تفسیر قرطبی – ابو عبدللہ قرطبی

سورۃ البقرہ
اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ۭ فَمَنْ جَاۗءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ ۭ وَاَمْرُهٗٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ٢٧٥؁
يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ ٢٧٦؁
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ٢٧٧؁
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ٢٧٨؁
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ ٢٧٩؁
وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ٢٨٠؁
وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ ۼ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ٢٨١؁ۧ

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہیں کھڑے ہوتے مگر اس شخص کی طرح جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام ٹھہرایا ہے تو جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ وہ پہلے لے چکا ہے وہ اس کا ہے اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جس نے (اس نصیحت کے آجانے کے بعد بھی) دوبارہ یہ حرکت کی تو یہ لوگ جہنمی ہیں ‘ وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے اور گناہگار کو پسند نہیں کرتا
ہاں جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے
اے ایمان والو ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم واقعی مؤمن ہو
پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو خبردار ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اور اگر تم توبہ کرلو تو پھر اصل اموال تمہارے ہی ہیں نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے
اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو فراخی حاصل ہونے تک اسے مہلت دو اور اگر تم صدقہ ہی کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
اور ڈرو اس دن سے کہ جس دن تم لوٹا دیے جاؤ گے اللہ کی طرف پھر ہر جان کو پورا پورا دے دیا جائے گا جو کمائی اس نے کی ہوگی اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا
تین آیات سود کے احکام بیع کو عقود کے جواز اور اس کے لئے وعید کو متضمن ہیں جو کوئی سود کو حلال سمجھے اور اس پر عمل کرنے پر مصر ہو۔
اس میں اڑتیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (١) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الذین یاکلون الربوا “۔ یہاں ” یاکلون “ بمعنی یاخذون ہے (یعنی وہ جو سود لیتے ہیں) اور اخذ (لینے) کو اکل (کھانے) کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ سود کھانے کے لئے ہی لیا جاتا ہے اور ربا کا لغوی معنی مطلق زیادتی ہے۔ کہا جاتا ہے : ربا الشیء یربو۔ جب کوئی شے زیادہ ہوجائے اور اس معنی میں حدیث طیبہ بھی ہے : فلا واللہ ما اخذنا من لقمۃ الا ربا من تحتھا “۔ (قسم بخدا ! ہم نے جو لقمہ بھی لیا تو وہ اپنے نیچے سے اور زیادہ ہوگیا) مراد وہ کھانا ہے جس میں حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برکت کی دعا فرمائی، اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ (١) (صحیح بخاری، باب السرمع الصیف والاھل، حدیث نمبر ٥٦٧، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
قیاس یہ ہے کہ یہ یاء کہ ساتھ لکھا جائے کیونکہ اس کے اول میں کسرہ ہے، حالانکہ انہوں نے اسے قرآن کریم میں واؤ کے ساتھ لکھا ہے۔
پھر شریعت نے اس اطلاق میں تصرف کیا اور اسے بعض مواقع کے ساتھ محصور کردیا، پس ایک بار اس کا اطلاق حرام کمائی پر کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کے بارے میں فرمایا : (آیت) ” واخذھم الربوا وقد نھوا عنہ “۔ (النسا : ١٦١)
ترجمہ : اور بوجہ اس کے سود لینے کے حالانکہ منع کئے گئے تھے اس سے۔
اور اس سے وہ شرعی ربا مراد نہیں لیا جس کے حرام ہونے کا ہم پر حکم لگایا، بلکہ اس سے حرام مال مراد لیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔

(آیت) ” سمعون للکذب اکلون للسحت “۔ (المائدہ : ٤٢)

ترجمہ ؛ قبول کرنے والے ہیں جھوٹ کو بڑے حرام خور ہیں۔
اس سے مراد مال حرام ہے رشوت وغیرہ، اور وہ جسے انہوں نے ” امیین “ کے اموال میں سے حلال سمجھ لیا تھا جہاں انہوں نے کہا :

(آیت) ” لیس علینا فی الامین سبیل “۔ (العمران : ٧٥)

ترجمہ : کہ نہیں ہے ہم پر ان پڑھوں کے معاملہ میں کوئی گرفت۔
اس بنا پر اس میں نہی ہر مال حرام کو شامل ہے جس طریقہ سے بھی مال کمایا جائے اور وہ ربا جس پر شرعی اصطلاح ہے وہ دو چیزیں ہیں : نساء کو حرام قرار دینا اور عقود اور مطعومات میں تفاضل (زیادتی) جیسا کہ ہم اسے بیان کریں گے اور اس میں غالب وہی ہے جو عرب کرتے تھے، قرض دینے والے کے لئے ان کا یہ قول ہے : اتقضی ام تربی ؟ (کیا تو ادا کرے گا یا تو اضافہ کرے گا) پس وہ (قرض دینے والا) مال کی تعداد میں اضافہ کردیتا اور قرض لینے والا اس پر صبر کرتا اور یہ سب حرام کردیا گیا ہے اس پر پوری امت کا اتفاق ہے۔
مسئلہ نمبر : (٢) اکثر وہ بیعیں جنہیں ممنوع قرار دیا گیا ہے ان میں ممنوع ہونے کی علت زیادتی کے معنی کا پایا جانا ہے یا تو عینمال میں زیادتی یا پھر (بائع اور مشتری میں سے) کسی ایک کے لئے تاخیر کے سبب منفعت میں زیادتی وغیرہ۔
اور بیوع میں سے وہ جس میں زیادتی کا معنی نہ ہو جیسا کہ پھل کی بیع کرنا اس کے پکنے کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے اور اسی طرح وہ بیع جو جمعہ کے دن اذان کے وقت ہو، اگر ان کے کرنے والے کو کہا جائے، سود کھانے والا تو یہ مجازا اور تشبیہا ہوگا۔
مسئلہ نمبر : (٣) ائمہ نے روایت کیا ہے اور الفاظ مسلم شریف کے ہیں، حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” سونے کی بیع سونے کے عوض، چاندی کی بیع چاندی کے عوض، گندم کی بیع گندم کے عوض، جو کی بیع جو کے عوض، کھجور کی بیع کھجور کے عوض اور نمک کی بیع نمک کے عوض برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہے، پس جس نے زیادتی کی یا زیادتی کا مطالبہ کیا تو اس نے سود لیا لینے اور دینے والا اس میں برابر ہیں۔ “
اور حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی حدیث میں ہے : ” جب یہ اصناف مختلف ہوں تو پھر انکی بیع کرو جیسے تم چاہو بشر طی کہ دست بدست ہو ، “ اور ابو داؤد نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ” سونے کی بیع سونے کے عوض اس کی پتریاں ہوں اور اس کا عین ہو، چاندی کی بیع چاندی کے عوض اس کی پتریاں ہوں اور اس کا عین ہو، گندم کی بیع گندم کے عوض (یعنی) مد کی بیع مد کے عوض، جو کی بیع جو کے عوض (یعنی) مد کی بیع مد کے عوض، کھجور کی بیع کھجور کے عوض (یعنی) مد کے بدلے مد اور نمک کی بیع نمک کے عوض (یعنی) مد کے بدلے مد، پس جس نے زیادہ دیا یا زیادتی کا طالب ہوا تحقیق اس نے سود لیا اور سونے کو چاندی کے عوض بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ ان میں سے چاندی کی مقدار زیادہ ہو درآنحالیکہ بیع دست بدست ہو اور رہی نسیئہ (ادھار) تو یہ جائز نہیں ہے اور گندم جو کے عوض بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جو ان دونوں میں زیادہ ہو درآنحالیکہ بیع دست بدست ہو اور رہی ادھار تو یہ جائز نہیں۔ (١) (سنن ابی داؤد باب فی الصرف، حدیث نمبر ٢٩٠٧، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) علماء نے اس سنت کے تقاضا کے مطابق قول پر اجماع کیا ہے اور اسی طریقہ پر مسلمان فقہاء کی جماعت ہے مگر گندم اور جو میں، کیونکہ امام مالک (رح) نے ان دونوں کو ایک صنف قرار دیا ہے۔ پس ان دونوں میں سے دو کی بیع ایک کے عوض جائز نہیں ہے اور یہی قول لیث، اوزاعی اور مدینہ اور شام کے عظیم علماء کا ہے، اور امام مالک نے ان دونوں کی طرف السلت (جو کی ایک قسم جس پر چھلکا نہیں ہوتا) کی اضافت کی ہے اور لیث نے کہا : السلت (جو) باجرہ اور مکئی یہ ایک ہی صنف ہے اور ابن وہب نے یہی کہا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : جب طیبہ ثابت ہے تو اس کے ساتھ کسی قول کی کوئی حیثیت نہیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : ” جب یہ اصناف مختلف ہوں تو تم جیسے چاہو انہیں بیچو بشرطیکہ بیع دست بدست ہو ، “ اور آپ کا یہ ارشاد بھی ہے : ” کہ گندم کی بیع گندم کے عوض اور جو کی بیع جو کے عوض “ تو یہ اس پر دلیل ہے کہ یہ دونوں دو مختلف قسمیں ہیں جیسا کہ گندم اور کھجور مختلف ہیں کیونکہ دونوں کی صفات مختلف ہیں اور دونوں کے نام بھی مختلف ہیں اور اگانے والے اور کاٹنے والے کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ شریعت نے اس کا اعتبار نہیں کیا، بلکہ جدائی اور فرق بالکل واضح اور بین ہے اور امام شافعی، امام ابو حنیفہ، ثوری اور اصحاب حدیث کا یہی مذہب ہے۔
مسئلہ نمبر : (٤) حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) یہ موقف اختیار کرتے تھے کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے نہی اور تحریم ڈھلے ہوئین دینار اور ڈھلے ہوئے درہم کے بارے میں وارد ہے نہ کہ سونے کی پتریوں اور ڈھالی گئی چاندی کے بارے میں اور نہ ہی اس کے بارے میں جو ڈھلی ہوئی (چاندی) سے شے بنائی گئی ہو، اور کبھی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نہی صرف اس کے بارے میں جو اس سے خاص نمونہ پر تیار کی گئی ہو۔ یہاں تک کہ ان کی ملاقات حضرت عبادہ (رض) کے ساتھ ہوگئی، جسے مسلم وغیرہ نے بیان کیا ہے، بیان فرمایا : ہم جہاد میں شریک ہوئے اور لوگوں پر حضرت امیر معاویہ (رض) حکمران تھے پس ہم نے بہت زیادہ مال غنیمت اکٹھا کیا اور ہمارے اس مال غنیمت میں چاندی کے برتن بھی تھے، تو حضرت امیر معاویہ (رض) نے ایک آدمی کو لوگوں کے عطیات میں انہیں بیچ ڈالنے کا حکم دیا، تو اس بارے میں لوگوں کے مابین تنازع شروع ہوگیا، پس اس کی اطلاع حضرت عبادہ بن صامت (رض) کے پاس پہنچی آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا : بلاشبہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سونا سونے کے عوض، چاندی چاندی کے عوض گندم گندم کے عوض، جو جو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض اور نمک نمک کے عوض بیچنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے مگر (اس صورت میں کہ وہ) برابر برابر ہو اور عین کے عوض عین ہو، جس نے زیادہ کیا یا زیادتی کا طالب ہوا تو تحقیق اس نے سود لیا، پس لوگوں نے جو لیا تھا وہ واپس لوٹا دیا۔ پس یہ خبر جب حضرت امیر معاویہ (رض) تک پہنچی تو آپ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا : خبردار ! سنو کیا حال ہے ان لوگوں کا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے احادیث بیان کرتے ہیں حالانکہ ہم آپ کے پاس حاضر رہتے تھے اور آپ کی صحبت ومعیت میں رہتے تھے اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی احادیث نہیں سنیں، تو حضرت عبادہ بن صامت (رض) کھڑے ہوئے اور دو بار وہی حدیث بیان فرمائی، پھر فرمایا ہم ضرور بہ ضرور اس کے بارے حدیث بیان کریں گے، جو ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے، اگرچہ حضرت امیر معاویہ (رض) اسے ناپسند کریں، مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میں نے سیاہ رات میں آپ کے لشکر میں آپ کی صحبت اختیار نہیں کی، حماد نے یہی یا اسی طرح کہا ہے۔
ابن عبدالبر نے کہا ہے : یہ بھی روایت ہے کہ یہ قصہ حضرت ابو الدرداء (رض) کا حضرت امیر معاویہ (رض) کے ساتھ پیش آیا اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں کا آپ کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہو لیکن عرف میں حضرت عبادہ (رض) کی حدیث محفوظ رہی۔ اور یہی وہ اصل ہے جس پر علماء نے ربا کے باب میں اعتماد اور بھروسہ کیا ہے اور انہوں نے اس بارے میں حضرت امیر معاویہ (رض) کے فعل کے جائز نہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں کیا ہے اور اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ معاملہ حضرت امیر معاویہ (رض) پر مخفی رہا ہو حالانکہ حضرت ابوالدرداء اور حضرت عبادہ (رض) دونوں نے اسے جان لیا ہو، کیونکہ یہ دونوں فقہاء اور کبار صحابہ کرام میں سے جلیل القدر صحابی ہیں، کبھی حضرت ابوبکر وعمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر کوئی ایسی شے مخفی رہی جوان کے سوا دوسرے صحابہ کرام سے پالی گئی جو درجہ اور رتبہ میں ان سے کم ہیں، پس حضرت امیر معاویہ (رض) بھی دوسرے ہیں۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا مذہب حضرت ابن عباس (رض) کے مذہب کی طرح ہو۔ اس کے باوجود کہ وہ علم کا سمندر تھے وہ ایک درہم کی بیع دو درہم کے ساتھ کرنے کوئی حرج نہ دیکھتے تھے یہاں تک کہ حضرت ابو سعید (رض) نے انہیں اس سے پھیر دیا۔ اور حضرت امیر معاویہ (رض) کا واقعہ بھی حضرت عبادہ (رض) کے ساتھ اسی طرح ہے اور یہ حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں پیش آیا، قبیصہ بن ذؤیب نے کہا ہے : بیشک حضرت عبادہ (رض) نے حضرت امیر معاویہ (رض) کو کسی شے سے منع کیا تو انہوں نے کہا : میں تجھے اس زمین پر نہیں رہنے دوں گا جہاں تو رہ رہا ہے تو وہ مدینہ میں داخل ہوگئے تو حضرت عمر (رض) نے انہیں کہا : کون سی شے تجھے لے آئی ہے ؟ تو انہوں نے آپ کو سارا واقعہ بیان کردیا۔ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تو اپنی جگہ کی طرف لوٹ جا، اللہ تعالیٰ اس زمین کو فاسد کرے جس میں تم اور تمہاری مثل لوگ نہ ہوں، اور ساتھی ہی حضرت امیر معاویہ (رض) کی طرف لکھ دیا لا امارۃ لک علیہ (تجھے اس پر کوئی ولایت حاصل نہیں ہے)
مسئلہ نمبر : (٥) ائمہ نے روایت کیا ہے اور الفاظ دارقطنی کے ہیں حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دینار کے عوض ہے اور درہم درہم کے عوض ہے ان کے درمیان کوئی فضل اور زیادتی نہیں ہے جسے چاندی کی حاجت ہو اسے چاہیے کہ وہ اسے سونے کے عوض بدل لے اور اگر سونے کی ضرورت ہو تو پھر اسے چاہیے کہ وہ چاندی کے عوض اسے بدل لے دست بدست (یعنی ایک ہاتھ سے لے اور دوسرے سے دے)
علماء نے بیان کیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد گرامی : ” الدینار بالدینار والدرھم بالدرھم لافضل بینھما یہ اس اصل کی جنس کی طرف اشارہ ہے جو ڈھلی ہوئی ہو اور اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : الفضۃ بالفضۃ والذھب بالذھب الدیث “۔ چاندی چاہے سفید ہو یا سیاہ اور سونا سرخ ہو یا زرد کسی کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بیع جائز نہیں ہوتی مگر یہ کہ دونوں ہم مثل ہوں اور ہر حال میں برابر ہوں، اسی پر علماء کی ایک جماعت ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا ہے۔
اور حضرت امام مالک (رح) سے فلوس کے بارے میں روایت مختلف ہے، سو آپ نے انہیں دراہم کے ساتھ ملحق کیا ہے اس حیثیت سے کہ یہ اشیاء کے ثمن ہیں اور ایک بار انہیں انکے ساتھ ملانے سے منع بھی کیا ہے اس اعتبار سے کہ یہ ہر شہر میں ثمن نہیں ہیں بلکہ بعض شہر ان کے ساتھ مختص ہیں۔
مسئلہ نمبر : (٦) اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے جو امام مالک (رح) کے بہت سے اصحاب سے مروی ہے ان میں سے بعض اسے امام مالک (رح) سے تاجر کے بارے میں روایت کرتے ہیں درآنحالیکہ خروج (گھر سے نکلنا) اسے دھوکہ دے رہا ہو۔ اور اس کے سبب اسے ڈھا لے گئے دراہم یا دنانیر کی حاجت پڑجائے، پس وہ اپنی چاندی یا اپنا سونا لے کر ٹکسال میں آتا ہے اور ڈھالنے والے کو کہتا ہے، میری یہ چاندی یا یہ سونا تو لے لے اور اپنی محنت بھی لے لے اور تو مجھے میرے سونے کے بدلے ڈھلے ہوئے دنانیر یا میری اس چاندی کے بدلے ڈھلے ہوئے دراہم مجھے دے دین کیونکہ مجھے خروج کے وقت دھوکا دیا گیا ہے اور مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے چھوڑ دے گا جس ساتھ میں نکلا ہوں، تو ضرورت کے تحت اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے اور بعض لوگوں نے اس کے مطابق عمل کیا ہے، ابن عربی (رح) نے اپنی قبس میں امام مالک (رح) سے تاجر کے سوا دوروں کے بارے میں بھی اسے بیان کیا ہے کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس میں تخفیف فرمائی ہے۔ اور یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی وہ چاندی بیچے جس کا وزن ایک سو پانچ درہم تھا اور وہ اس کے بدلے اسے سو درہم دے اور یہ خالص ربا ہے اور جس نے اس کے جواز کو ثابت کیا ہے کہ اگر وہ اسے اس طرح کہے : یہ چاندی مجھے ڈھال دے اور اس پر تو اس سے اجرت کاٹ لے، پس جب وہ اسے ڈھال لے اور یہ اس سے لے لے اور یہ اسے اس کی اجرت دا کر دے، پس جو امام مالک نے پہلے کہا ہے وہ وہی ہے جو آخر میں ہوگا، امام مالک (رح) نے مال کی طرف دیکھا ہے اور اس پر حال کا حکم مرتب کیا ہے اور تمام فقہاء نے اس کا انکار کیا ہے : ابن عربی نے کہا ہے : اس میں امام مالک (رح) کی حجت واضح ہے۔
ابو عمر (رح) نے کہا ہے یہ وہ عین ربا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اس قول سے حرام کیا ہے : من زادا وزاداد فقد اربی (جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تحقیق اس نے سود لیا۔
ابن وہب نے اس مسئلہ میں امام مالک (رح) کا رد کیا ہے اور اس کا انکار کیا ہے۔
اور علامہ ابہری نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ تجارت کے فروغ کے لئے نرم رویہ اپنایا گیا ہے تاکہ تجارتی منڈی ختم ہی نہ ہوجائے اور ربا (سود) نہیں اس پر جو اس سے زیادہ لینے کا ارادہ کرے جو اس کا قصد کرتا ہو اور اسے چاہتا ہو۔ اور ابہری بھول گئے اس کی اصل سد ذرائع میں ہے اور ان کا قول اس آدمی کے بارے میں ہے جس نے کپڑا ادھار بیچا اور وہ اسے خریدنے کی نیت اور ارادہ نہ رکھتاہو پھر وہ اسے بازار میں پاتا ہے کہ اسے بیچا جا رہا ہے۔ بیشک اس کے لئے اس سے کم قیمت کے ساتھ اسے خریدنا جائز نہیں ہے جتنے کے اس نے اسے بیچا تھا، اگرچہ وہ اس کا قصد نہ بھی کرے، اور نہ اسے چاہے اور اس کی کثیر مثالیں ہیں، اور اگر ربا نہیں ہے مگر اسی پر جو اس کا قصد کرے تو پھر (ہر شے) فقہاء پر ہی حرام کی گئی ہے اور حضرت عمر (رض) نے کہا ہے : ہمارے بازار میں کوئی تجارت نہیں کرے گا مگر وہی جو اس کی خوب سمجھ بوجھ رکھتا ہو ورنہ وہ ربا کھائے گا، یہ اس کے لئے بالکل واضح ہے جسے انصاف عطا کیا گیا اور اسے رشد ہدایت عطا فرمائی گئی۔ (١) (جامع ترمذی، باب ماجاء فی فضل الصلوۃ علی النبی، حدیث نمبر ٤٤٩، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
میں (مفسر) کہتا ہوں : امام مالک (رح) نے زیادتی (لینے دینے) سے روکنے میں انتہائی مبالغہ کیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے متوھم (موھومہ) کو متحقق (ثابت شدہ) کی مثل قرار دیا ہے، سو آپ نے ایک دینار اور ایک درہم کی بیع ایک دینار اور ایک درہم کے بدلے کرنے سے منع کیا ہے، یہ سد ذرائع کے لئے اور توہمات کی جڑ کاٹنے کے لئے کیا ہے کیونکہ اگر زیاتی کا وہم نہ ہوتا تو وہ آپس میں تبادلہ نہ کرتے اور تقسیم کے وقت مماثلت متعذر ہونے کو اس منع کی علت قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے سونے اور چاندی کا تبادلہ سونے کے عوض لازم آتا ہے اور اس سے زیادہ واضح یہ ہے کہ انہوں نے تفاضل معنوی سے بھی منع کیا ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے اس سے منع کیا ہے کہ کوئی اعلی اور عمدہ سونے کے ایک دینار اور گھٹیا سونے کے ایک دینار کی بیع اعلی کے مقابلہ میں کرے اور گھٹیا پن کو لغو قرار دے، اور یہ آپکی دقت نظر کی علامت ہے، پس یہ اس پر دلیل ہے کہ آپ سے وہ روایت منکر ہے اور وہ صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (٧) خطابی نے کہا ہے : تبر سے مراد سونے اور چاندی کا وہ ایک ٹکڑا ہے جسے ابھی تک ڈھالا نہ گیا ہو اور نہ ہی اس سے دراہم یا دنانیر بنائے گئے ہوں، اس کی واحد تبرۃ ہے اور العین سے مراد وہ ہے جس سے دراہم یا دنانیر بنا لئے گئے ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے کہ ایک مثقال عین سونا بیچا جائے مثقال اور ایسی پتریوں کے ساتھ جو ڈھلی ہوئی نہ ہوں اور اسی طرح مضروب چاندی اور غیر مضروب چاندی کے درمیان تفاوت کو بھی حرام قرار دیا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد ” تبرھا وعینھا “۔ سواء کا یہی معنی ہے۔
مسئلہ نمبر : (٨) علماء نے اس پر اجماع کیا ہے کہ کھجور کی بیع کھجور سے کرنا جائز نہیں ہوتی مگر برابر ابرابرا، اور انہوں نے ایک کھجور کی بیع دو کھجوروں کے ساتھ کرنے میں اور گندم کے ایک حبہ (دانہ یا دو جو کے برابر وزن) کی بیع دو جو وں کے ساتھ کرنے میں اختلاف کیا ہے، اور امام شافعی، امام احمد، اسحاق، اور ثوری رحمۃ اللہ علہیم نے اس سے منع کیا ہے۔ یہی امام مالک (رح) کے قول کا قیاس ہے اور یہی صحیح ہے، کیونکہ وہ شے جس میں ربا جاری ہوتا ہے اس کی کثیر مقدار میں تفاضل کے سبب تو قیاسا اور نظرا اس کی قلیل مقدار بھی اس میں داخل ہے اور جنہوں نے اس بیع کو جائز قرار دیا ہے انہوں نے اس سے استدلال کیا ہے کہ ایک یا دو کھجوریں ضائع کرنے والے پر قیمت واجب نہیں ہوتی، فرمایا : کیونکہ اس کا کوئی ماپ اور وزن نہیں ہے لہذا اس میں تفاضل (زیادتی) جائز ہے۔
مسئلہ نمبر : (٩) تو جان ! تجھ پر رحم فرمائے کہ اس باب کے مسائل کثیر ہیں اور اس کی فروع پھیلی ہوئی ہیں، وہ شے جو تیرے لئے مضبوط ہو وہ یہ ہے کہ تو ربا کی اس علت میں غور وفکر کرے جس کا علماء میں سے ہر ایک نے اعتبار کیا ہے، پس امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : اس کی علت جنس کے اعتبار سے کیلی یا وزنی ہونا ہے پس وہ شے جس میں کیل یا وزن داخل ہوگا آپ کے نزدیک وہ ایک جنس میں سے ہے اور اس کے بعض کی بعض کے ساتھ متفاضلا یانسئیا بیع کرنا جائز نہ ہوگا، پس آپ نے مٹی کی مٹی کے ساتھ بیع متفاضل سے منع کیا ہے، کیونکہ اس میں کیل داخل ہوتا ہے اور ایک روٹی کی بیع دو روٹیوں کے ساتھ کرنے کو جائز قرار دیا ہے، کیونکہ آپ کے نزدیک یہ اس کیل میں داخل نہیں ہیں جو اس کی اصل ہے۔ پاس یہ اس جنس سے خارج ہوگئی جس میں ربا داخل ہوتا ہے۔
اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : اس کی علت جنس کے اعتبار سے اس شے کا مطعوم (وہ شے جو کھائی جائے) ہونا ہے، یہ آپ کا جدید قول ہے، پس آپ کے نزدیک آٹے کی بیع روٹی کے ساتھ کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی روٹی کی بیع روٹی کے ساتھ کرنا جائز ہے نہ متفاضلا اور نہ سیئا، چاہے روٹی خمیری ہو یا تازہ ہو، اور آپ کے نزدیک ایک انڈے کی بیع دو انڈوں سے کرنا جائز نہیں ہے، ایک انار کی بیع دو اناروں سے کرنا جائز نہیں ہے، ایک تربوز کی بیع دو تربوزوں سے کرنا جائز نہیں ہے نہ دست بدست اور نہ ہی ادھار کیونہک یہ سب کھایا جانے والا طعام ہے۔
اور آپ نے اپنے پرانے قول میں کہا ہے کہ اس کی علت کیلی یا وزنی ہونا ہے۔
اور اس بارے میں ہمارے اصحاب مالکیہ کی عبارات مختلف ہیں اور ان میں سے جو سب سے اچھی اور حسین ہے وہ یہ ہے کہ وہ شے ایسی جنس سے ہو جو خوراک بن سکتی ہو اور اغلبا زندگی گزارنے کے لئے ذخیرہ کی جاسکتی ہو، جیسا کہ گندم، جو کھجور اور نمک جن پر نص بیان کی گئی ہے اور وہ چیزیں جو ان کے معنی میں جیسا کہ چاول، مکئی باجرہ اور تل اور وہ دانے جو ہانڈی میں پکائے جاتے ہیں مثلا لوبیا، دالیں، سیم اور جنے وغیرہ، اور طرح گوشت، دودھ، سرکہ اور تیل وغیرہ، اور پھل مثلا انگور، کشمش اور زیتون وغیرہ اور انجیر میں اختلاف کیا گیا ہے اور شہد اور شکر اس کے ساتھ ملحق کئے جاتے ہیں پس یہ تمام وہ چیزیں ہیں جن میں نساء کی جہت سے ربا داخل ہوتا ہے اور ان میں تفاضل جائز ہے کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : ” جب یہ اصناف مختلف ہوں تو تم جیسے چاہو ان کی بیع کرو بشرطیکہ وہ دست بدست ہو۔ “ اور ان تازہ پھلوں میں رب نہیں ہے جو باقی نہیں رہتے مثلا سیب، تربوز، انار، ناشپاتی، ککڑی، کھیرا بینگن، اور اس کے علاوہ دیگر سبزیاں۔
امام مالک (رح) نے کہا ہے : انڈے کی بیع انڈے کے ساتھ متفاضلا جائز نہیں ہوتی، کیونکہ یہ ان میں سے ہیں جو ذخیرہ کئے جاسکتے ہیں اور ان کے نزدیک برابر برابر بیع جائز ہوتی ہے۔
اور محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم نے کہا ہے : ایک انڈے کی بیع دو انڈوں سے اور زیادہ سے کرنا بھی جائز ہے کیونکہ یہ ان چیزوں میں سے ہیں جو ذخیرہ نہیں کی جاسکتیں اور یہی امام اوزاعی (رح) کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر : (١٠) الریا کے لفظ میں علماء نحو نے اختلاف کیا ہے بصریوں نے کہا ہے یہ وادی الفاظ میں سے ہے کیونکہ تو اس کے تثنیہ میں کہتا ہے : ربوان۔ سیبویہ نے یہی کہا ہے اور کو فیوں نے کہا ہے : یہ یا کے ساتھ لکھا جائے گا اور اس کا تثنیہ یا کے ساتھ ہے، کیونکہ اس کے اول میں کسرہ ہے۔
زجاج نے کہا ہے : میں نہیں کوئی خطا نہیں دیکھی جو اس سے زیادہ قبیح اور زیادہ شنیع ہو اور لکھنے میں خطا انہیں کافی نہ ہوتی یہاں تک کہ انہوں نے تثنیہ میں غلطی کی، حالانکہ وہ یہ پڑھتے ہیں : وما اتیتم من ربالیربوا فی اموال الناس “ محمد بن یزید نے کہا ہے : مصحف میں الربا واؤ کے ساتھ لکھا گیا ہے تاکہ اس کے درمیان اور زنا کے درمیان فرق ہوجائے۔ ربا واؤ کے ساتھ لکھنا اولی ہے کیونکہ یہ ربا یربو سے ہے۔
مسئلہ نمبر : (١١) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لا یقومون الا کما یقوم الذی یتخبط الشیطن من المس “۔ یہ جملہ مبتدا کی خبر ہے اور وہ (آیت) ” الذین “ ہے، اور معنی یہ ہے کہ وہ اپنی قبروں سے نہیں اٹھیں گے مگر جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر پاگل بنا دیا ہو، حضرت ابن عباس ِ (رض) ، حضرت مجاہد (رض) ، حضرت ابن جبیر (رض) ، قتادہ (رض) ، ربیع (رض) ، ضحاک (رض) ، سدی (رض) ، اور ابن زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین و رحمۃ اللہ علہیم نے یہی کہا ہے۔
اور بعض نے یہ کہا ہے کہ اس کے ساتھ شیطان رکھا جائے گا وہ اس کا گلا دباتا رہے گا، اور تمام نے کہا ہے : اسے بطور سزا اور تمام اہل محشر کے کے نزدیک ناپسندیدہ قرار دینے کے لئے مجنون کی طرح اٹھایا جائے گا، اور اس تاویل کو جس پر اجماع کیا گیا ہے یہ بات قوی اور پختہ کرتی ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) کی قرات میں ہے : لا یقومون یوم القیامۃ الا کما یقوم “۔ (کہ قیامت کے دن وہ کھڑے نہیں ہوں گے مگر جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : جہاں تک آیت کے الفاظ کا تعلق ہے وہ دنیوی تجارت کی طرف انتہائی حرص و لالچ کے ساتھ کھڑے ہونے والے کی حالت کو پاگل کے کھڑے ہونے کے ساتھ تشبیہ دینے کا احتمال رکھتے ہیں کیونکہ طمع اور رغبت اسے مضطرب کردیتی ہے یہاں تک کہ اس کے اعضاء مضططرب ہوجاتین ہیں اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ تو تیز چلنے والے کے بارے کہتا ہے کہ وہ اپنی حرکات کی ہئیت میں پاگل لگتا ہے یا تو گھبراہٹ کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے اسے پاگل کہا گیا ہے اور اعشے نے اپنی ناقہ کو اپنے اس قول میں اس کی چشتی اور تیزی میں جنون کے ساتھ تشبیہ دی ہے :

وتصبح عن غب السری وکانما الم بھا من طائف الجن اولق۔

اور دوسرے شاعر نے کہا ہے :

لعمرک بی من حب اسماء اولق۔

لیکن وہ جس کے مطابق حضرت ابن مسعود (رض) کی قرات ہے اس کے مطابق مفسرین کے اقوال ظاہر ہیں۔ وہ اس تاویل کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔
اور یتخبطہ یہ یتفعلہ کے وزن پر خبط یخبط سے ہے جیسا کہ آپ کہتے ہیں تملکہ وتعبدہ، اللہ تعالیٰ نے اسے سود کھانے والوں کے لیے علامت قرار دیا ہے اور وہ یہ کہ وہ اسے ان کے پیٹوں میں بڑھا دے گا اور انہیں خوب بوجھل کر دے گا پس وہ جب اپنی قبروں سے نکلیں گے تو وہ کھڑے ہوں گے اور گرپڑیں گے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے، بیشک انہیں قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ ان کے پیٹ حاملہ عورتوں کی طرح ہے بلاشبہ یہ ان کی علامت اور نشانی ہوگی اس سے وہ قیامت کے ند پہچانیں جائیں گے پھر عذاب اس کے پیچھے ہوگا جیسا کہ کینہ رکھنے والا قیامت کے دن اس شے کی شہرت کے ساتھ آئے گا جس کے ساتھ اس نے کینہ رکھا اس کے ساتھ اسے مشہور کیا جائے گا پھر اس کے پیچھے اسے عذاب دیا جائے گا۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” یاکلون “ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ سود کھاتے ہیں اور اس کا کاروبار کرتے ہیں، بیشک اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اکل (کھانے) کا ذکر کیا ہے اس لئے کہ انسان کا مال میں سب سے قوی مقصد یہی ہوتا ہے اور اس لئے کہ یہا انتہائی رغبت اور حرص پر دلالت کرتا ہے۔ الجشع کا معنی شدید حرص ہے کہا جاتا ہے : رجل جشع بین الجشع وقوم جشعون “۔ (یعنی انتہائی شدید حرص رکھنے والا آدمی اور قوم) المجمل میں یہی ہے اور کسب (کمائی) کے توابع میں سے اس بعض کو کل کسب کے قائم مقام رکھا گیا ہے پس لباس، رہائش، ذخیرہ اور اہل و عیال پر خرچ کرنا سب اس ارشاد میں داخل ہے۔ (آیت) ” الذین یاکلون “۔
مسئلہ نمبر : (١٢) اس آیت میں ان کے انکار کے فاسد ہونے پر دلیل ہے جنہوں نے جن کی جانب سے گرا دینے کا انکار کیا ہے اور یہ گمان کیا ہے کہ یہ طبائع کے فعل میں سے ہے اور یہ کہ شیطان نہ انسان میں چل سکتا ہے اور انہ اس کی جانب سے چھوا جاسکتا ہے اس کتاب میں پہلے ان کا رد گزر چکا ہے۔
نسائی نے ابو الیسر سے روایت بیان کی ہے انہوں نے بیان کیا ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح دعا مانگتے تھے : ” اللھم انی اعوذبک من التردی والھدم والغرق والحریق واعوذبک ان یتخبطنی الشیطان عند الموت واعوذبک ان اموت فی سبیلک مدبرا واعوذ بلک ان اموت لدیغا (اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں (کنویں میں) گرنے سے اور (اس سے کہ مجھ پر کوئی عمارت) گر پڑے اور (پانی میں) غرق ہونے سے اور (آگ میں) جلنے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ شیطان موت کے وقت مجھے پاگل بنا دے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں تیرے راستے میں (میدان جہاد سے) پیٹھ پھیرتے ہوئے مروں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ مجھے کسی شے کے ڈسنے سے موت آئے)
اور محمد بن مثنی کی حدیث سے مروی ہے کہ ابو داؤد نے ہمام سے انہوں نے حضرت قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا مانگتے تھے : (آیت) ” اللہم انی اعوذبلک من الجنون والجذام والبرص وسی الاسقام (اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جنون سے، جذام سے، برص سے اور بیماریوں کی شدت اور تلخی سے)
اور مس کا معنی جنون ہے، کہا جاتا ہے مس الرجل والس، فھو ممسوس، ومالوس، جب وہ آدمی مجنون ہو، اور یہ آخرت میں ربا کی علامت ہوگی، اور حدیث اسراء میں روایت کیا گیا ہے، ” جبرائیل امین (علیہ السلام) مجھے لے کر چلے تو میں بہت سے لوگوں کے پاس سے گزرا ان میں سے ہر آدمی کا پیٹ، بہت بڑے گھر کی مثل ہے درآنحالیکہ وہ آل فرعون کے راستے پر پڑے ہوئے ہیں، اور آل فرعون کو صبح وشام آگ پر پیش کیا جاتا ہے پس وہ شدید پیاسے اونٹوں کی مثل آتے ہیں وہ پتھروں اور درختوں سے ٹکراتے ہیں نہ وہ کچھ سنتے ہیں اور نہ عقل رکھتے ہیں پس جب ان بڑے پیٹوں والوں نے انہیں محسوس کیا تو وہ کھڑے ہوئے اور ان کے پیٹ ان پر غالب آگئے اور وہ گرنے لگے پھر ان میں سے کوئی کھڑا ہوتا تو وہ اس کا پیٹ اس پر بھاری ہوجاتا اور وہ گڑ پڑتا، پس وہ واضح استطاعت اور قدرت نہ رکھتے تھے، یہاں تک کہ آل فرعون نے انہیں ڈھانپ لیا اور وہ انہیں آتے جاتے ہوئے روندنے لگے، پس دنیا اور آخرت نہ رکھتے تھے، یہاں تک کہ آل فرعون نے انہیں ڈھانپ لیا اور وہ انہیں آتے جاتے ہوئے روندنے لگے، پس دنیا اور آخرت کے درمیان برزخ میں یہی ان کا عذاب ہے، اور آل فرعون کہتے ہیں اے اللہ ! کبھی قیامت قائم نہ کر، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” ویوم تقوم الساعۃ، ادخلوا ال فرعون اشدالعذاب “۔ (الغافر)

ترجمہ : اور جس روز قیامت قائم ہوگی (حکم ہوگا) داخل کر دو فرعونیوں کو سخت تر عذاب میں۔
میں نے پوچھا اے جبریل یہ کون لوگ ہیں ؟ تو اس نے کہا : ” یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہوں گے مگر جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر پاگل بنا دیا ہو “ اور مس سے مراد مجنون ہے اور اسی سے اولق، المس اور الرود کے الفاظ بھی اسی معنی میں ہیں۔
مسئلہ نمبر : (١٣) قولہ تعالیٰ ؛ (آیت) ” ذلک بانھم قالوا انما البیع مثل الربوا “۔ تمام متاولین کے نزدیک اس کا معنی ہے کہ یہ کفار کے بارے میں ہے اور ان کو کہا گیا ہے : (آیت) ” فلہ ماسلف “۔ (تو جائز ہے اس کے لئے جو گزر چکا ہے) اور کسی گنہگار مومن کو یہ نہیں کہا جاتا، بلکہ اس کی بیع ٹوٹ جاتی ہے اور اس کا فعل رد کردیا جاتا ہے اگرچہ وہ ناواقف ہو، سو اسی لئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھورد ‘ (جس نے کوئی ایسا کام کیا جس کے بارے ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ کام مردود ہے) لیکن نافرمان اور معصیت کا ارتکاب کرنے والے اس آیت کی وعید سے ایک طرف ہو کر سود لیتے ہیں۔
مسئلہ نمبر : (١٤) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” انما البیع مثل الربوا “ اور عربوں میں صرف یہی ربا معروف تھا، پس جب ان کے قرض کی ادائیگی کا وقت آپہنچتا تو وہ مقروض کو کہتے : کیا پورا دا کرے گا یا اسے بڑھائے گا، یعنی قرض میں اضافہ کرے گا پس اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے اور اپنے اس قول حق کے ساتھ ان کے قول کو رد کردیا ہے : (آیت) ” واحل اللہ البیع وحرم الربوا “۔ اور واضح کردیا ہے جب مدت گزر جائے اور اس کے پاس ادائیگی کے لئے کچھ نہ ہو تو اسے آسانی اور خوشحالی آنے تک مہلت دی جائے اور یہی وہ ربا ہے جسے حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نویں ذی الحجہ کے دن اپنے قول کے ساتھ منسوخ کردیا۔ جب آپ نے فرمایا : ” خبردار “ سنو بلاشبہ تمام سود ختم کردیا گیا ہے اور وہ پہلا سود جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) کا سود ہے وہ سارے کا سارا ختم کردیا گیا ہے ، “ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چچا سے اور لوگوں میں سے خاص ترین آدمی سے اس کا آغاذ کیا اور یہی امام وقت کے عدل کے طریقوں میں سے ہے کہ وہ عدل کو اپنی ذات پر اور اپنے خواص پر نافذ کرتا ہے اور پھر وہ تمام لوگوں میں پھیل جاتا ہے۔
مسئلہ نمبر : (١٥) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واحل اللہ البیع وحرم الربوا “۔ یہ قرآن کریم کے عمومات میں سے ہے، اور اس پر الف لام جنس کیلئے ہے، عہد کے لئے نہیں ہے، کیونکہ اس سے پہلے بیع کا ذکر نہیں ہوا جس کی طرف رجوع کیا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :

(آیت) ” والعصر، ان الانسان لفی خسر “ ‘۔

ترجمہ : قسم ہے زمانے کی بیشک انسان خسارے میں ہے۔
پھر استثنی فرمائی :

(آیت) ” ان الذین امنوا وعملوالصلحت “۔

ترجمہ : سوائے انکے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے۔
(اس میں الانسان پر الف لام جنسی ہے) اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ بیع عام ہے تو پھر اسے اس کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے جس ربا وغیرہ کا ذکر ہم نے کردیا ہے کہ اس سے منع کردیا گیا ہے اور ان کا عقد کرنے سے روکا گیا ہے، جیسا کہ خمر، مردار اور کسی حاملہ جانور کا حمل وغیرہ ذالک اور اس بارے میں یہی سنت ہے اور اجماع امت سے ثابت ہے اور اس کی نظیر یہ بھی ہے : (آیت) ’ اقتلوا المشرکین “۔ اور وہ تمام کے تمام ظواہر جو عمومات کا تقاضا کرتے ہیں اور ان میں تخصیص داخل ہوسکتی ہے اور یہ اکثر فقہاء کا مذہب ہے۔
اور بعض نے کہا ہے یہ قرآن کریم کی وہ مجمل آیت ہے جس کی تفسیر بیع کی اس قسم کے ساتھ کی گئی ہے جو حلال کی گئی ہے اور اس کے ساتھ جو حرام کی گئی ہے اور یہ ممکن نہیں ہے یہ اسے بیع کو حلال کرنے اور اسے حرام کرنے کے بارے میں استعمال کیا جائے مگر تب جب اس کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں سے کوئی بیان مقترن ہو، اگرچہ یہ تفصیل کے بغیر فی الجملہ بیوع کی اباحت پر دال ہے اور یہ عموم اور مجمل کے درمیان فرق ہے، پاس عموم فی الجملہ اور تفصیل کے ساتھ بیوع کی اباحت پر دلالت کرتا ہے جب تک وہ کسی دلیل کے ساتھ مخصوص نہ ہو، اور مجمل ان کی اباحت پر تفصیل سے دلالت نہیں کرتا یہاں تک کہ اس کے ساتھ بیان مقترن ہو، اور پہلا زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (١٦) البیع لغت میں مصدر ہے باع کذا بکذا، یعنی اس نے عوض دیا اور مغوض لیا، اور یہ بائع (بیچنے والا) کا تقاضا کرتی ہے اور وہ مالک ہوتا ہے یا اس کا نائب ہوتا ہے اور بیع مشتری (خریدار) کا تقاضا کرتی ہے اور یہ وہ ہے جو ثمن ادا کرتا ہے، اور مبیع کا تقاضا کرتا ہے، اور مبیع وہ شے ہوتی ہے جس کے ثمن لگائے جائیں یعنی جس کے مقابلے میں ثمن دیئے جاتے ہیں، اور اس بنا پر بیع کے چار ارکان ہوئے، بائع (بیچنے والا) مشتری (خریدار) ثمن (قیمت) اور مثمن (مبیع وہ شے جو بیچی جارہی ہو) پھر عربوں کے نزدیک معاوضہ اپنے مضاف الیہ کے اختلاف کے سبب مختلف ہوتا رہتا ہے، پس اگر معاوضہ رقبہ یعنی ذات کے مقابلہ میں ہو تو اسے بیع کا نام دیا گیا ہے اور اگر رقبہ کی منفعت کے مقابلہ میں ہو تو اگر وہ منفعت بضع ہو تو اسے نکاح کا نام دیا گیا ہے اور اگر اسے کے سوا کسی اور منفعت کے مقابلہ میں ہو تو اس کے نام اجارہ ہے اور عین (دراہم ودنانیر) کی بیع عین کے عوض ہو تو وہ بیع النقد ہے اور وہی بیع الصرف ہے اور اگر بیع دین موجل کے ساتھ ہو تو وہ بیع سلم ہے۔
اس کا بیان آگے آیۃ الدین میں آئے گا، اور بیع الصرف کا حکم گزر چکا ہے اور اجارہ کا حکم سورة القصص میں آئے گا اور نکاح میں مہر کا حکم سورة النساء میں آئے گا ہر ایک کا ذکر اپنے اپنے محل میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر : (١٧) بیع قبول اور ایجاب (کانام) ہے یہ مستقبل اور ماضی کے الفاظ کے ساتھ منعقد ہوتی ہے، اس میں ماضی حقیقتہ ہوتی ہے اور مستقبل کنایۃ ہوتا ہے اور یہ ایسے لفظ صریح اور کنایہ سے واقع ہوجاتی ہے جس سے ملکیت کا منتقل ہونا سمجھا جائے، چاہے وہ یہ کہے : بعتک ھذہ السلعۃ بعشرۃ میں نے تجھے یہ سامان دس کے عوض بیچا اور خریدنے والا کہے : اشتری تھا۔ میں نے اسے خریدلیا، یا خریدنے والا پہلے کہے : اشتری تھا میں نے اسے خرید لیا اور پھر بیچنے والا کہے : بعتکھا میں نے اسے تجھے بیث دیا یا بائع کہے : میں تجھے دس کے عوض بیچوں کا اور پھر مشتری کہے، میں خرید لوں گا یا میں نے خرید لیا۔ اور اسی طرح ہے اگر وہ کہے تو اسے دن کے عوض لے لے یا میں نے تجھے یہ دے دیا تو اسے لے لے یا تجھے اس میں برکت دی جائے دس کے عوض یا میں نے اسے تیرے حوالے کردیا اور وہ دونوں بیع کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان تمام الفاظ کے ساتھ بیع لازم ہوجائے گی، اور اگر بائع نے کہا : میں نے تجھے دس کے عوض بیچ دی پھر وہ مشتری کے قبول کرنے سے پہلے رجوع کرلے تو امام مالک (رح) نے کہا ہے : اس کے لئے رجوع کرنا جائز نہیں ہے یہاں تک کہ وہ مشتری کے قبول یا اس کے رد کو سن لے، کیونکہ اس نے اپنی جانب سے اسے دے دیا ہے اور اسے اس پر ثابت کردیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس کے لئے جائز ہے کیونکہ ابھی اس پر عقد مکمل نہیں ہوا۔
اور اگر بائع کہے : میں نے تو مذاق کیا تھا تو اس بارے میں روایت مختلف ہے، پس آپ نے ایک بار کہا : بیع لازم ہوجائے گی اور اس کے قول کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی، اور ایک بار فرمایا : سامان کی قیمت کی طرف دیکھا جائے گا، پس اگر ثمن اس کی قیمت سے موافقت رکھتے ہوں تو بیع لازم ہوگی اور اگر متفاوت ہوں جیسے کہ غلام ایک درہم کے عوض اور گھر ایک دینار کے بدلے تو اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ اس نے اس سے بیع کا ارادہ نہیں کیا، بلاشبہ وہ مذاق کرنے والا نتیجتا بیع لازم نہیں ہوئی۔
مسئلہ نمبر : (١٨) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وحرم الربوا “۔ یہاں الف لام عہدی ہے اور اس سے مراد وہی ربا ہے جس کا کاروبار عرب کرتے تھے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا ہے، پھر یہ شامل ہوگا اسے جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام کیا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے ایسی بیع سے منع کیا گیا ہے جس میں ربا داخل ہو سکتا ہے اور جو بھی اس کے معنی میں بیوع ہیں ان سے منع کردیا گیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (١٩) عقد ربا کو فسخ کردیا گیا ہے وہ کسی حال میں بھی جائز نہیں ہوسکتا، جیسا کہ ائمہ نے اسے روایت کیا ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں، حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ حضرت بلال (رض) سرخ کھجوریں لے کر آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں فرمایا : ” یہ کہاں سے لائے ہو ؟ “ حضرت بلال (رض) نے عرض کی : ہمارے پاس کچھ ردی کھجوریں تھیں تو میں نے ان میں سے دو صاع ایک صاع کے عوض بیچ دیں حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھانے کے لئے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت فرمایا : ” اوہ ! یہی تو عین ربا ہے تو اس طرح نہ کر، البتہ جب تو کھجوریں بیچنے کا ارادہ کرے تو تو پہلے ایک بیع کے ساتھ انہیں بیچ دے پھر ان (کے ثمن) کے عوض وہ خریدلے۔ “ اور ایک روایت میں ہے۔ ” یہ ربا ہے پس تم اسے لوٹا دو پھر تم ہماری کھجوریں بیچو اور ان کے (ثمن کے) عوض ہمارے لئے کھجوریں خریدلو۔ “ (١) (صحیح بخاری، کتاب الوکالۃ، حدیث نمبر ٢١٤٥، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ہمارے علماء نے کہا ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نا یہ ارشاد : وہ عین الربا سے مراد وہ ربا ہے جو فی نفسہ حرام ہے نہ کہ وہ جو اس سے مشابہت رکھتا ہے اور آپ کے قول : فردوہ عقد ربا کو فسخ کرنے کے واجب ہونے پر دلالت کرتا ہے اور یہ بیع کسی اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہو سکتی اور یہی جمہور کا قول ہے، بخلاف امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے کہ وہ فرماتے ہیں : بلاشبہ ربا کی بیع اپنے اصل کے اعتبار سے جائز ہے اس حیثیت سے کہ وہ بیع ہے اور اپنے وصف کے اعتبار سے ممنوع ہے اس اعتبار سے کہ وہ ربا ہے، پس ربا ساقط ہوجائے گا اور بیع صحیح ہوجائے گی اور اگر اس طرح ہوتا جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے تو حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس عقد کو فسخ نہ کرتے اور آپ ایک صاع پر جو زیادتی تھی اسے واپس لوٹانے کا حکم ارشاد فرماتے، اور یقینا ایک صاع کے مقابلہ میں صفقہ کو صحیح قرار دیتے۔
مسئلہ نمبر : (٢٠) ہر وہ عقد جو واضح طور پر حرام ہو اور اسے فسخ کردیا جائے تو مشتری پر سامان بعینہ واپس لوٹانا واجب ہے اور اگر مشتری کے ہاتھ سے وہ ضائع ہوگیا تو وہ اس سامان میں قیمت لوٹائے گا جس کی قیمت ہو اور وہ یہ ہیں مثلا زمین سامان اور حیوان وغیرہ، اور جن کی مثل موجود ہو اس کی مثل واپس لوٹائے گا وزنی چیزوں میں سے ہو یا کیلی چیزوں میں سے طعام ہو یا غرض (سامان) ہو۔
امام مالک (رح) نے کہا ہے : جس کا حرام ہونا بین ہو وہ واپس لوٹایا جائے گا چاہے وہ ضائع ہو یا نہ ہو، اور وہ جو اس میں سے ہو جسے لوگوں نے مکروہ جانا ہو تو اسے رد کر کردیا جائے مگر یہ سامان ضائع ہوجائے تو پھر اسے چھوڑ دیا جائے، (یعنی رد نہ کیا جائے۔ )
مسئلہ نمبر : (٢١) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فمن جآءہ موعظۃ من ربہ “ حضرت امام جعفر بن محمد صادق رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے اللہ تعالیٰ نے سود حرام کردیا ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کو قرض دیں اور حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دو بار قرض دینا ایک بار صدقہ دینے کے مساوی ہوتا ہے۔ “ اسے بزار نے نقل کیا ہے اور اس کا مکمل معنی پہلے گزر چکا ہے۔
اور بعض لوگوں نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے کیونکہ یہ مالوں کے لئے باعث ضیاع اور لوگوں کے لئے باعث ہلاکت ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” فمن جآء ہ “ میں فعل کے آخر سے علامت تانیث ساقط ہے کیونکہ الموعظۃ مونث غیر حقیقی ہے اور یہ بمعنی وعظ ہے اور حسن نے علامت تانیث کو ثابت رکھتے ہوئے (آیت) ” فمن جائتہ پڑھا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کو جب حضرت زید بن ارقم (رض) کے فعل کی خبر دی گئی تو آپ نے یہ آیت پڑھی۔ دارقطنی نے عالیہ بنت انفع سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا کہ میں اور ام محبہ مکہ کی طرف نکلیں اور ہم حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے پاس داخل ہوئیں اور آپ پر سلام عرض کیا تو آپ نے ہم سے پوچھا تم کن میں سے ہو ؟ ہم نے عرض کی۔ ہم اہل کوفہ میں سے ہیں، اس نے کہا گویا آپ نے ہم سے اعراض کرلیا، پھر ام محبہ نے آپ سے عرض کی : اے ام المومنین ! میری ایک کنیز تھی اور میں نے اسے حضرت زید بن ارقم انصاری (رض) کو آٹھ سو درہم کے عوض انہیں عطیہ ملنے تک فروخت کردیا، اور پھر انہوں نے اسے بیچنے کا ارادہ کیا تو میں نے ان سے اسے نقد چھ سو درہم کے عوض خرید لیا ہے، وہ کہتی ہیں، پس آپ (رض) ہماری طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا : تیری خرید بہت بری ہے اور وہ بھی جو تو نے خریدی ہے۔ اور زید (رض) کو یہ پیغام پہنچا دے کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں کئے جانے والے اپنے جہاد کو باطل کردیا ہے مگر یہ کہ وہ توبہ کرلے۔
پھر اس نے آپ سے عرض کی : آپ کی کیا رائے ہے اگر میں ان سے اپنے راس المال کے سوا اور کچھ نہ لوں ؟ تب آپ نے کہا۔

(آیت) ” فمن جآءہ موعظۃ من ربہ فانتھی فلہ ماسلف “۔

ترجمہ : پس جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور وہ (سود سے) رک گیا تو اس کے لئے جائز ہے جو گزر چکا ہے۔
عالیہ ابو اسحاق ہمدانی کو فی السبیعی کی بیوی اور یونس بن ابی اسحاق کی ماں ہے۔ اور یہ حدیث امام مالک (رح) نے بیوع الآجال کے بیان میں نقل کی ہے جو آپ سے ابن وہب نے روایت کی ہے۔
پس اگر بیوع میں ایسی شے ہو جو ممنوع میں پڑنے تک پہنچاتی ہو تو آپ (امام مالک رحمۃ اللہ علیہ) نے اس بیع سے منع کیا ہے اگرچہ ظاہرا وہ جائز ہو، اور جمہور فقہاء نے اس اصل (بنیاد) میں امام مالک (رح) سے اختلاف کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے : احکام کا دارومدار ظاہر پر ہے نہ کہ ظنون پر، اور ہماری دلیل سد ذرائع کے بارے قول ہے۔ پس اگر اسے تسلیم کرلیا جائے (توفبہا) ورنہ ہم نے اس کی صحت پر استدلال بیان کیا ہے اور وہ گزر چکا ہے اور یہ حدیث نص ہے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) یہ نہ فرماتیں : ابلغی زیدا انہ قد ابطل جھادہ الاان یتوب “ یہ ارشاد توقیفی ہے، کیونکہ فقط رائے سے ایسا قول نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اعمال کو باطل کرنے کی معرفت بغیر وحی کے حاصل نہیں ہو سکتی، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، اور صحیح مسلم (١) (صحیح بخاری، باب فضل من استبرالدینہ، حدیث نمبر ٥٠، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) میں حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بیشک حلال واضح اور بین ہے اور حرام بھی واضح اور بین ہے اور ان دونوں کے درمیان امور مشتبہات ہیں، لوگوں میں سے بہت سے انہیں نہیں جانتے پس جو کوئی شبہات سے بچتا رہا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کرلیا اور جو کوئی شبہات میں پڑگیا تو وہ حرام میں واقع ہوگیا، اس چرنے والے کی طرح جو چراگاہ کے اردگرد چرتا ہے، قریب ہے کہ وہ اس میں واقع (داخل) ہوجائے، خبردار ! سنو بلاشبہ ہر مالک کے لئے ایک چراگاہ ہے، خبردار ! سنو اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں “۔
اور وجہ دلالت یہ ہے کہ آپ نے محرمات میں واقع ہونے کے خوف سے متشا بھات میں پڑھنے سے منع کیا ہے۔ اور یہی ذریعہ کو بند کرنا اور ختم کرنا ہے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک کبائر میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالیاں دے۔ “ صحابہ نے عرض کی : آدمی اپنے والدین کو گالیاں کیسے دے سکتا ہے ؟ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” وہ دوسرے آدمی کے باپ کو گالیاں دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالیاں دیتا ہے اور وہ اس کی ماں کا گالیاں دیتا ہے اور وہ اس کی ماں کو گالیاں دیتا ہے۔ (٭) (مسندا امام احمد، حدیث نمبر ٦٥٢٩ ) ‘ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تعریضا کسی کے والدین کو گالیاں دینے کو اپنے والدین کو گالیاں دینے کی طرح قرار دیا ہے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود پر لعنت فرمائی جب انہوں نے ان (چیزوں کے ثمن کھائے جن) کے کھانے سے انہیں منع کیا گیا تھا (١) صحیح بخاری، باب لایجمع بین متفرق ولا یفرق بین مجتمع، حدیث نمبر ١٣٥٨، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور ابوبکر نے اپنی کتاب میں کہا ہے : صدقہ کے خوف سے متفرق اشیاء کو جمع نہیں کیا جمع نہیں کیا جائے گا اور مجتمع کو متقرق نہیں کیا جائے گا۔ اور حضرت ابن عباس (رض) نے دراہم کی بیع دراہم کے ساتھ کرنے سے منع کیا ہے جبکہ ان کے درمیان گناہ ہو۔ اور علماء نے بیع اور قرض کو جمع کرنے سے روکنے پر اتفاق کیا ہے اور اس پر شراب کی قلیل مقدار حرام ہے اگرچہ وہ نشہ نہ بھی لائے اور اس پر کہ اجنبیہ عورت سے خلوت اختیار کرنا حرام ہے اگرچہ وہ عنین ہو اور اس پر کہ نوجوان عورت کے چہرہ کی طرف دیکھنا حرام ہے، علاوہ ازیں بہت سی چیزیں ہیں اور ان کے بارے قطعی اور یقینی علم ہے کہ شریعت نے ان سے باز رہنے کا حکم دیا ہے، اس لئے کہ وہ محرمات تک پہنچنے کے ذرائع ہیں، اور ربا اس کا زیادہ حق رہتا ہے کہ اس کی چراگاہ کی حفاظت کی جائے اور اس کے راستوں کو بند کیا جائے۔
اور جنہوں نے ان اسباب کو مباح قرار دیا ہے تو انہیں چاہئے کہ مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہلاک کرنے کے لئے کنواں کھودنے اور پھندے گاڑنے کو بھی مباح قرار دیں، اور اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے اور یہ بھی کہ ہم نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ آدمی کو زیادہ قیمت کے ساتھ ادھار شے بیچنے کو منع کیا جائے گا، بشرطیکہ یہ معروف ہو اور اس کی عادت ہو، اور یہ اسی باب کے معنی میں ہے۔ واللہ الموفق للصواب۔
مسئلہ نمبر : (٢٢) ابو داؤد نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم زیادہ قیمت کے ساتھ ادھار چیزیں بیچنے لگو اور بیلوں کی دمیں پکڑنے لگو اور کھیتی پر ہی راضی ہوجاؤ اور جہاد چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ تم پر ایسا رعب اور خصلت مسلط کر دے گا وہ اسے تم سے دور نہیں کرے گا یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف واپس لوٹ آؤ (١) (سنن بیداؤ، باب فی النھی من العینۃ، حدیث نمبر ٣٠٠٣، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اس کی اسناد میں ابو عبدالرحمن خراسانی ہے وہ مشہور راوی نہیں ہے۔
ابو عبید ہر وی نے العینہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آدمی سامان ثمن معلوم کے عوض کسی آدمی کو ایک مقررہ مدت تک ادھار بیچ دے اور پھر اسے اس سے ان ثمنوں سے کم کے عوض خرید لے جتنے کے عوض اسے بیچا تھا، فرمایا : اگر کسی نے عینہ کے طالب کی موجودگی میں ایک سامان دوسرے آدمی سے ثمن معلوم کے عوض خریدا اور اس پر قبضہ کرلیا پھر اسے عینہ کے طالب کو اس سے زیادہ ثمن کے عوض مقررہ مدت تک ادھار بیچ دیا جتنے کے عوض اسے خریدا تھا پھر وہ مشتری پہلے بائع سے نقد اس سے کم ثمن کے ساتھ بیچ دے تو یہ بھی عینہ ہے اور یہ پہلے سے زیادہ آسان ہے اور یہ بعض کے نزدیک جائز ہے اور صاحب عینہ کے پاس نقد موجود ہونے کی وجہ سے اسے عینہ کا نام دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ العین سے مراد مال حاضر ہے اور مشتری بلاشبہ اسے خرید رہا ہے تاکہ وہ اسے حاضر مال کے عوض بیچے جو اسے جلدی مل جائے گا۔
مسئلہ نمبر : (٢٣) ہمارے علمائے نے کہا ہے : جس نے کچھ سامان ایک خاص مدت تک ثمن کے عوض فروخت کیا پھر اسے خرید لیا ایسے ثمن کے عوض جو اس ثمن کی جنس میں سے تھے جن کے عوض اسے بیچا تھا تو وہ اس سے خالی نہیں ہے کہ وہ اسے نقد ثمن کے عوض خریدے گا یا اتنی مدت تک ادھار جو اس مدت سے کم تھی جس تک اس نے اسے بیچا تھا یا اس تک جو اس مدت سے زیادہ تھی، ثمن مثلی کے عوج یا اس سے کم کے عوض یا اس سے زیادہ کے عوض، پس یہ تین مسائل ہیں، جہاں تک پہلے اور دوسرے کا تعلق ہے تو اگر وہ مثل ثمن یا اکثر ثمن کے عوض خریدے تو یہ جائز ہے اور کم ثمن کے عوض ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی حدیث کے مقتضاء کے مطابق جائز نہ ہوگا، کیونکہ اس نے چھ سو دیئے ہیں تاکہ وہ آٹھ سو لے لے اور سامان لغو ہوگیا، اور یہ ہی خالص ربا ہے، اور رہا تیسرا مسئلہ کہ وہ اس سے زیادہ مدت تک ادھار لے لے، پس اگر اس نے صرف اسے ہی خریدا یا کچھ اور بھی، تو مثل ثمن یا اقل ثمن کے ساتھ یہ جائز ہوگی، البتہ زیادہ ثمن کے عوض جائز نہ ہوگی، اور اگر اس نے اس میں سے بعض حصہ خرید لیا تو پھر کسی حال پر بھی یہ خرید جائز نہ ہوگی نہ مثل ثمن کے ساتھ نہ اقل کے ساتھ اور نہ ہی اکثر کے ساتھ، اس باب کے مسائل کو ہمارے علماء نے ستائیس مسائل میں محصور کیا ہے اور ان کا دارومدار اسی پر ہے جو ہم نے ذکر کردیا ہے، پس تو جان لے۔
مسئلہ نمبر : (٢٤) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فلہ ما سلف “۔ یعنی سود کے معاملہ میں سے جو گزر چکا ہے اس پر نہ دنیا میں کوئی مواخذہ ہوگا اور نہ آخرت میں، سدی وغیرہ نے یہی کہا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے لئے حکم ہے جس نے کفار قریش میں سے اسلام قبول کیا اور بنی ثقیف اور ان میں سے جو وہاں تجارت کرتے تھے (ان میں سے جس نے اسلام قبول کیا) اور سلف کا معنی ہے وہ زمانہ جو پہلے گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (٢٥) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وامرہ الی اللہ “ اس میں چار تاویلات ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ضمیر ربا کی طرف لوٹ رہی ہے، معنی یہ ہے کہ سود کا معاملہ اس کی یا دوسری چیزوں کی تحریم کو جاری رکھنے میں اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ اور دوسری یہ کہ ضمیر ماسلف کی طرف لوٹ رہی ہو یعنی جو کچھ گزر چکا ہے اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے اسے معاف کرنے کے بارے میں اور اس میں تاوان اور سزا کو ساقط کرنے کے بارے میں، اور تیسری یہ ہے کہ ضمیر سود لینے والے (ذی الربا) کی طرف لوٹ رہی ہے، اس معنی میں کہ اس کا معاملہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے کہ وہ اسے اس سے رکنے پر ثابت قدم رکھے یا اسے دوبارہ ربا میں گناہ کی طرف لوٹا دے۔
اس قول کو نحاس نے اختیار کیا ہے اور کہا ہے : یہ قول اچھا اور واضح ہے، یعنی مستقبل میں اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے اگر وہ چاہے تو اسے تحریم پر ثابت رکھے اور اگر چاہے تو اسے مباح قرار دے، اور چوتھی تاویل یہ ہے کہ ضمیر رکنے والے اور باز رہنے والے کی طرف لوٹ رہی ہو لیکن اسے مانوس کرنے اور خیر اور بھلائی میں اس کی آرزو اور امید پھیلانے کے معنی میں، جیسا کہ تو کہتا ہے : اس کا معاملہ اطاعت اور خیر کے سپرد ہے اور جیسا کہ تو کہتا ہے : اس کا معاملہ نمو اور توجہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت کے سپرد ہے۔
مسئلہ نمبر : (٢٦) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومن عاد “ یعنی جو فعل ربا کی طرف لوٹ آیا (یعنی دوبارہ سود کھانے لگا) یہاں تک کہ وہ مرگیا، حضرت سفیان نے یہ کہا ہے۔ اور ان کے سوا دوسروں نے کہا : جو لوٹا اور اس نے کہا بیشک بیع ربا کی مثل ہے تو وہ کافر ہوگیا، ابن عطیہ نے کہا ہے اگر ہم کہیں کہ یہ آیت کافر کے بارے میں ہے تو پھر خلود سے مراد حقیقی طور پر ہمیشہ رہنا ہے۔ اور اگر ہم کہیں کہ یہ آیت کافر کے بارے میں ہے تو پھر خلود سے مراد حقیقی طور پر ہمیشہ رہنا ہے اور اگر ہم اسے گنہگار مسلمان کے بارے قرار دیں تو پھر خلود کا لفظ مجازا مبالغہ کے معنی میں ہوگا، جیسا کہ عرب کہتے ہیں : ملک خالد یہ ایسے دوام سے عبارت ہے جو حقیقی طور پر ہمیشہ باقی نہیں رہے گا۔
مسئلہ نمبر : (٢٧) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یمحق اللہ الربوا “۔ یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ سود کو مٹا دے گا یعنی اس کی نمو ختم ہوجائے گی اگرچہ وہ زیادہ ہی ہو، حضرت ابن مسعود (رض) نے حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ان الربا وان کثر فعاقبتہ الی قل (بلاشبہ سود اگرچہ بہت زیادہ ہو اس کا انجام قلیل ہی ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : یمحق اللہ الربا “۔ یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ سود کو مٹا دے گا، اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” یمحق اللہ الربوا “ کے بارے میں حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس سے کوئی صدقہ، حج، جہاد، اور صلہ رحمی قبول نہیں کرے گا۔
المحق کا معنی النقص والذھاب، کم ہونا یا گھٹانا اور ختم ہونا ہے اور اسی سے محاق القمر یعنی چاند کا گھٹنا بھی ہے۔ (آیت) ” ویربی الصدقت “ یعنی وہ دنیا میں خیرات کو برکت کے ساتھ بڑھاتا ہے اور آخرت میں ان کا ثواب کئی گنا کرکے بڑھا دے گا اور صحیح مسلم میں ہے : ” بیشک تم میں سے کسی کا صدقہ اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہوتا ہے اور وہ اسے اس کے لئے بتدریج بڑھاتا رہتا ہے جس طرح میں سے کوئی گھوڑی اور گائے کے بچوں کی نشوونما کرتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے گا اور بیشک ایک لقمہ احد پہاڑ کی مثل ہوجائے گا۔ “ (١) (جامع ترمذی، باب ما جاء فی فضل الصدقۃ، حدیث نمبر ٥٩٨، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، حدیث نمبر ١٣٢١، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
ابن زبیر نے یمحق یا کے ضمہ کے کسرہ کو مشدد اور یربی کو فتحہ کے ساتھ اور باء کو مشدد پڑھا ہے اور حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح مروی ہے۔
مسئلہ نمبر : (٢٨) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واللہ لا یحب کل کفار اثیم “۔ اس میں کفار کی صفت اثیم مبالغہ کے لئے لگائی گئی ہے، اس حیثیت سے کہ دونوں مختلف ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کفار میں اشتراک کے معنی کو زائل کرنے کے لئے یہ صفت لگائی گئی ہے کیونکہ کبھی اس کا اطلاق اس کسان پر بھی ہوتا ہے جو زمین میں دانا چھپاتا ہے۔ (یعنی کاشت کرتا ہے) ابن فورک نے کہا ہے۔
اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت واقاموالصلوۃ واتوا الزکوۃ “ کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے، اور نماز اور زکوۃ کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا ہے حالانکہ (آیت) ” عملوا الصلحت “ انہیں متضمن اور شامل ہے تو یہ ان دونوں کے شرف و عظمت اور ان کی قدرومنزلت پر آگاہ کرنے کے لئے ہے کیونکہ یہ دونوں اعمال کی اصل ہیں، نماز بدنی اعمال کی اصل ہے اور زکوۃ مالی اعمال کی اصل ہے۔
مسئلہ نمبر : (٢٩) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا مابقی من الربوا ان کنتم مؤمنین “۔ ظاہر یہ ہے کہ وہ اس سود کو باطل کر دے جس پر قبضہ نہیں ہوا ہے، اگرچہ آیت تحریم کے نازل ہونے سے پہلے اس کا عقد ہوچکا ہو، اور جب اس پر قبضہ ہوچکا ہو تو پھر اس کے فسخ کے پیچھے نہ پڑے۔
تحقیق کہا گیا ہے کہ یہ آیت بنی ثقیف کے سبب نازل ہوئی، انہوں نے حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس پر معاہدہ کیا تھا کہ انکے سود کا مال جو لوگوں پر ہے تو وہ انہیں کے لئے ہے اور جو لوگوں کا ان پر ہے تو وہ ان سے ختم کردیا گیا ہے، پھر جب ان کے سود کی مقررہ مدتیں آپہنچیں تو انہوں نے اہل مکہ کی طرف تقاضا کے لئے (پیغام) بھیجا، قرضے بنی عبدہ کے تھے اور وہ بنو عمرو بن عمیر ثقیف میں سے تھے اور یہ بنی مغیرہ مخزومیوں پر تھے، اور بنو مغیرہ نے کہا : ہم کوئی شے نہیں دیں گے کیونکہ ربا ختم کردیا گیا ہے، اور انہوں نے اپنا معاملہ حضرت عتاب بن اسید (رض) کے سامنے پیش کیا اور انہوں نے یہ معاملہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لکھا، اور یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حضرت عتاب (رض) کی طرف لکھ بھیجا اور ثقیف نے بھی اس کے بارے جان لیا اور وہ (سود کا مطالبہ کرنے) سے رک گئے، یہی آیت کا سبب نزول ہے اور یہ اس مجموعے کا اختصار ہے جو ابن اسحاق، ابن جریج اور سیدی وغیرہم نے روایت کیا ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ تم اپنے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے درمیان کوئی آڑ اور رکاوٹ بنا لو اپنے ما بقی ربا کو چھوڑ کر اور اس سے درگزر کرکے۔
مسئلہ نمبر : (٣٠) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان کنتم مؤمنین “۔ یہ اس بنا پر ثقیف کے حق میں شرط محض ہے کیونکہ یہ حکم ان کے اسلام میں داخل ہوتے ہی پہلے پہل نازل ہوا اور جب ہم آیت کو ان کے بارے میں مقدر قرار دیں جن کا ایمان پختہ ہوچکا تھا تو پھر یہ مبالغہ کی جہت پر شرط مجازی ہے جیسا کہ تو اس کے بارے میں کہتا ہے جس کی ذات کو تو ابھارنے کا ارادہ رکھتا ہو۔
اگر تو مرد ہے تو تو اس طرح کر “۔ اور نقاش نے مقاتل بن سلیمان سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ اس آیت میں ان بمعنی اذ ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ مردود ہے اور لغت میں معروف نہیں ہے، اور ابن فورک نے کہا ہے : یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ سے مراد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “ سے پہلے دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ایمان لانا ہو اور (آیت) ” ذروا ما بقی من الربوا ان کنتم مؤمنین “ میں حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایمان لانا مراد ہو، کیونکہ اس کے بغیر پہلا ایمان نفع نہیں دے گا اور یہ اس کے سبب مردو ہے جو آیت کے سبب نزول میں بیان کیا گیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (٣١) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ “۔ یہ وعید ہے اگر انہوں نے سود نہ چھوڑا اور جنگ قتل کی دعوت دیتی ہے اور حضرت ابن عباس (رض) نے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن سود کھانے والے کو کہا جائے گا : جنگ کے لئے اپنے ہتھیار لے لے، اور حضرت ابن عباس (رض) نے یہ بھی کہا ہے : جو کوئی سود پر قائم رہے اور اس سے باز نہ آئے تو مسلمانوں کے امام پر لازم ہے کہ وہ اس سے سود کا مال واپس لے لے پس اگر وہ باز آجائے۔ (تو فبہا) اور نہ وہ اسے قتل کر دے۔
اور حضرت قتادہ (رض) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے سود لینے والوں کو قتل کی دھمکی دی ہے اور انہیں مباح قرار دیا ہے جہاں بھی وہ پکڑے جائیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہے : اگر تم باز نہ آئے تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنگ کرنے والے ہو یعنی تم ان کے دشمن ہو۔
ابن خویز منداد نے کہا ہے : اگر کسی شہر والوں نے سود پر اسے حلال سمجھتے ہوئے صلح کرلی تو وہ مرتد ہوگئے اور انکے بارے میں حکم مرتدین کے حکم کی طرح ہوگا۔ اور اگر وہ اسے حلال نہ سمجھیں تو امام وقت کے لئے ان سے جنگ لڑنا جائز ہے۔ کیا آپ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اعلان فرمایا ہے

(آیت) ” فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ “۔

ترجمہ پھر وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جانب سے اعلان جنگ سن لیں۔
اور ابوبکر نے حضرت عاصم (رح) سے ” وازنوا “ پڑھا ہے، اس معنی کی بنیاد پر کہ تم اپنے سوا کو بتا دو کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے حالت جنگ میں ہو۔
مسئلہ نمبر : (٣٢) ابن بکیر نے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی حضرت امام مالک بن انس (رض) کے پاس آیا اور کہا : اے ابا عبداللہ ! میں نے ایک آدمی کو نشہ کہ حالت میں دیکھا، وہ گالی گلوچ کر رہا تھا اور چاہتا تھا کہ وہ چاند کو پکڑ لے، سو میں نے کہا میری بیوی کو طلاق اگر ابن آدم (انسان) کے پیٹ میں شراب سے بڑھ کر کوئی بری شے داخل ہوتی ہو، تو آپ نے اسے فرمایا : تو واپس چلا جا یہاں تک کہ میں تیرے مسئلہ میں غور وفکر کرلوں، پھر وہ دوسرے دن آیا، تو آپ نے اسے پھر فرمایا : تو واپس لوٹ جا یہاں تک کہ میں تیرے مسئلہ میں غور وفکر کرلوں، وہ پھر تیسرے دن آیا تو آپ نے اسے فرمایا : تیری بیوی کو طلاق ہوچکی ہے میں نے کتاب اللہ اور حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں خوب چھان بین کی، گہری غور وفکر کی تو میں نے سود سے بڑھ کر کوئی بری شے نہ دیکھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں جنگ کا اعلان کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (٣٣) یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ سود کھانا اور اس کے مطابق کاروبار کرنا گناہ کبیرہ میں سے ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ہم اسے بیان کریں گے۔
حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” یاتی علی الناس زمان لایبقی احد الا اکل الربا ومن لم یا کل الربا اصابہ غبارہ “۔ (لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ کوئی باقی نہیں رہے گا مگر وہ سود کھائے گا اور جس نے نہ کھایا تو اس کا غبار اس تک پہنچ جائے گا)
اور دارقطنی نے حضرت عبداللہ ابن حنظلہ غسیل الملائکہ (رض) سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لدرھم ربا اشد عند اللہ تعالیٰ من ست وثلاثین زنیۃ فی الخطیئۃ “۔ (سود کا ایک درہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہ میں چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ شدید ہے)
اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” الربا تسعۃ وتسعون بابا ادناھا کا تیان الرجل بامہ (١) (ابن ماجہ، باب التغلیظ فی الرباء حدیث نمبر ٢٢٦٤، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (سود کے ننانوے دروازے ہیں اور ان میں سے ادنی آدمی کا اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنے کی مثل ہے) اور حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : سود کھانے والا، کھلانے والا، اسے لکھنے والا اور اس کی شہادت دینے والا سب پر حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے لعنت کی گئی ہے۔
اور امام بخاری نے ابو جحیفہ (رض) سے روایت کیا ہے (٢) (صحیح بخاری، باب ثمن الکلب، حدیث نمبر : ٢٠٨٤، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خون کے ثمن (قیمت) کتے کے ثمن اور بدکاری کی کمائی سے منع فرمایا ہے اور سود کھانے اور کھلانے والے پر (بال) گودنے اور گدوانے والی پر اور تصویر بنانے والے پر لعنت کی ہے۔ نھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عن ثمن الدم وثمن الکلب وکسب البغی ولعن اکل الربا ومؤکلہ والواشمۃ والمستوشمۃ والمصور “۔ (اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو اور ان میں سے ہے۔۔۔۔ واکل الربا اور سود کھانے والا،
اور مصنف ابی داؤد میں حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے (٣) ( جامع ترمذی، کتاب البیوع، حدیث نمبر ١١٢٧، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) انہوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اسے لکھنے والے اور اس پر شاہد بننے والے سبھی پر لعنت کی ہے۔
مسئلہ نمبر : (٣٤) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان تبتم فلکم رؤوس اموالکم “۔ الایۃ، ابو داؤد نے سلیمان بن عمرو سے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت بیان کی ہے (٤) (سنن ابی داؤد، باب فی وضع الرباء حدیث نمبر ٢٨٩٦، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ انہوں نے کہا : میں نے حجتہ الوداع میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” خبردار سنو بیشک دور جاہلت کے سودوں میں سے تمام سود ختم کردیئے گئے ہیں تمہارے لئے اصل مال ہوں گے نہ تم ظلم کرو اور نہ ہی تم پر ظلم کیا جائے گا ، ‘ اور آگے پوری حدیث بیان کی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کے ساتھ اپنے راس الاموال کی طرف لوٹا دیا اور انہیں فرمایا : سود لینے میں ” تم ظلم نہ کرو “ اور تم پر یہ ظلم نہیں کیا جائے گا “۔ کہ تمہارے رأس الاموال میں سے کوئی شے روک لی جائے اور تمہارے اموال ختم ہوجائیں۔
اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ تم پر ٹال مٹول کرکے ظلم نہیں کیا جائے گا، کیونکہ غنی کا ٹال مٹول کرنا بھی ظلم ہے (١) (صحیح بخاری، باب الحوالۃ، حدیث نمبر ٢١٢٥، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) پس معنی یہ ہوا کہ فیصلہ سود ختم کرنے کے ساتھی ہی ہوگا اور اسی طرح صلح کا طریقہ ہے اور یہی صلح کے زیادہ مشابہ شے ہے، کیا آپ جانتے نہیں کہ حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب کعب بن مالک کی طرف ابن ابی حدرد کے قرض میں نصف ختم کرنے کے بارے ارشارہ کیا اور کعب نے کہا : جی ہاں، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے کو فرمایا : ” اٹھ اور اسے ادا کر دے “ پس علماء نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امر بالقضاء کو مصالحات میں سنت کے طور پر لیا ہے، عنقریب سورة النساء میں صلح کا بیان آئے گا اور ان کا جن میں صلح جائز ہوتی ہے اور جن میں جائز نہیں ہوتی، انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر : (٣٥) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان تبتم فلکم رئوس اموالکم “۔ یہ تاکید ہے اس (ربا) کو باطل کرنے کی جس پر قبضہ نہیں کیا گیا اور اس رأس المال کو لینے کی جس میں سود نہیں، پس بعض علماء نے اس پر استدلال کیا ہے کہ ہر وہ شے جو بیع پر قبضہ کرنے سے پہلے ان چیزوں میں سے طاری ہو جو عقد کی تحریم کو ثابت کرتی ہیں تو وہ عقد کو باطل کر دے گی، جیسا کہ جب کوئی مسلمان شکار خریدے پھر مشتری یا بائع قبضہ سے پہلے اسے حرام کر دے تو بیع باطل ہوجائے گی، کیونکہ اس پر قبضہ سے پہلے وہ شے طاری ہوچکی ہے جس نے عقد کے حرام ہونے کو ثابت کردیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس (ربا) کو باطل قرار دیا ہے جس پر قبضہ نہیں ہوا، کیونکہ اس پر وہ طاری ہوچکی ہے جس نے قبضہ سے پہلے اس کی تحریم کو ثابت کردیا ہے اور اگر اس پر پہلے قبضہ کرلیا گیا ہو پھر اس پر کوئی اثر نہ پڑے گا، یہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے اور یہی امام شافعی (رح) کے اصحاب کا بھی قول ہے اور اس کے ساتھ اس پر استدلال کیا جاتا ہے کہ قبضہ سے پہلے بائع کے ہاتھ میں مبیع کا ہلاک ہوجانا اور مبیع میں قبضہ کا ساقط ہوجانا عقد کے باطل ہونے کو واجب کرتا ہے بخلاف بعض سلف کے اور یہ اختلاف امام احمد سے روایت کیا جاتا ہے،
اور اس کے قول کے مطابق جاری ہو سکتا ہے جو یہ کہتا ہے : بیشک ربا میں عقد فی الاصل منعقد ہوچکا تھا اور پھر وہ قبضہ سے پہلے طاری ہونے والے اسلام کے سبب باطل ہوگیا اور رہے وہ جنہوں نے اصل میں ربا کے انعقاد کا انکار کیا ہے تو (ان کے نزدیک) یہ کلام صحیح نہیں ہے وہ یہ کہ سود (تمام) ادیان میں حرام کردیا گیا ہے اور وہ جو دور جاہلیت میں اس کا کاروبار کرتے تھے تو وہ مشرکین کی عادت تھی اور ربا میں سے جس پر انہوں نے قبضہ کرلیا ہے وہ ان مالوں کے جمع ہونے کی جگہ میں ہے جو ان تک غصب اور سلب کے ذریعہ پہنچے ہیں تو اس پر کوئی تعرض نہ کیا جائے گا، پس اس بناء پر استشہاد صحیح نہیں ہوگا ان مسائل میں جو انہوں نے ذکر کئے ہیں اور ہم سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں کا ربا کی تحریم پر مشتمل ہونا مشہور ہے اور کتاب اللہ میں مذکور ہے، جیسا کہ اس قول باری تعالیٰ میں یہودیوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔

(آیت) ” واخذھم الربوا وقد نھوا عنہ “۔ (النساء : ١٦١)

ترجمہ : اور بوجہ ان کے سود لینے کے حالانکہ منع کئے گئے تھے اس سے۔
اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے قصہ میں مذکور ہے کہ ان کی قوم نے ان کا انکار کیا اور کہا :

(آیت) ” اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبدابآؤنا او ان نفعل فی اموالنا مانشؤا “۔ (ہود : ٨٧)

ترجمہ ؛ کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ ہم چھوڑ دیں انہیں جن کی عبادت کرتے ہو اہمارے دادا یا نہ تصرف کریں اپنے مالوں میں جیسے ہم چاہیں)
پس اس بنا پر اس سے استدلال درست نہ ہوگا، ہاں اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ عقود جو دارالحرب میں واقع ہوں جب امام وقت ان پر غالب آئے تو وہ فسخ کے احکام جاری نہیں کرے گا اگرچہ وہ عقود فاسدہ ہی ہوں۔
مسئلہ نمبر : (٣٦) ارباب ورع وزہد میں سے بعض غلو کرنے والوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حلال مال میں جب حرام مال اس طرح مل جائے کہ تمیز ممکن نہ رہے پھر وہ ملے جلے مال میں سے حرام مال کی مقدار مال نکال دے تو پھر بھی (مابقی مال) حلال اور پاک نہ ہوگا، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ جو مال نکالا گیا ہے وہ حلال ہو اور جو باقی ہے وہ حرام ہو، ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہ دین میں غلو ہے، کیونکہ ہر وہ مال جس میں تمیز کرنا (اور اسے علیحدہ علیحدہ کرنا) ممکن نہ رہے تو پھر اس سے مقصود اس کی مالیت ہوتی ہے نہ کہ اس کا عین، اور اگر مال ضائع ہوجائے تو پھر اس کی مثل مال اس کے قائم مقام ہوتا ہے، دونوں قسم کے مالوں کا مخلوط ہوجانا اس کی تمیز اور علیحدگی کے اعتبار سے اتلاف اور ضیاع ہی ہے جیسا کہ ہلاک کردینا اس کے عین (ذات) کے لئے اتلاف اور ضیاع ہے اور مثل ضائع ہونے والے مال کے قائم مقام ہوتی ہے اور یہ حسا اور معنی بین اور واضح ہے، واللہ اعلم۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : ہمارے علماء نے کہا ہے اموال حرام میں سے جو آدمی کے قبضہ میں ہو اگر وہ سود کا مال ہے تو اس سے توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے اس کے پاس واپس لوٹا دے جس پر سود لگایا تھا اور اگر وہ حاضر نہ ہو تو اسے تلاش کرے اور اگر اسے پانے سے مایوس ہوجائے تو پھر چاہیے کہ وہ اسے صدقہ کر دے اور اگر اس نے وہ مال ظلما لیا ہو تو جس کے ساتھ اس نے ظلم کیا ہے اس کے ساتھ بھی اسے اسی طرح معاملہ کرنا چاہئے اور اگر اس پر معاملہ مشتبہ ہوجائے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ جو مال اس کے قبضے میں ہے اس حلال میں سے حرام کتنا ہے تو جو مال اس کے قبضے میں ہے اس میں سے وہ مقدار تلاش کرے جس کا لوٹانا اس پر واجب ہے، یہاں تک کہ اسے اس میں کوئی شک نہ رہے کہ جو مال باقی ہے وہ خالص اس کا اپنا ہے، پس جو مال اس نے اپنے قبضے سے زائل کیا اسے وہ ان لوگوں کو واپس لوٹائے گا جن کے بارے میں یہ معروف ہو کہ اس نے اس پر ظلم کیا ہے یا اس سے بطور سود مال لیا ہے اور اگر وہ اسے آدمی کو پانے سے مایوس ہوجائے تو پھر اس کی طرف سے وہ مال صدقہ کر دے۔
اور اگر مظالم اس کے ذمہ کا احاطہ کئے ہوئے ہوں اور وہ یہ جانتا ہو کہ اس پر جو کچھ واجب الادا ہے وہ اسے کثیر ہونے کے سبب کبھی بھی ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھے گا تو اس کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ اس کے پاس موجود ہے وہ سب اپنی ملکیت سے زائل کر دے، چاہے مساکین کو دے دے اور چاہے تو ایسے کاموں میں خرچ کر دے جو عام مسلمانوں کی منفعت اور صلاح کے لئے ہوں، یہاں تک کہ اس کے پاس کوئی شے باقی نہ رہے، سوائے اس کم سے کم لباس کے جس میں نماز جائز ہوتی ہے اور وہ اتنا کپڑا ہے جو شرمگاہ کو ڈھانپ سکے اور وہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے، اور ایک دن کی خوراک (باقی رہ جائے) کیونکہ یہ وہ مقدار ہے جو اضطراری حالت میں دوسرے کے مال سے لینا واجب ہوتی ہے، اگرچہ وہ اسے ناپسند کرے جس سے وہ لے رہا ہے اور اکثر علماء کے قول کے مطابق یہاں مفلس علیحدہ اور جدا ہوگیا، کیونکہ مفلس کے پاس لوگوں کے اموال کسی زیادتی یا ظلم کی وجہ سے نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے وہ مال اس کے حوالے کر رکھے ہوتے ہیں پس اس کے لئے اتنا مال چھوڑ دیا جائے گا جو اسے چھپا لے گا اور وہ وہ ہے جو اس کے لباس کی ہئیت وکیفیت میں ہو۔
اور ابو عبید وغیرہ یہ کہتے ہیں کہ وہ مفلس کے لئے لباس نہ چھوڑے مگر وہ کم سے کم مقدار جو نماز میں اسے کافی ہو اور وہ وہ ہے جو اسے ناف سے گھٹنے تک ڈھانپ لے، پھر جب بھی کوئی شے اس کے ہاتھ میں آئے اسے وہ اپنے ہاتھ سے نکال دے اور اس سے وہ کچھ روک کر نہ رکھے سوائے اس مقدار کے جو ہم نے ذکر کردی ہے، یہاں تک کہ وہ جان لے، اور کون اس کی حالت کو جان سکتا ہے کہ اس نے وہ ادا کردیا ہے جو اس کے ذمہ واجب الادا ہے۔
مسئلہ نمبر : (٣٧) یہ وہ وعید ہے جس کے سبب اللہ تعالیٰ نے سود کھانے کی صورت میں جنگ سے ڈرایا دھمکایا ہے اور اسی کی مثل حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے بٹائی پر کھیتی کرنے کے بارے میں بھی وارد ہے، ابو داؤد نے روایت کیا ہے اور کہا ہے : یحییٰ بن معین اور ابن رجانے ہمیں خبر دی ہے اور ابن رجا نے کہا ہے کہ مجھے ابن خیثم نے ابو الزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے بٹائی پر کھیتی کرنے کو نہ چھوڑا تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے اعلان جنگ سن لے۔ “ پس یہ بٹائی پر کھیتی کرنے سے روکنے پر دلیل ہے اور مخابرہ سے مراد زمین کو نصف یا تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض لینا ہے اور اسے مزارعت کہا جاتا ہے، اور امام مالک (رح) کے تمام اصحاب، امام شافعی (رح) امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے متبعین اور داؤد رحمۃ اللہ علہیم نے اس پر اجماع کیا ہے کہ زمین ثلث اور ربع پر دینا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس پیداروار کے جز پر جو زمین سے حاصل کی جائے گی، کیونکہ وہ مجہول ہے، مگر امام شافعی (رح) اور آپ کے اصحاب اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے کہ زمین کو اناج کے عوض کرائے پر دینا جائز ہے بشرطیکہ مقدار معلوم ہو، کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پس جو شے معلوم ہو اس کی ضمانت ہوسکتی ہو تو اس کے عوض کوئی حرج نہیں ہے۔ “
اسے مسلم نے بیان کیا ہے اور محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم نے یہی موقف اپنا یا ہے اور امام مالک (رح) اور آپ کے اصحاب نے اس سے منع کیا ہے کیونکہ مسلم نے حضرت رافع بن خدیج (رض) سے یہ بھی روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں زمین کی کھیتی پکنے سے پہلے فروخت کردیتے تھے اور ہم زمین ثلث، ربع اور مقررہ اناج کے عوض کرائے پر دیتے تھے، پس ایک دن میرے چچاؤں میں سے ایک آدمی ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایسے معاملے سے منع کیا ہے جو ہمارے لئے باعث نفع تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت وفرمانبرداری ہمارے لئے زیادہ نفع بخش ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس سے منع کیا ہے کہ ہم زمین کی کھیتی پکنے سے پہلے فروخت کردیں اور ہم زمین ثلث، ربع، اور مقررہ اناج کی شرط پر کرائے پر دیں اور آپ نے زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ خود کاشت کرے یا اسے مزارعت پر دے دے، اور آپ نے اس کے کرائے کو اور جو کچھ اس کے سوا ہے اسے ناپسند کیا ہے، انہوں نے کہا ہے : پس زمین کا کرایہ اناج میں سے کسی شے کے ساتھ جائز نہیں ہے کسی بھی حال میں چاہے وہ شے کھائی جانے والی ہو یا پی جانے والی، کیونکہ یہ طعام کے بدلے طعام ادھار بیچنے کے معنی میں ہے اور اسی طرح زمین کا کرایہ ان کے نزدیک اس شے سے دینا بھی جائز نہیں ہے جو زمین سے نکلے گی اگرچہ وہ کھایا اور پیا جانے والا طعام نہ بھی ہو، سوائے لکڑی، کا نے اور ایندھن کی لکڑی کے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ بیع مزابنہ کے معنی میں ہے۔ (بیع مزابنہ سے مراد بغیر کیل اور وزن کے صرف اندازے کے ساتھ کسی شے کی بیع کرنا ہے) یہی وہ ہے جو امام مالک (رح) اور آپ کے اصحاب سے محفوظ ہے۔
اور ابن سحنون نے مغیرہ بن عبد الرحمن مخزومی مدنی سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ زمین کو اس اناج کے عوض کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جو اس سے نہ پیدا ہوتا ہو اور یحییٰ بن عمر نے مغیرہ سے روایت کیا ہے کہ وہ جائز نہیں ہے، جیسا کہ تمام اصحاب مالک (رح) کا قول ہے۔
اور ابن حبیب نے ذکر کیا ہے کہ ابن کنانہ کہتے تھے : زمین کو ایسے شے کے عوض کرائے پر نہیں دیا جائے گا کہ جب وہ شے زمین میں لوٹائی جائے تو وہ اگ پڑے، اور اس کے سوا تمام ایسی اشیاء کے عوض کرائے پر دینے کوئی حرج نہیں ہے جو کھائی جاتی ہوں اور ان کے عوض جو نہ کھائی جاتی ہوں چاہے وہ زمین سے پیدا ہوں یا نہ ہوں، اور اسی طرح یحییٰ بن یحییٰ نے بھی کہا ہے اور کہا ہے : بیشک یہ امام مالک (رح) کے قول میں سے ہے۔ (ابن حبیب نے) کہا ہے اور ابن نافع کہا کرتے تھے : زمین کو طعام وغیرہ میں سے ہر شے کے عوض کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جو زمین سے پیدا ہو یا نہ پیدا ہو، ما سوائے گندم اور اس جیسی اجناس کے، کیونکہ یہ محاقلہ ہے جس سے منع کیا گیا ہے، (اور محاقلہ سے مراد کھیتی کو پکنے سے پہلے فروخت کردینا ہے۔ )
اور امام مالک (رح) نے الموطا میں کہا ہے وہ آدمی جو اپنی سفید زمین اس سے حاصل ہونے والی پیداوار کے ثلث اور ربع کے عوض دے دیتا ہے تو یہ اس میں سے ہے جس میں دھوکہ داخل ہے کیونکہ پیداوار ایک بار کم ہوتی ہے اور دوسری بار زیادہ ہوتی ہے اور بسا اوقات بالکل کچھی بھی نہیں ہوتا تو زمین کا مالک مقررہ کرایہ ترک کرنے والا ہوجائے گا، بیشک اس کی مثال اس آدمی کی مثل ہے جس نے کسی مزدور کو معین شے کے عوض سفر کے لئے اجرت پر لیا پھر مستاجر نے اجیر کو کہا : میں اپنے اس سفر سے جو نفع حاصل کروں گا اس کا دسواں حصہ تجھے دوں گا وہی تیرے لئے اجرت ہوگی، تو نہ یہ حلال ہے اور نہ اسے ایسا کرنا چاہیے۔
امام مالک (رح) نے کہا ہے کسی آدمی کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنی ذات کو، اپنی زمین کو، اپنی کشتی اور اپنے جانور کو اجرت پر دے مگر ایسی معلوم شے کے عوض جو زائل اور ہلاک نہ ہو اور امام شافعی، امام ابوحنیفہ (رح) اور ان دونوں کے اصحاب رحمۃ اللہ علہیم بھی یہی کہتے ہیں۔
امام احمد بن حنبل، لیث ثوری، اوزاعی، حسن بن حی، امام ابو یوسف، اور امام محمد رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی آدمی اپنی زمین کسی کو اس سے حاصل ہونے والی پیداوار کے ایک جز مثلا ثلث اور ربع وغیرہ کی شرط پر دے دے، یہی ابن عمر (رض) اور طاؤس (رح) کا قول ہے، اور انہوں نے خیبر کے واقعہ سے استدلال کیا ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں کے باسیوں کو ہی اپنی زمینوں پر ان سے حاصل ہونے والی پیداوار اور پھلوں میں سے نصف کی شرط پر عامل مقرر کیا، امام احمد نے کہا ہے کہ کھیت کے کرائے سے نہی کے بارے میں حضرت رافع بن خدیج (رض) کی حدیث مضطرب الالفاظ ہے اور وہ صحیح نہیں ہے اور قصہ خیبر کے بارے قول اولی اور ارجح ہے اور وہ حدیث صحیح ہے۔ (١) (صحیح بخاری، باب اذا لم یشترط السنین فی المزارعۃ، حدیث نمبر ٢١٦١، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
تابعین کی ایک جماعت اور ان کے بعد آنے والوں نے اسے جائز قرار دیا ہے کہ آدمی اپنی کشتی سواری کسی کو دے جس طرح کہ وہ اپنی زمین اس جز کے بدلے دیتا ہے جو اس پیداوار میں سے ہو جو اللہ تعالیٰ اسے محنت کے سبب عطا فرمائے گا، اور انہوں نے اس میں اپنی اصل اور بنیاد اس مضاربت کو بنایا ہے جس پر اجماع ہے۔ اس کا بیان انشاء اللہ تعالیٰ سورة المزمل میں اس ارشاد کے تحت آئے گا : (آیت) ” واخرون یضربوں فی الارض یبتغون من فضل اللہ “۔
اور امام شافعی (رح) نے حضرت ابن عمر (رض) کے قول کے بارے کہا ہے کہ ہم بٹائی پر کھیتی کرتے تھے اور ہم اس میں کوئی حرج نہ دیکھتے تھے یہاں تک کہ ہمیں حضرت رافع بن خدیج (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا ہے، یعنی ہم زمین اس سے حاصل ہونے والی پیداوار کے بعض کے عوض کرائے پر دیتے تھے، امام شافعی (رح) نے فرمایا : اس میں قصہ خیبر والی حدیث کا نسخ ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : جو شے امام شافعی (رح) کے نسخ کے بارے قول کو صحیح قرار دیتی ہے وہ وہ روایت ہے جسے ائمہ نے روایت کیا ہے اور الفاظ دارقطنی کے ہیں، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محاقلہ (پکنے سے پہلے کھیتی فروخت کردینا) مزابنہ (اندازے سے بیع کرنا) مخابرہ (بٹائی پر کھیتی کا کام کرنے) اور الثنایا (عقد بیع کے وقت مبیع میں سے مجہول شے کی اسثنا کردینا) سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ ٠ جس شے کی استثناء کی گئی ہے) وہ معلوم ہو، یہ روایت صحیح ہے، اور ابو داؤد نے حضرت زید بن ثابت (رض) سے روایت بیان کی ہے (٢) (سنن ابی داؤد، باب فی المغابرۃ، حدیث نمبر ٢٩٥٨، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا، مخابرہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تو زمین نصف یا تہائی یا چوتھائی پداوار کے عوض لے لے۔
مسئلہ نمبر : (٣٨) یہ قراتوں کے بیان میں ہے۔ جمہور نے مابقی میں یا کو متحرک پڑھتا ہے اور حسن نے اسے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی کی مثل جریر کا قول ہے :

ھو الخلیفۃ فارضوا مارضی لکم ماضی العزیمۃ مافی حکمہ جنف۔

اور عمر بن ربیعہ نے کہا ہے :

کم قد ذکرتک لو اجزی بذکرکم یا اشبہ الناس کل الناس بالقمر
انی لاجدل ان امسی مقابلہ حبا لرؤیۃ من اشبھت فی الصور

اس کی اصل ما رضی اور ان امسی ہے، اور انہوں نے انہیں سکون دیا ہے اور شعر میں ایسا کثرت سے ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں یا کو الف کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے تو جس طرح الف پر حرکت نہیں آسکتی تو اسی طرح یہاں یا پر بھی حرکت نہیں آسکتی، اور اس لغت میں سے جس کی طرف دعوت دینا میں پسند کرتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میں تجھے اس کی نصیحت کروں وہ واؤ اور یا کو ساکن کرنا ہے حسن نے ما بقی الف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ لغت طی ہے وہ جاریہ کے لئے اجاراۃ اور ناصیۃ کے لئے ناصاۃ بولتے ہیں۔ اور شاعر کا قول ہے :

لعمرک لا اخشے التصعلک مابقی علی الارض قیسی یسوق الاباعرا

ابو السمال نے تمام قراء کے درمیان سے من الربوا “ را مشددہ کے کسرہ با کے ضمہ اور واؤ کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور ابو الفتح عثمان بن جنی نے کہا ہے : دو اعتبار سے یہ حرف شاذ ہے، ایک تو اس اعتبار سے کہ اس میں کسرہ سے ضمہ کی طرف خروج ہے اور دوسرا اس اعتبار سے کہ اس میں اسم کے آخر میں ضمہ کے بعد واؤ واقع ہے اور مہدوی نے کہا ہے : اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے الف کو پر پڑھا ہے تو وہ اس سے اس واؤد کی طرف جھک گئی جس سے الف ہے اور سوائے اس وجہ کے کسی پر اسے محمول نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ کلام میں کوئی اسم نہیں جس کے آخر میں واؤ ساکن ہو اور اس سے پہلے ضمہ ہو، کسائی اور حمزہ نے الربا میں را میں کسرہ کے محل کی وجہ سے امالہ کیا ہے، اور باقیوں نے با کے فتحہ کی وجہ سے اسے تفخیم کے ساتھ پڑھا ہے۔
ابو بکر نے عاصم اور حمزہ سے ” فاذنوا “ پڑھا ہے یعنی تم آگاہ ہوجاؤ، (یہ کونوا علی اذن) یہ تیرے اس قول سے ہے : انی علی علم (میں جانتا ہوں) اسے ابو عبید نے اصمعی سے بیان کیا ہے، اور اہل لغت نے بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے : اذنت بہ اذنا، ای علمت بہ، یعنی میں نے اس کے بارے جان لیا، اور مفسرین میں سے حضرت ابن عباس (رض) وغیرہ نے کہا ہے : (آیت) ” فاذنوا “ کا معنی ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے جنگ یقینی سمجھو، اور یہ بمعنی الاذن ہے اور ابو علی وغیرہ نے قراۃ المد کو ترجیح دی ہے اور کہا ہے : کیونکہ جب انہیں ان دوسروں کو خبردار کرنے کے بارے حکم دیا گیا جو اس سے آگاہ نہیں تو لامحالہ انہوں نے انہیں بتایا۔ مزید کہا : پس ان کے بتانے میں ان کا علم ہے اور ان کے علم میں ان کا اعلام (بتانا) نہیں ہے۔ اور علامہ طبری نے قراۃ القصر کو ترجیح دی ہے، کیونکہ یہ ان کے ساتھ مختص ہے، بیشک انہیں مد کی قرات پر اپنے سوا کو آگاہ کرنے کے بارے حکم دیا گیا ہے اور تمام قراء نے (آیت) ” لا تظلمون “ تا کے فتحہ کہ ساتھ اور ولا تظلمون “ تا کے ضمہ کے ساتھ قرات کی ہے اور مفضل نے عاصم سے لا تظلمون، ولا تظلمون یعنی پہلی میں تا کو ضمہ کے ساتھ اور دوسرے میں تاکہ فتحہ کے ساتھ روایت کیا ہے اور ابو علی نے کہا ہے، جماعت کی قرات ترجیح یافتہ ہے کیونکہ یہ (آیت) ” وان تبتم کے قول سے مناسبت رکھتی ہے ان میں کہ دونوں فعلوں کی اسناد فاعل کی طرف ہے اور تظلمون تاء کے فتحہ کے ساتھ بھی آتا ہے اور یہ اپنے ماقبل سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
آیت نمبر : ٢٨٠۔
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (١) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ “۔ جب اللہ تعالیٰ نے سود لینے والوں کو ان کے اصل اموال کے بارے حکم فرمایا درآنحالیکہ وہ ان کے پاس ہو جو مال کو پانے والے ہوں تو تنگدستی کی حالت میں خوشحال ہونے تک مہلت دینے کا ارشاد فرمایا اور وہ یہ کہ ثقیف نے جب اپنے ان اموال کا مطالبہ کیا جو بنی مغیرہ پر قرض تھے تو بنی مغیرہ نے تنگدستی کا عذر پیش کیا اور کہا : ہمارے پاس کوئی شے نہیں ہے اور انہوں نے اپنے پھلوں کے تیار ہونے کے وقت تک مہلت کا مطالبہ کیا، تب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ “۔ (١) (المحرر الوجیز، جلد ١، صفحہ ٣٧٦)
مسئلہ نمبر : (٢) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ “۔ اس ارشاد کے ساتھ (آیت) ” ون تبتم فلکم رؤس اموالکم “ صاحب قرض کے اپنے مدیون (مقروض) سے مطالبہ کے ثبوت اور اس کی رضا کے بغیر اس کا مال لینے کے جائز ہونے پر دلالت کرتا ہے اور اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ غریم جب امکان کے باوجود قرض ادا کرنے سے رکا رہے تو وہ ظالم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ (آیت) ” فلکم رؤس اموالکم “۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اپنے راس المال کے مطالبہ کو جائز قرار دیا ہے تو جب اس کے لئے مطالبہ کا حق ہے تو پھر وہ جس پر قرض ہے لامحالہ اسے ادا کرنا اس پر واجب ہے۔
مسئلہ نمبر : (٣) مہدوی اور بعض علماء نے کہا ہے یہ آیت اس طریقہ اور رواج کے لئے ناسخ ہے جو زمانہ جاہلیت میں تنگدست کو بیچنے کے بارے میں تھا اور مکی نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابتدائے اسلام میں اس کے بارے حکم فرمایا تھا،
ابن عطیہ نے کہا ہے : پس اگر حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل ثابت ہے تب تو یہ نسخ ہے ورنہ یہ نسخ نہیں ہے (٢) (ایضا) امام طحاوی نے کہا ہے : ابتدائے اسلام میں قرض میں آزاد آدمی کو بیچ دیا جاتا تھا جب اس کے پس اتنا مال نہ ہوتا جسے وہ اپنے قرض میں ادا کرسکتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کردیا اور ارشاد فرمایا : (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ “۔ اور انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے دارقطنی نے مسلم بن خالد زنجی کی حدیث سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا ہمیں زید بن اسلم نے ابن البیلمانی سے اور انہوں نے سرق سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : ایک آدمی کا مجھ پر کچھ مال تھا، یا کہا مجھ پر قرض تھا، پس وہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گیا اور آپ نے میرے لئے کوئی مال نہ پایا تو آپ نے مجھے اس سے یا فرمایا اس کے لئے فروخت کردیا، بزار نے اسے اس سے طویل سند کے ساتھ بیان کیا ہے اور مسلم ابن خالد الزنجی اور عبدالرحمن بن البیلمانی دونوں قابل حجت نہیں ہیں اور اہل علم کی ایک جماعت نے کہا ہے : ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” فنظرۃ الی میسرۃ “ تمام لوگوں کے لئے عام ہے، پس ہر وہ جو تنگدست ہوا سے مہلت دی جائے، اور یہی قول حضرت ابوہریرہ (رض) حسن اور عام فقہاء رحمۃ اللہ علہیم کا ہے۔
نحاس نے کہا ہے : اس آیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں سے سب سے اچھا قول حضرت عطاء ضحاک اور ربیع بن خیثم کا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ یہ آیت ہر تنگدست کے لئے ہے کہ اسے ربا اور تمام قرضوں میں مہلت دی جائے گی اور یہ قول تمام اقوال کو جامع ہے کیونکہ یہ جائز ہے کہ یہ آیت عام ناسخ ہو ربا کے بارے میں نازل ہوئی ہو پھر دوسرے قرضوں کا حکم بھی اس کے حکم کی طرح ہوگیا ہو، اور اس لئے بھی کہ رفع کے ساتھ قرات اس معنی میں ہے وان وقع ذوعسرہ من الناس اجمعین “ (اور اگر تمام لوگوں میں سے مقروض تنگدست واقع ہو۔ )
اور حضرت ابن عباس اور شریح رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کہا ہے : یہ آیت ربا کے بارے میں خاص ہے اور رہے قرضے اور دیگر تمام معاملات تو اس میں مہلت نہیں ہے بلکہ وہ یا تو ان کے مالکوں کو ادا کرے گا یا اس سے اسے محبوس کرو جائے گا یہاں تک کہ وہ اسے پورا کر دے اور یہی ابراہیم کا قول ہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے :

(آیت) ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “۔ الآیہ (النساء : ٥٨)

ترجمہ : بیشک اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے تمہیں کہ (ان کے) سپرد کرو امانتوں کو جو ان کے اہل ہیں) ۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ قول اس پر مرتب ہوتا ہے جب فقر و افلاس شدید اور ذلیل ورسوا کرنے والا نہ ہو اور اگر وہ اس کے فقدان اور فقر کی حالت بالکل صریح اور واضح ہو تو پھر بالضرور اس کے لئے مہلت کا حکم ہوگا (١) (المحرر الوجیز، جلد ١، صفحہ ٣٧٧ دارالکتب العلمیہ)
مسئلہ نمبر : (٤) جس آدمی کے قرض زیادہ ہوں اور اس کے قرض خواہ اپنے مال کا مطالبہ کریں تو حاکم کے لئے جائز ہے کہ وہ اسے اپنے کل مال سے فارغ کر دے اور اس کے لئے اتنا مال چھوڑ دے جو اس کی حاجت اور ضرورت کو پورا کرسکے، ابن نافع نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس کے لئے نہیں چھوڑے گا مگر صرف اتنا جو اسے ڈھانپ سکتا ہو۔ اور مشہور یہ ہے کہ وہ اس کے لئے اتنا مروجہ لباس چھوڑ دے گا جس میں کوئی شے فالتو اور اضافی نہ ہو اور اس سے اس کی چادر نہیں چھینی جائے گی بشرطیکہ وہ اسے بطور تہبند پہنتا ہو، اور اس کی بیوی کا لباس چھوڑنے میں اور اگر وہ عالم ہے تو اس کی کتابیں فروخت کرنے میں اختلاف ہے، اس کے لئے نہ گھر چھوڑا جائے گا اور نہ خادم اور نہ ہی جمعہ کا لباس چھوڑا جائے گا جبکہ اس کی قیمت کم نہ ہو اور اس وقت اسے محبوس کرنا حرام ہوتا ہے اور اس میں اصل اور بنیاد اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ “۔ ائمہ نے روایت بیان کی ہے اور الفاظ مسلم شریف کے ہیں حضرت ابو سعید خدری (رض) نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ مقدس میں ایک آدمی کو ان پھلوں میں نقصان ہوگیا جو اس نے خریدے تھے تو اس کا قرض بہت بڑھ گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تصدقوا علیہ تو اس پر صدقہ کرو پس لوگوں نے اس کے لئے صدقہ دیا لیکن وہ اس مقدار کو نہ پہنچ سکا جس سے اس کا قرض پورا ہو سکتا ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے قرض کا مطالبہ کرنے والوں کو فرمایا :

(آیت) ” خذوا ماوجدتم ولیس لکم الا ذالک۔

ترجمہ : تم جو پاؤ وہ لے لو اور تمہارے لئے اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
اور مصنف ابی داؤد میں ہے پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے غرماء (قرض کا مطالبہ کرنے والے) کے لئے یہ زائد نہیں کہا کہ ” وہ ان کے لئے اپنا مال چھوڑ دے “ اور یہ نص ہے، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آدمی کو محبوس کرنے کا حکم ارشاد نہیں فرمایا : اور وہ حضرت معاذ بن جبل (رض) تھے جیسا کہ شریح نے کہا ہے اور نہ ہی اسے لازم پکڑنے (یعنی اس کے ساتھ ساتھ رہنے) کا حکم فرمایا : بخلاف امام اعظم ابو حنفیہ (رح) کے کیونکہ انہوں نے کہا ہے : وہ اس کے ساتھ ساتھ رہیں گے کیونکہ ممکن ہے اس کا مال ظاہر ہوجائے اور قرض خواہ اسے مال کمانے کا پابند نہیں کرے گا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کردی ہے۔ وباللہ توفیقنا۔
مسئلہ نمبر : (٥) امام مالک، شافعی، ابوحنیفہ وغیرھم رحمۃ اللہ علہیم کے قول کے مطابق مفلس کو محبوس کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کے پاس مال کا نہ ہونا ظاہر ہوجائے اور امام مالک (رح) کے نزدیک اسے محبوس نہ کیا جائے گا اگر اس پر یہ وہم نہ ہو کہ اس نے اپنا مال غیب کردیا ہے اور اس کا جھگڑالو ہونا بھی ظاہر نہ ہو اور اسی طرح اسے محبوس نہ کیا جائے گا اگر اس کی تنگدستی درست ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (٦) اور اگر مفلس کا کا مال جمع کرلیا جائے پھر وہ قرض کا مطالبہ کرنے والوں تک پہنچنے سے پہلے اور بیع سے پہلے ضائع ہوجائے تو مفلس پر اس کی ضمانت ہوگی اور قرض خواہوں کا قرض اس کے ذمہ ثابت رہے گا اور اگر حاکم نے اس کا مال فروخت کردیا اور اس کے ثمن پر قبضہ کرلیا تو پھر قرض خواہوں کے قبضہ سے پہلے وہ ثمن ضائع ہوگئے تو اس کی ضمانت ان پر ہو گی اور مفلس اس سے بری الذمہ ہوگا اور محمد بن عبدالحکم نے کہا ہے اس کی ضمانت ہمیشہ مفلس سے لی جائے گی یہاں تک کہ وہ غرماء تک پہنچ جائے۔
مسئلہ نمبر : (٧) العسرہ کا معنی ہے مال نہ ہونے کہ جہت سے حال کا تنگ ہونا اور اسی سے جیش عسرہ ہے۔ (یعنی وہ لشکر جس کے پاس مالی حالت تنگ تھی) اور النظرہ کا معنی التاخیر (مہلت دینا) ہے۔ اور المیسرہ مصدر بمعنی الیسر (خوشحال ہونا) ہے، اور ذو اس کان تامہ کی وجہ سے مرفوع ہے جو بمعنی وجد اور حدث ہے۔ یہ سیبویہ اور بوعلی وغیرہما کا قول ہے، اور سیبویہ نے کہا ہے :

فدی لبئی ذھل بن شیبان ناقتی اذا کان یوم ذو کواکب اشھب :

اور نصب بھی جائز ہے۔ مصحف ابی بن کعب (رض) میں ہے (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ “ اس کا معنی کی بنا پر ” کہ اگر مطلوب (مقروض) تنگ دست ہو اور اعمش نے ” وان کان معسرا فنظرۃ “ پڑھا ہے۔ ابو عمر والدانی نے احمد بن موسیٰ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح حضرت ابی بن کعب (رض) کے مصحف میں ہے، نحاس، مکی اور نقاچ نے کہا ہے : اس قرآت پر آیت کا لفظ اہل ربا کے ساتھ مختص ہوجائیگا اور جمہور نے ذو پڑھا ہے ان کی قرات کے مطابق یہ آیت ان تمام کے بارے میں عام ہے جن پر قرض ہو اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
اور مہدوی نے بیان کیا ہے کہ مصحف عثمان (رض) میں ” فان کا ذو عسرۃ “۔ فا کے ساتھ ہے اور معتمر نے حجاج الوراق سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا مصحف عثمان (رض) میں ” وان کان ذا عسرۃ “ ہے، اسے نحاس نے ذکر کیا ہے اور جماعت کی قرات نظرۃ ظا کے کسرہ کے ساتھ ہے اور مجاہد، ابو رجا اور حسن نے ” فنظرۃ “ ظاء کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بنی تمیم کی لغت ہے اور وہی ہیں جو کہتے ہیں فی، کرم زید ‘ بمعنی کرم زید اور وہ کہتے ہیں کبد بمعنی کبد، اور اکیلے نافع نے میسرۃ سین کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور جمہور نے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
نحاس نے حضرت مجاہد اور حضرت عطا سے ” فناظرہ الی میسرہ یعنی صیغہ امر اور میسر میں سین کو ضمہ، راء کو کسرہ اور درج کلام میں یاء کو ثابت رکھتے ہوئے بیان کیا ہے اور ” فناظرۃ “ بھی پڑھا گیا ہے۔ ابو حاتم نے کہا ہے : فناظرۃ “ جائز نہیں ہے، اور سورة النمل میں ہے، کیونکہ وہ ایک عورت ہے جس نے اس کے ساتھ اپنی ذات کے بارے کلام کیا ہے۔ یہ ” نظرت تنظر فھی ناظرۃ “ سے ہے اور جو سورة البقرہ میں ہے وہ التاخیر بمعنی مہلت دینا سے ہے۔ یہ تیرے اس قول سے ہے۔ انظرتک بالدین، یعنی میں نے تیرا قرض موخر کردیا ہے اور اسی سے یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(آیت) ” فانظرنی الی یوم یبعثون “۔ (الحجر)

ترجمہ : پھر مہلت دے مجھے اس دن تک جب مردے (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے۔
ابو اسحاق الزجاج نے اسے جائز قرار دیا ہے اور کہا ہے : یہ مصادر کے اسماء میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :

(آیت) ” لیس لوقعتھا کاذبۃ “ (واقعہ)

ترجمہ : نہیں ہوگا جب یہ برپا ہوگی (اسے) کوئی جھٹلانے والا۔
اور اسی طرح یہ ارشاد ہے۔

(آیت) ” تظن ان یفعل بھا فاقرہ “۔ (القیامہ)

ترجمہ : خیال کرتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہوگا۔
اور اسی طرح خائنۃ الاعین وغیرہ ہے۔
مسئلہ نمبر : (٨) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان تصدقوا “۔ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر خیر ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ کے ساتھ تنگدست پر صدقہ کرنے کو مستحب قرار دیا ہے اور اسے مہلت دے کر اسے بہتر بنا دیا ہے، سدی، ابن زید اور ضحاک نے یہی کہا ہے۔
اور علامہ طبری نے کہا ہے اور دوسروں نے کہا ہے : آیت کا معنی یہ ہے کہ تمہارا غنی اور فقیر پر صدقہ کرنا تمہارے لئے بہتر ہے اور پہلا قول صحیح ہے اور آیت میں غنی داخل نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر : (٩) ابو جعفر طحاوی (رح) نے حضرت بریدہ بن خصیب (رض) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جس نے تنگدست مقروض کو مہلت دی اس کے لئے ہر دن کے عوض صدقہ (کا ثواب) ہے “ پھر میں نے عرض کی (کیا) ہر دن کے عوض اس کی مثل صدقہ (کرنے کا ثواب) ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر دن کے عوض صدقہ ہیں جب تک قرض کی ادائیگی کا وقت نہ آپہنچے اور ادائیگی کا وقت آجانے کے بعد اگر اس نے اسے مؤخر کردیا تو اس کے لئے ہر دن کے عوض اس کی مثل صدقہ (کرنے کا ثواب) ہے۔ “
اور مسلم نے حضرت ابو مسعود سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ ” تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کا محاسبہ کیا گیا تو اس کے لئے خیر اور نیکی میں سے کوئی شے نہ پائی گئی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں کے ساتھ معاملات کرتا تھا اور خوشحال تھا تو وہ اپنے غلاموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگدست سے چشم پوشی کریں، اسے معاف کریں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا : ہم اس سے زیادہ اس کا حق رکھتے ہیں کہ ہم اسے معاف کردیں۔ “
حضرت ابو قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے مقروض کو تلاش کیا تو وہ آپ سے چھپ گیا پھر آپ نے اسے پالیا تو اس نے کہا : بلاشبہ میں تنگدست ہوں۔ آپ نے پوچھا : کیا اللہ تعالیٰ کی قسم، اس نے کہا : (ہاں) اللہ کی قسم، آپ نے بیان کیا : بلاشبہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بیان فرماتے ہوئے سنا ہے : من سرہ ان ینجیہ اللہ من کرب یوم القیامۃ فلینفس عن معسر اویضع عنہ (جسے یہ شے خوش کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے یوم قیامت کی تکالیف سے نجات عطا فرمائے تو اسے چاہیے کہ وہ تنگدست مقروض کو مہلت دے یا اس سے قرض بالکل ساقط کردے (یعنی معاف کر دے)
ابو الیسر الطویل کی حدیث میں ہے اور ان کا نام کعب بن عمرو ہے، کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اس سے قرض ساقط کردیا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے (عرش کے) سایہ میں جگہ عطا فرمائے گا۔ ’ من انظر معسر او وضع عنہ اظلہ اللہ فی ظلہ “ ان احادیث میں اس کے بارے ترغیب موجود ہیں جس کے بارے نص بیان کی گئی ہے اور حضرت ابو قتادہ (رض) کی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ قرض کا مالک اپنے مقروض کی تنگدستی کا علم رکھتا ہو یا اس کا گمان ہو تو اس پر اس کا مطالبہ حرام ہے، اگرچہ حاکم کے پاس اس کی تنگدستی ثابت نہ بھی ہو۔
اور انظار المعسر کا معنی ہے اسے مہلت دینا یہاں تک کہ وہخوشحال ہوجائے اور الوضع عنہ سے مراد اس کے ذمہ سے قرض کو ساقط کرنا ہے اور دونوں معنوں کو ابو الیسر نے اپنے مقروض کے لئے اس طرح جمع کیا کہ اس کے بارے تحریر مٹا دی اور اسے کہہ دیا : اگر تو ادائیگی کی وسعت پائے تو تو اسے ادا کر دے ورنہ تو بری الذمہ ہے۔
آیت نمبر : ٢٨١۔
کہا گیا ہے : بیشک یہ آیت حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال سے نوراتیں قبل نازل ہوئی پھر اس کے بعد کوئی شے نازل نہ ہوئی، ابن جریج نے یہی کہا ہے، ابن جبیر اور مقاتل نے کہا ہے : سات راتیں پہلے نازل ہوئی اور تین راتوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ یہ آیت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال سے تین ساعتیں قبل نازل ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے پاس حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) آئے اور کہا اسے دوسواسی نمبر آیت کے بعد رکھ دو ۔ “
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ حضرت ابی بن کعب، حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت قتادہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے روایت ہے کہ آخر میں جو آیت نازل ہوئی وہ یہ ہے ؛ (آیت) ” لقد جآء کم رسول من انفسکم “ الی آخر الآیۃ۔ اور پہلا قول زیادہ معروف، بہت زیادہ اصح اور زیادہ مشہور ہے، اور اسے ابو صالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا ہے : قرآن کریم میں سے جو آخر میں نازل ہوا وہ یہ آیت ہے : (آیت) ” واتقوا یوم ترجعون فیہ الی اللہ ثم توفی کل نفس ماکسبت وھم لا یظلمون (٢٨١) اور حضرت جبریل امین (علیہ السلام) نے حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے سورة البقرہ میں دو سو اسی آیت کے آخر میں رکھو “۔ اسے ابوبکر انباری نے ” کتاب الرد “ میں ذکر کیا ہے، اور یہی حضرت ابن عمر (رض) کا قول ہے کہ یہ آیت آخر میں نازل ہوئی، اور حضور نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بعد اکیس دن تک باحیات رہے، اس کا بیان سورة اذا جآء نصر اللہ والفتح “۔ کے آخر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور یہ آیت تمام لوگوں کے لئے نصیحت ہے اور ایسا حکم ہے جو ہر انسان کے ساتھ خاص ہے اور یوما مفعول ہونے کی بنا پر منصوب ہے نہ کہ ظرف ہونے کی بناء پر (آیت) ” ترجعون فیہ الی اللہ “ یہ اس کی صفت ہے۔
ابوعمرو نے اسے تا کے فتحہ اور جیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی کی مثل یہ ارشاد ہے : (آیت) ” ان الینا ایابھم “۔ (الغاشیہ) (بےشک انہیں (آخر) ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے) اور حضرت ابی (رض) کی قرات پر قیاس کرتے ہوئے یوما تصیرون فیہ الی اللہ (یعنی وہ دن جس میں تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹو گے) اور باقیوں نے اسے تا کے ضمہ اور جیم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ مثلا،
(آیت) ” ردوا الی اللہ “۔ (انعام : ٦٢)
ترجمہ ؛ پھر لوٹائیں جائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف۔

(آیت) ” ولئن رددت الی ربی “۔

ترجمہ : اور اگر مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا۔
اور یہ حضرت عبداللہ (رض) کی قرات کے اعتبار سے ہے۔ یوما تردون فیہ الی اللہ (یعنی وہ دن جس میں تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ اور حسن نے یرجعون “ یا کے ساھ پڑھا ہے یہ اس معنی کی بنا پر ہے کہ تمام لوگ لوٹائیں جائیں گے۔
ابن جنی نے کہا ہے : گویا اللہ تعالیٰ نے مومنین کے ساتھ اس بنا پر نرمی اور مہربانی فرمائی کے وہ ان کی طرف رجعت کے ذکر کے ساتھ متوجہ ہوا، کیونکہ یہ ان میں سے ہے جس کے ساتھ دل پھٹنے لگتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : (آیت) ” واتقوا یوما “۔ پھر رجعت کے ذکر میں ان کے ساتھ نرمی فرماتے ہوئے غیب کی طرف رجوع فرمایا اور جمہور علماء نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ دن جس سے ڈرایا گیا ہے یہ قیامت قائم ہونے، حساب و کتاب اور پوری پوری جزا ملنے کا دن ہے، ایک قوم نے کہا ہے : اس سے مراد موت کا دن ہے۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : آیت کے الفاظ کے حکم کے مطابق پہلا قول زیادہ صحیح ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ” الی اللہ “ میں مضاف محذوف ہے، اس کی تقدیر عبارت ہے الی حکم اللہ وفصل قضائہ (یعنی تم لوٹائے جاؤ گے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی تقدیر کے فیصلے کی طرف) وھم یعنی جمع ضمیر کل کے معنی پر محمول ہے نہ کہ لفظ پر، مگر حسن کی قرات میں یرجون ہے تو اس کے مطابق وھم میں ضمیر یرجعون میں جمع ضمیر کی طرف لوٹ رہی ہے، اور اس آیت میں اس پر نص ہے کہ ثواب اور عقاب کس اعمال کے متعلق ہیں اور یہ جبریہ کا رد ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔

سورہء آل عمران
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْ كُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ١٣٠؁ۚ
وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْٓ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ ١٣١؁ۚ

اے اہل ایمان ! سود مت کھاؤ دگنا چوگنا بڑھتا ہوا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے
آیت نمبر ١٣٠۔ تا ١٣٢۔
قولی تعالیٰ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔ سود کھانے سے یہ نہیں قصہ احد کے درمیان جملہ معترضہ ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : مجھے اس بارے میں روایت کردہ کوئی شے یاد نہیں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ حضرت مجاہد نے بیان کیا ہے : وہ ایک مدت تک بیع کرتے تھے اور جب مدت مقررہ گزر جاتی تو وہ اسے مؤخر کرنے کی شرط پر ثمن میں اضافہ کردیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” یایھال الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔ (میں کہتا ہوں) تمام گناہوں میں سے ربا کو خاص کیا گیا ہے، کیونکہ یہ وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جنگ کی اجازت دی ہے :

(آیت) ” فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ “۔ (البقرہ : ٢٧٩)

ترجمہ : اور تم نے ایسا نہ کیا تو اعلان جنگ سن لو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے۔
اور جنگ قتل کی خبر دیتی ہے، گویا کہ وہ یہ کہہ رہا ہے : اگر تم سود سے نہ بچے تو تمہیں ہزیمت کا سامنا ہوگا اور تم قتل کردیئے جاؤ گے، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں سود چھوڑنے کا حکم دیا، کیونکہ ان کے نزدیک اس پر عمل کیا جاتا تھا، واللہ اعلم، اور ” اضعافا “ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور ” مضعفۃ “ اس کی صفت ہے۔ اور اسے مضعفۃ بھی پڑھا گیا ہے، اور اس کا معنی ہے وہ سود جس میں عرب قرض کو دوگنا کرلیتے تھے اور طالب کہتا تھا : کیا تو ادا کرے گا یا سود دے گا ؟ جیسا کہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے، اور مضاعفۃ یہ ایک سال کے بعد دوسرے سال دوگنا کو چار گنا کرنے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ وہ کرتے تھے، پس یہ عبارت موکدہ ان کے فعل کے انتہائی برا اور قبیح ہونے پر دلیل ہے، اسی لئے خاص طور پر تضعیف کی حالت ذکر کی گئی ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واتقوا اللہ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو سود کے مالوں میں اور تم انہیں نہ کھاؤ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں خوفزدہ کیا (١) (معالم التنزیل، جلد ١، صفحہ ٥٤٧) اور فرمایا : (آیت) ” واتقو النار التی اعدت للکفرین “۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے یہ وعید اس کے لئے ہے جس نے سود کو حلال سمجھا اور جس نے ربا کو حلال سمجھا وہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے ایسے عمل سے بچو جو تم سے ایمان کو چھین لیتا ہے کہ تم (اس کے سبب) آتش جہنم کو واجب کرلو گے، کیونکہ گناہوں میں سے بعض ایسے ہیں جنہیں کرنے والا ایمان کے چھن جانے کو واجب کرلیتا ہے اور اس پر کو ف کیا جانے لگتا ہے، انہیں میں سے والدین کی نافرمانی بھی ہے، اور اس بارے میں ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک آدمی اپنے والدین کا نافرمانی تھا اسے علقمہ کیا جاتا تھا تو موت کے وقت اسے کہا گیا کہو ” لا الہ الا اللہ “ تو وہ اس پر قادر نہ ہوسکا یہاں تک کہ اس کی ماں اس کے پاس آئی اور وہ اس سے راضی ہوئی۔ اور ایسے ہی گناہوں میں سے قطع تعلقی، سود خوری اور امانت میں خیانت کرنا ہے، ابوبکر وراق نے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : اکثر اوقات موت کے وقت بندے سے ایمان نکال لیا جاتا ہے، پھر ابوبکر نے بیان کیا : پس ہم ایسے گناہوں میں غور وفکر کرتے رہے جو ایمان کو نکال دیتے ہیں تو ہم نے بندوں پر ظلم سے بڑھ کر تیزی کے ساتھ کسی کو ایمان نکالنے والا نہیں پایا، اس آیت میں اس پر دلیل ہے کہ آگ (جہنم) کو پیدا کیا گیا ہے یہ جہمیہ کا رد ہے، کیونکہ معدوم تیار شدہ نہیں ہوتا، پھر فرمایا (آیت) ” واطیعوا اللہ “۔ یعنی فرائض میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو ”’ والرسول “ اور سنن میں (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیرو کرو)
اور یہ قول بھی ہے کہ سود کی تحریم میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور تحریم کے بارے میں جو حکم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں پہنچایا ہے (اس میں انک کی اطاعت کرو) (آیت) ” لعلکم ترحمون “ تاکہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ اور یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔

سورۃالنساء
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا ١٦٠؀ۙ
وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۭوَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ١٦١؁

توبسبب ان یہودی بن جانے والوں کی ظالمانہ روش کے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں بھی حرام کردیں جو اصلاً ان کے لیے حلال تھیں اور بسبب اس کے کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے (خود رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی) روکتے ہیں۔
اور بسبب ان کے سود کھانے کے جبکہ اس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور بسبب ان کے لوگوں کے مال ناحق ہڑپ کرنے ‘ کے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لیے ہم نے بہت درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے
آیت نمبر : ١٦٠ تا ١٦١۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (١) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا “۔ زجاج نے کہا : یہ (آیت) ” فبما نقضھم “۔ سے بدل ہے، اور (آیت) ” طیبت “۔ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر “۔ (الانعام : ١٤٦) اور ظلم کو تحریم پر مقدم فرمایا، کیونکہ ظلم کے متعلق خبر دینے کا مقصود یہی بیان کرنا ہے کہ یہ تحریم کا سبب ہے۔ (آیت) ” وبصدھم عن سبیل اللہ “۔ یعنی وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع سے روکتے ہیں، (آیت) ” واخذھم الربوا وقد نھوا عنہ واکلھم اموال الناس بالباطل “۔ یہ سب اس ظلم کی تفسیر ہے جو وہ کیا کرتے تھے اور اسی طرح جو پہلے گزر چکا ہے کہ وہ عہد کو توڑتے تھے اور جو بعد میں آئیگا آل عمران میں گزر چکا ہے کہ تحریم کے سبب میں علماء کے مختلف تین اقوال ہیں۔
مسئلہ نمبر : (٢) ابن عربی نے کہا : امام مالک (رح) کے مذہب میں کوئی اختلاف نہیں کہ کفار مخاطب ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا کہ انہیں سود کھانے سے اور لوگوں کے ناحق مال کھانے سے منع کیا گیا ہے، اگر یہ اس کے متعلق خبر ہے جو قرآن میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا ہے اور وہ خطاب میں داخل ہیں تو بھی بہتر ہیں اور اگر یہ خبر ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات میں نازل فرمایا اور انہوں نے احکامات کو بدلا، اور تحریف کی اور اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور نافرمانی کی تو کیا ہمارے لیے انکے معاملات جائز ہیں، جب کہ وہ قوم اپنے دین میں اپنے اموال کو خراب کرچکی ہے یا نہیں ؟ ایک طائفہ نے کہا : ان کا معاملہ جائز نہیں، کیونکہ ان کے اموال میں یہ فساد ہے، صحیح یہ ہے کہ انکے سود اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کے ارتکاب کے باوجود ان کے ساتھ معاملہ کرنا جائز ہے، اس پر قرآن وسنت سے قطعی دلیل قائم ہوچکی ہے۔ (آیت) ” وطعام الذین اوتوالکتب حل لکم “۔ (المائدہ : ٥) یہ نص ہے کہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود سے معاملات کیے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوا تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی جو اپنے عیال کے لیے جو لینے کے لیے رہن رکھی تھی۔
شک اور خلاف کی بیماری کو جڑ سے ختم کرنے والی چیز امت کا اہل حرب کے ساتھ تجارت کرنے کے جواز پر اتفاق ہے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تجارت کی خاطر ان کی طرف سفر کیا تھا، اس سفر سے قطعی طور پر ثابت ہوا کہ ان کی طرف سفر کرنا اور انکے ساتھ تجارت کرنا جائز ہے، اگر کہا جائے کہ یہ نبوت سے پہلے کا سفر تھا تو ہم کہیں گے : نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت سے پہلے بھی کسی حرام کا ارتکاب نہیں کیا اور یہ تواتر سے ثابت ہے اور نہ بعثت کے بعد آپ نے کوئی عذر پیش کیا اور نہ اعلان نبوت کے بعد آپ سے منع ثابت ہے اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات طیبہ میں اور نہ آپ کے وصال کے بعد کسی نے اہل کتاب کی طرف سفر کو ترک کیا بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین قیدیوں کو چھڑانے کے لیے سفر کرتے تھے اور یہ واجب ہے اور صلح میں حضرت عثمان (رض) کو بھیجا گیا تھا، اور کبھی یہ سفر واجب ہوتا ہے، اور کبھی مستحب، رہا صرف تجارت کی خاطر اہل کتاب کی طرف سفر کرنا تو وہ مباح ہے۔ (١) (احکام القرآن لابن العربی، جلد ١، صفحہ ٥١٥)

سورۃالروم
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ 39؀

ا اور جو کچھ تم دیتے ہو سود پر تاکہ بڑھتا رہے لوگوں کے مال میں تو اللہ کے ہاں اس میں کوئی بڑھوتری نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو ( اور اس سے) اللہ کی رضا چاہتے ہو ‘ تو یہی لوگ ہیں جو (اللہ کے ہاں اپنے مال کو) بڑھانے والے ہیں
اس میں چار مسائل ہیں
مسئلہ نمبر 1:
جب اس چیز کا ذکر کیا جس کے ساتھ اس کی رضا کا ارادہ کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر بدلہ عطا فرماتا ہے اس کے علاوہ صفت کا ذکر کیا اور اس کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا جاتا ہے جمبور کی قرأت ہے یہ مد کے ساتھ ہے معنی ہے جو تم دیتے ہو۔ ابن کثیر، مجاہد اور حمید نے مد کے بغیر پڑھا ہے معنی ہے جو تم ربا کا عمل کرو تاکہ وہ بڑھے جس طرح تو کہتا ہے تو نے صحیح کام کیا اور تو نے غلط کام کیا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مد پر اتفاق کیا ہے۔ زکوۃ ریا کا معنی زیادتی ہے (2) سورة بقرہ میں اس کا معنی گزر چکا ہے، وہاں وہ حرام ہے یہاں حلال ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کی دو قسمیں ہیں : اس میں ایک قسم حلال ہے اور اس میں ایک قسم حرام ہے (1) عکرمہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : میں کہاں : ربا کی دو قسمیں ہیں ربا حلال اور ربا حرام
جہاں تک حلال ربا کا تعلق ہے اس سے مراد وہ ہے جو ہدیہ کے طور پر دیا جائے اور جو اس سے افضل ہو اس کو طلب کیا جائے اس آیت میں ضحاک سے مروی ہے : اس سے مراد حلال ربا ہے جو ہدیہ کے طور پر دیا جائے تاکہ اس سے جو افضل ہو وہ ہدیہ کے طور پر اسے لوٹایا جائے نہ اس کے حق میں ہو اور نہ اس کے خلاف ہو۔ اس میں اس کے لئے اجر نہیں اور اس میں اس پر کوئی گناہ نہیں حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : مراد کسی آدمی کو ہدیہ دینا جس کے ساتھ وہ یہ امید رکھتا ہے کہ اسے اس سے افضل لوٹایا جائے گا یہ ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتی اس کے مالک کو اجر نہیں دیا جاتا لیکن اس پر کوئی گناہ نہیں اسی معنی میں یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت ابن عباس، ابن جبیر، طائوس اور مجاہد نے کہا : یہ آیت ہبتۃ الثواب میں نازل ہوئی ابن عطیہ نے کہا : انسان جو ایسا کام کرتا ہے تاکہ اسے بدلہ دیا جائے جیسے سلام یا جو بھی اس کے قائم مقام جاری ہو تو یہ ایسی چیز ہے جس میں کوئی گناہ نہیں کوئی اجر نہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پر کوئی بڑھوتری نہیں (2) یہی قول قاضی ابوبکر بن عربی نے کیا نسائی کی کتاب میں حضرت عبدالرحمن بن علقمہ سے مروی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ثقیف کا وفد آیا، ان کے پاس ہدیہ تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ہے “ اگر یہ ہدیہ ہے تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنی چاہیے اور ضرورت کو پورا کرنے کی نیت کرنی چاہیے اگر صدقہ ہے تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرنی چاہیے “ انہوں نے عرض کی نہیں بلکہ یہ ہدیہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے ہدیہ قبول کرلیا آپ ان کے ساتھ بیٹھ گئے وہ آپ سے سوال کرتے اور آپ ان سے سوال کرتے۔
حضرت ابن عباس (رض) نے یہ بھی کہا اور ابراہیم نخعی نے بھی یہ کہا ہے : یہ ایسے لوگوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی جو اپنے قریبی رشتہ داروں اور اپنے بھائیوں کو مال دیتے تاکہ انہیں نفع حاصل ہو وہ مال دار ہوجائیں اور ان پر مال دینے والوں کی فضلیت ثابت ہوجائے اور ان کے مال زیادہ ہوجائیں تاکہ انہیں نفع حاصل ہو (4) شعبی نے کہا : آیت کا معنی ہے جس انسان نے کسی انسان کی کسی چیز کے ساتھ خدمت کی اور اس کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کیا تاکہ اس کے ساتھ دنیا میں نفع اٹھائے تو وہ نفع جس کے بدلے میں اس نے خدمت کی اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ نہیں بڑھتا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ خصوصاً نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے حرام ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (المدثر) آپ کو اس چیز سے منع کیا کہ کوئی چیز آپ عطا کریں اور اس کے عوض میں زیادہ چیز لیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے
اس سے مراد حرام شدہ ربا ہے، اللہ ک، اس قول کی بناء پر معنی ہے اس کے لینے والے کے بارے میں حکم نہیں بلکہ یہ حکم اس کے لئے ہے جس سے وہ مال لیا گیا ہو سدی نے کہا یہ آیت بنو ثقیف کے ربا کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ وہ سود کا کاروبار کیا کرتے تھے اور قریش ان کے ساتھ معاملہ کیا کرتے تھے۔
مسئلہ نمبر 2: قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : آیت کا صریح معنی اس آدمی کے بارے میں ہے جو کوئی چیز ہبہ کرتا ہے اور بدلہ میں لوگوں سے زیادہ کا مال کا طالب ہوتا ہے مہلب نے کہا : علماء نے اس آدمی کے بارے میں اختلاف کیا جو آدمی ہبہ کرتا ہے اور اس کے بدلے میں بدلہ کا طالب ہوتا ہے اور کہا : میں نے بدلہ کا ارادہ کیا : امام مالک نے کہا : اس میں غوروفکر کیا جائے گا اگر وہ جب موجوبلہ سے بدلہ کا طالب ہے وہ ایسا ہی ہے تو اس کے لئے وہ ہوگا جس طرح فقیر غنی کو ہبہ کرے خادم صاحب کو ہبہ کرے کوئی آدمی اپنے امیر اور اس سے بالا کو ہبہ کرے یہ امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک ہے امام ابوحنیفہ نے کہا : اس کے لئے بدلہ نہ ہوگا جب اس نے شرط نہ لگائی ہو یہ امام شافعی کا دوسرا قول ہے فرمایا : بدلہ کے لئے ہبہ باطلہ ہے اسے کوئی نفع نہ دے گا کیونکہ یہ مجبول ثمن کے بدلے میں بیع ہے کوفہ سے علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ ہبہ اصل میں بطور نفل ہے اگر ہم اس میں عوض کو واجب کردیں تو اس میں فضل و احسان کا معنی باطل ہوجائے گا اور وہ معاونسات کے معنی میں ہوجائے گا عربوں نے لفظ بیع اور لفظ ہبہ میں فرق کیا ہے انہوں نے لفظ بیع کو اس کے لئے خاص کیا ہے جس میں وہ عوض کا مستحق ہوتا ہے اور ہبہ اس کے خلاف ہے ہماری دلیل وہ روایت ہے جسے امام مالک نے موطا میں روایت کیا ہے حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا جس آدمی نے کوئی ہبہ کیا اس کی رائے تھی کہ یہ بدلہ کے طور پر ہے تو وہ ہبہ کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے یہاں تک کہ وہ بلا عوض ہدیہ پر راضی ہوجائے۔
اسی کی مثل حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے فرمایا : ہبہ تین قسم کے ہیں (1) ایسا ہبہ جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا جائے (2) ایسا ہبہ جس سے لوگوں کی رضا کا ارادہ کیا جائے (3) ایسا ہبہ جس سے بدلہ کا ارادہ کیا جائے بدلہ کے لئے جو بہبہ دیا جائے تو ہبہ کرنے والا اسے واپس لے سکتا ہے جب اسے بدلہ نہ دیا جائے۔ امام بخاری نے یہ عنوان باندھا ہے او حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی حدیث ذکر کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو ہدیہ قبول فرماتے اور اس پر بدلہ دیا کرتے تھے دودھ دینے والی اونٹنی پر بدلہ دیا اور اس اونٹنی کے مالک نے جب بدلہ طلب کیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انکار نہ کیا اور بدلے کے لئے ناراضگی کو پسند نا کیا جبکہ وہ بدلہ ہدیہ کی قیمت پر زائد تھا۔
مسئلہ نمبر 3:
حضرت علی شیر خدا (رض) نے جو ذکر کیا اور ہبہ کی تفصیل بیان کی ہے وہ صحیح ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ میں تین احوالے سے خالی نہیں (1 ! وہ ہبہ کے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتا ہو اور اللہ تعالیٰ سے ہی بدلہ کا طالب ہو (2) وہ اس کے ذریعے لوگوں کی رضا چاہتا ہے اور وہ ریا کاری کرتا ہے تاکہ لوگ اس کی تعریف کریں اور اس ہبہ کی وجہ سے اس کی ثناء کریں۔ (3) وہ موہوب لہ سے اس کے ساتھ بدلہ کا ارادہ کرتا ہے اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : (1) اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ہر آدمی کے لئے وہ کچھ ہے جس کی وہ نیت کرے جب ایک آدمی اپنے ہبہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کرے اور اس کی بارگاہ سے ثواب چاہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے فضل و رحمت ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :۔
اسی طرح وہ آدمی جو اپنے قریبی رشتہ داروں کے صلہ رحمی کرتا ہے تاکہ وہ غنی ہوجائے اور کسی پر بوجھ نہ بنے تو اس میں بھی نیت کا اعتبار کیا جائے گا اگر وہ اس کے ساتھ دنیا چاہتا ہے تو یہ عمل اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں ہوگا اگر وہ اس کی مدد اس لئے کرتا ہے کیونکہ اس کا اس پر حق قرابت ہے اور ان کے درمیان رشتہ داری ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہوگا۔ (2)
اور وہ شخص جو اپنے ہبہ کے ساتھ لوگوں کی رضا چاہتا ہے مقصود یا ریا کاری ہے تاکہ لوگ اس کی تعریف کریں اور اس کی وجہ سے اس کی ثنا کریں تو اس کے ہبہ میں اس کے لئے کوئی نفع نہیں نہ دنیا میں بدلہ ہے اور نہ آخرت میں اجر ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : البقرہ 264)
جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے جو موہوب لہ سے بدلہ کا طالب ہے تو اس کے لئے وہ کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ابن قاسم کا مذہب ہے اگر وہ شخص جس کو وہ چیز ہبہ کے طور پر دی گئی وہ ہبہ کرنے والے کو ایسی چیز نہ دے جو اس کی قیمت کی حامل ہو یا اس سے زیادہ قیمت پر وہ راضی ہو تو ہبہ واپس کرسکتا ہے۔ حضرت عمر (رض) اور حضرت علی شیر خدا (رض) کے قول کا ظاہر وہی ہے۔
واضح میں مطرف کا قول بھی یہی ہے : ہبہ ایسی چیز ہو جس کی اصل قائم رہنے والیے ہو اگر زائد ہوجائے یا کم ہوجائے تو واہب کو اس میں رجوع کا حق ہے اگرچہ موہوب لہ اسے اس میں زیادہ دے ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب وہ ایسی چیز جس کی اصل باقی رہنے والی ہے وہ متغیر نہ ہو تو جو چاہے لے لے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے قیمت لازم ہوگی جس طرح نکاح تفویض میں ہوتا ہے اگر ہبہ کے فوت ہونے کے بعد مقابلہ ہو تو اس کے لئے بالا اتفاق قیمت ہی ہوگی، یہ ابن عربی کا قول ہے (3)
مسئلہ نمبر 4:
جمہور قراء سبعہ نے اسے پڑھا یعنی یاء کے ساتھ پڑھا۔ فعل ربا کی طرف منسوب ہے صرف نافع نے تاء کے ضمہ اور وائو کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یہ مخاطب کا صیغہ ہے معنی ہوگا تم زیادتی والے ہو، یہ حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری قتادہ اور شبعی کی قرأت ہے اب حاتم نے کہا : یہ ہماری قرأت ہے ابو مالک نے لتربوھا تانیث کی ضمیر کے ساتھ لکھا ہے وہ نہ بڑھتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ اس پر بدلہ دیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اسی کو قبول فرماتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہوتا ہے۔ سورة النساء میں یہ بحث گزر چکی ہے حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : سے مراد صدقہ ہے : تو یہ یہی وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے اور اسے دس گناہ یا اس سے زیادہ بڑھا دیتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (الحدید) فرمایا :
مفعفین کے معنی میں دو قول ہیں (1) ان کے لئے نیکیوں کو کئی گنا کردیا جاتا ہے جس طرح ہم نے ذکر کیا (2) ان کے لئے خیر اور نعمتوں کو کئی گنا بڑھا دے گا یعنی وہ اصحاب اضعاف ہیں جس طرح یہ کہا جاتا ہے فلان مصعف یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اس کے اونٹ طاقتور ہوں یا اس کے ساتھی طاقتور ہوں۔ فلا مسمن اس وقت کہا جاتا ہے جب اس کے اونٹ موٹے ہوتے ہیں فلان معطش اس وقت کہا جاتا ہے جب اس کے اونٹ پیاسے ہوں فلاں مضعف جب اس کے اونٹ کمزور ہوں اس معنی میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : (1) مخبث اسے کہتے ہیں جسے خبث لاحق ہو۔ یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں وہ خود رومی ہے فلاں مردنی اس کے ساتھ روی ہیں۔