بالکل تباہ ہوجاتی ہے۔ یہ تباہی ایک وقت تک پوشیدہ رہتی ہے ‘ لیکن پھر یک دم اس کا ظہور بڑے بڑے بینکوں کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں ہوتا ہے۔ ابھی جو کو ریا کا حشر ہو رہا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ اس سے پہلے روس کا جو حشر ہوچکا ہے وہ پوری دنیا کے لیے باعث عبرت ہے۔ سودی معیشت کا معاملہ تو گویا شیش محل کی طرح ہے ‘ اس میں تو ایک پتھر آکر لگے گا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس معاملہ صدقات کا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ پالتا ہے ‘ بڑھاتا ہے ‘ جیسا کہ سورة الروم کی آیت ٣٩ میں ارشاد ہوا۔

(وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیْمٍ )

اللہ تعالیٰ کو وہ سب لوگ ہرگز پسند نہیں ہیں جو ناشکرے اور گناہگار ہیں۔

آیت ٢٧٧ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ج)

نیک عمل میں ظاہر بات ہے جو شے حرام ہے اس کا چھوڑ دینا بھی لازم ہے۔

آیت ٢٧٨ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبآوا)

آج فیصلہ کرلو کہ جو کچھ بھی تم نے کسی کو قرض دیا تھا اب اس کا سود چھوڑ دینا ہے۔

آیت ٢٧٩ (فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ج)

سود خوری سے با زنہ آنے پر یہ الٹی میٹم ہے۔ قرآن و حدیث میں کسی اور گناہ پر یہ بات نہیں آئی ہے۔ یہ واحد گناہ ہے جس پر اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔

(وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُءُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ ج) ۔

تمہارے جو اصل رأس المال ہیں وہ تمہیں لوٹا دیے جائیں گے۔ چناچہ سود چھوڑ دو اور اپنے رأس المال واپس لے لو۔

( لاَ تَظْلِمُوْنَ وَلاَ تُظْلَمُوْنَ ) ۔

نہ تم کسی پر ظلم کرو کہ اس سے سود وصول کرو اور نہ ہی تم پر ظلم کیا جائے کہ تمہارا رأس المال بھی دبا دیا جائے ۔

آیت ٢٨٠ (وَاِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ ط)

اسے مہلت دو کہ اس کے ہاں کشادگی پیدا ہوجائے تاکہ وہ آسانی سے آپ کا قرض آپ کو واپس کرسکے۔

(وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ )

تمہارا بھائی غریب تھا ‘ اس کو تم نے قرض دیا تھا ‘ اس پر کچھ سود لے کر کھا بھی چکے ہو ‘ باقی سود کو تو چھوڑا ہی ہے ‘ اگر اپنا رأس المال بھی اس کو بخش دو تو یہ انفاق ہوجائے گا ‘ یہ اللہ کو قرض حسنہ ہوجائے گا اور تمہارے لیے ذخیرۂ آخرت بن جائے گا۔ یہ بات سمجھ لیجیے کہ آپ کی جو بچت ہے ‘ جسے میں نے قدر زائد
(surplus value)
کہا تھا ‘ اسلامی معیشت کے اندر اس کا سب سے اونچا مصرف انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دو ‘ صدقہ کر دو ۔ اس سے کم تر قرض حسنہ ہے۔ آپ کے کسی بھائی کا کاروبار رک گیا ہے ‘ اس کو قرض دے دو ‘ اس کا کاروبار چل پڑے گا اور پھر وہ تمہیں تمہاری اصل رقم واپس کر دے گا۔ یہ قرض حسنہ ہے ‘ اس کا درجہ انفاق سے کم تر ہے۔ تیسرا درجہ مضاربت کا ہے ‘ جو جائز تو ہے مگر پسندیدہ نہیں ہے۔ اگر تم زیادہ ہی خسیس ہو تو چلو اپنا سرمایہ اپنے کسی بھائی کو مضاربت پردے دو ۔ اور مضاربت یہ ہے کہ رقم تمہاری ہوگی اور کام وہ کرے گا۔ اگر بچت ہوجائے تو اس میں تمہارا بھی حصہ ہوگا ‘ لیکن اگر نقصان ہوجائے تو وہ کلُ کا کل تمہارا ہوگا ‘ تم اس سے کوئی تاوان نہیں لے سکتے۔ اس کے بعد ان تین درجوں سے بھی نیچے اتر کر اگر تم کہو کہ میں یہ رقم تمہیں دے رہا ہوں ‘ اس پر اتنے فیصد منافع تو تم نے بہرحال دینا ہی دینا ہے ‘ تو اس سے بڑھ کر حرام شے کوئی نہیں ہے۔
اس آیت میں ہدایت کی جا رہی ہے کہ اگر تمہارا مقروض تنگی میں ہے تو پھر انتظار کرو ‘ اسے اس کی کشائش اور فراخی تک مہلت دے دو ۔ اور اگر تم صدقہ ہی کر دو ‘ خیرات کر دو ‘ بخش دو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔

(اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) ۔

اگر تمہیں اللہ نے حکمت عطا کردی ہے ‘ اگر تم اولو الالباب ہو ‘ اگر تم سمجھ دار ہو تو تم اس بچت کے امیدوار بنو جو اللہ کے ہاں اجر وثواب کی صورت میں تمہیں ملے گی۔ اس کے مقابلے میں اس رقم کی کوئی حیثیت نہیں جو تمہیں مقروض سے واپس ملنی ہے۔
اگلی آیت نزول کے اعتبار سے قرآن مجید کی آخری آیت ہے

آیت ٢٨١ (وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ قف)

یہاں وہ آیت یاد کیجیے جو سورة البقرۃ میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ دو بار آچکی ہے :

(وَاتَّقُوْا یَوْمًا لاَّ تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْءًا وَّلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلاَ یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلاَ ہُمْ یُنْصَرُوْنَ )

اور ڈرو اس دن سے کہ جس دن کام نہ آسکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ کسی سے کوئی فدیہ وصول کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔ اور

(وَاتَّقُوْا یَوْماً لاَّ تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْءًا وَّلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلاَ تَنْفَعُھَا شَفَاعَۃٌ وَّلاَ ہُمْ یُنْصَرُوْنَ )

اور ڈرو اس دن سے کہ جس دن کام نہ آسکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ کسی کو کوئی سفارش فائدہ پہنچا سکے گی اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔

سورہء آل عمران
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْ كُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ١٣٠؁ۚ
وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْٓ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ ١٣١؁ۚ

اے اہل ایمان ! سود مت کھاؤ دگنا چوگنا بڑھتا ہوا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے

آیت ١٣٠ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوا الرِّبآوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃًص)

یہاں پر سود مرکب
(compound interest)
کا ذکر آیا ہے جو بڑھتا چڑھتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ شراب اور جوئے کی طرح سود کی حرمت کے احکام بھی تدریجاً نازل ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے ایک مکی سورة ‘ سورة الروم میں انفاق فی سبیل اللہ اور سود کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر سود کی قباحت اور شناعت کو واضح کردیا گیا :

(وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِج وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ )

جیسے کہ شراب اور جوئے کی خرابی کو سورة البقرۃ (آیت ٢١٩) میں بیان کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد آیت زیر مطالعہ میں دوسرے قدم کے طور پر مہاجنی سود
(usury)
سے روک دیا گیا۔ ہمارے ہاں آج کل بھی ایسے سود خور موجود ہیں جو بہت زیادہ شرح سود پر لوگوں کو قرض دیتے ہیں اور ان کا خون چوس جاتے ہیں۔ تو یہاں اس سود کی مذمت آئی ہے۔ سود کے بارے میں آخری اور حتمی حکم ٩ ھ میں نازل ہوا ‘ لیکن ترتیب مصحف میں وہ سورة البقرۃ میں ہے۔ وہ پورا رکوع (نمبر ٣٨) ہم مطالعہ کرچکے ہیں۔ وہاں پر سود کو دو ٹوک انداز میں حرام قرار دے دیا گیا اور سود خوری سے باز نہ آنے پر اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے جنگ کا الٹی میٹم دے دیا گیا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ غزوۂ احد کے حالات و واقعات کے درمیان سود خوری کی مذمت کیوں بیان ہوئی ؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ درے پر مامور پچاس تیر اندازوں میں سے پینتیس اپنی جگہ چھوڑ کر جو چلے گئے تھے تو ان کے تحت الشعور میں مال غنیمت کی کوئی طلب تھی ‘ جو نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس حوالے سے سود خوری کی مذمت بیان کی گئی کہ یہ بھی انسان کے اندر مال و دولت سے ایسی محبت پیدا کردیتی ہے جس کی وجہ سے اس کے کردار میں بڑے بڑے خلا پیدا ہوسکتے ہیں ۔

سورۃالنساء
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا ١٦٠؀ۙ
وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۭوَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ١٦١؁

توبسبب ان یہودی بن جانے والوں کی ظالمانہ روش کے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں بھی حرام کردیں جو اصلاً ان کے لیے حلال تھیں اور بسبب اس کے کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے (خود رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی) روکتے ہیں۔
اور بسبب ان کے سود کھانے کے جبکہ اس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور بسبب ان کے لوگوں کے مال ناحق ہڑپ کرنے ‘ کے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لیے ہم نے بہت درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے

آیت ١٦٠ (فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ )

اللہ تعالیٰ کی ایک سنت یہ بھی ہے کہ کوئی قوم اگر کسی معاملے میں حد سے گزرتی ہے تو سزا کے طور پر اسے حلال چیزوں سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ یہاں پر یہی اصول بیان ہو رہا ہے۔ مثلاً اگر حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے تورات میں اس کی صراحت نہیں کی کہ یہ حرام نہیں ہے ‘ یہ تو محض تمہارے نبی ( علیہ السلام) کا بالکل ذاتی قسم کا فیصلہ ہے ‘ بلکہ اللہ نے کہا کہ ٹھیک ہے ‘ ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر تنگی رہے اور اس طرح ان کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر حلال چیزیں بھی ان پر حرام کردیں۔

(وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَثِیْرًا )

یہ لوگ اللہ کے راستے سے خود بھی رکتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں۔ تو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان پر بعض حلال چیزیں بھی حرام کردیں۔

آیت ١٦١ (وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُہُوْا عَنْہُ )

شریعت موسوی میں سود حرام تھا ‘ آج بھی حرام ہے ‘ لیکن انہوں نے اس حکم کا اپنا ایک من پسند مفہوم نکال لیا ‘ جس کے مطابق یہودیوں کا آپس میں سود کا لین دین تو حرام ہے ‘ کوئی یہودی دوسرے یہودی سے سودی لین دین نہیں کرسکتا ‘ لیکن غیر یہودی سے سود لینا جائز ہے ‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک
Gentiles
اور
Goyems
ہیں ‘ انسان نما حیوان ہیں ‘ جن سے فائدہ اٹھانا اور ان کا استحاصل کرنا ان کا حق ہے۔ ہم سورة آل عمران (آیت ٧٥) میں یہود کا یہ قول پڑھ چکے ہیں :

(لَیسَ عَلَیْنَا فِیْ الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ)

کہ ان امیینّ کے بارے میں ہم پر کوئی گرفت ہے ہی نہیں ‘ کوئی ذمہ داری ہے ہی نہیں۔ ہم جیسے چاہیں لوٹ مار کریں ‘ جس طرح چاہیں انہیں دھوکہ دیں ‘ ہم پر کوئی مواخذہ نہیں۔ لہٰذا سو دکھانے میں ان کے ہاں عمومی طور پر کوئی قباحت نہیں ہے۔

سورۃالروم
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ 39؀

ا اور جو کچھ تم دیتے ہو سود پر تاکہ بڑھتا رہے لوگوں کے مال میں تو اللہ کے ہاں اس میں کوئی بڑھوتری نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو ( اور اس سے) اللہ کی رضا چاہتے ہو ‘ تو یہی لوگ ہیں جو (اللہ کے ہاں اپنے مال کو) بڑھانے والے ہیں

آیت ٣٩ (وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ ج) ”

اس آیت کا حوالہ سورة البقرۃ کی آیت ٢٧٥ کی تشریح کے ضمن میں بھی دیا گیا ہے۔ دراصل اپنے مستقبل کے لیے بچت کرنا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ پھر ہر شخص نہ صرف اپنی بچت کو سنبھال کر رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بچائی ہوئی رقم وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی بھی رہے۔ قرآن اس بچت کو ” العَفْو “

یعنی قدر زائد
(surplus value)
قرار دے کر اسے انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں اللہ کے بینک میں جمع کرانے کی ترغیب دیتا ہے : (وَیَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَط قُلِ الْعَفْوَ ط) (البقرۃ : ٢١٩) ” اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیجیے کہ (وہ سب خرچ کر دو ) جو ضرورت سے زائد ہے ! “
انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں ایسے مال سے محتاجوں اور ناداروں کی مدد بھی کی جاسکتی ہے اور اسے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے بھی کام میں لایا جاسکتا ہے۔ اس کا کم تر درجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرض حسنہ کی شکل میں وقتی طور پر کسی ضرورت مند کی مدد کردی جائے۔ بہر حال اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کے راستے میں خرچ کیا ہوا مال اس کے ہاں محفوظ بھی رہے گا اور بڑھتا بھی رہے گا۔ یعنی آخرت میں اس کا اجر کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا۔
(وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ) ”
دنیا میں جو لوگ زکوٰۃ اور صدقات و خیرات کی صورت میں اللہ کے راستے میں خرچ کر رہے ہیں انہیں آخرت میں اس کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا کردیا جائے گا ‘ بلکہ اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے اسے اور بھی زیادہ بڑھا دے گا۔ ایسے لوگوں کو آخرت میں اجر موعود کے ساتھ ساتھ اللہ کی رضا بھی حاصل ہوگی۔
اس آیت میں انفاق فی سبیل اللہ اور سود کا تقابل کر کے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کسی شخص کی بچت کا بہترین مصرف ہے۔ اس میں منافع (اجر وثواب) بہت زیادہ بھی ہے اور دائمی بھی۔ دوسری طرف سود پر رقم دینا کسی بچت کا بد ترین مصرف ہے ‘ جس میں ایک شخص بغیر کوئی محنت کیے اور بغیر کوئی خطرہ مول لیے ایک طے شدہ رقم باقاعدگی سے حاصل کرتا رہتا ہے جبکہ اس کی اصل رقم بھی محفوظ رہتی ہے۔ اس کے بارے میں یہاں فرمایا گیا کہ سود کی شکل میں سرمائے میں بظاہر جو اضافہ ہوتا نظر آتا ہے اللہ کی نظر میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ صدقات اور سود کے تقابل کے حوالے سے دراصل یہاں دو متضاد ذہنیتوں کا تقابل بھی سامنے آتا ہے۔ ایک اس شخص کی ذہنیت ہے جو اپنے مال سے اللہ کی رضا کا متمنیّ ہے جبکہ دوسرا شخص اللہ کے احکام کی پروا کیے بغیر ہر قیمت پر اپنے سرمائے میں اضافہ چاہتا ہے۔
یہاں ضمنی طور پر یہ بھی سمجھ لیں کہ ایک ایسا شخص جس کے پاس سرمایہ ہے مگر وہ خود محنت یا تجارت وغیرہ نہیں کرسکتا اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے سرمائے میں اضافہ ہوتا رہے اس کے لیے شریعت اسلامی میں مضاربت کا طریقہ ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص اپنی رقم کسی دوسرے شخص کو کاروبار وغیرہ کے لیے دے اور اس سے منافع وغیرہ کی شرائط طے کرلے۔ اب اگر اس کاروبار میں منافع ہوگا تو سرمایہ فراہم کرنے والا شخص اس میں سے شرائط کے مطابق اپنے حصے کا حق دار ہوگا لیکن نقصان کی صورت میں تمام نقصان اسے خود ہی برداشت کرنا ہوگا۔ عامل (محنت کرنے والا) اس نقصان میں حصہ دار نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں مزید تفصیل کے لیے فقہ کی کتب سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔