ضمیمہ نمبر 3
(از جناب مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی مرحوم)
سود کی بحث میں علماء کے ایک گروہ نے یہ پہلو بھی اختیا رکیا ہے کہ ہندوستان دار الحرب ہے اور دار الحرب میں حربی کافروں سے سود لینا جائز ہے۔ جناب مولانا مناظر احسن صاحب نے ذیل کے مضمون میں اس پہلو کو پوری قوت کے ساتھ پیش فرمایا ہے اور ہم یہاں اسے اس لیے نقل کر رہے ہیں کہ یہ پہلو بھی ناظرین کے سامنے آجائے۔ اس مضمون پر مفصل تنقید ہم نے بعد کے باب میں کی ہے لیکن بعض امور کا جواب برسر موقع حواشی میں بھی دے دیا ہے۔ اس بحث کا مطالعہ کرتے وقت یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ یہ بحث 37۔ 1936میں ہوئی تھی۔
غیر اسلامی مقبوضات کے متعلق اسلامی نقطۂ نظر
غیر اسلامی مقبوضات کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ یا تو اس ملک میں اسلامی حکومت کبھی قائم نہیں ہوئی’ یا ہوئی’ لیکن بین الاقوامی کش مکش کے سلسلہ میں اس ملک پر غیر اسلامی قوتوں کا قبضہ ہوگیا۔ پہلی صورت میں تو ایسے ملک کے غیر اسلامی مقبوضہ اور غیر مسلم مملکت ہونے میں کیا شبہ ہے۔ غیر اسلامی حکومت کو اسلامی حکومت کون کہہ سکتا ہے؟ لیکن بحث ذرا دوسری صورت میں پیدا ہوجاتی ہے۔ قاضی القضاۃ للدولۃ العباسیۃ امام ابو یوسف اور مدوّن فقہ امام شیبانی کااس کے متعلق فتویٰ یہ ہے:۔
ان دار الاسلام تصیر دار الکفر بظہور احکام الکفر فیھا (بدائع الصنائع کاسانی ج 7 ص 13
دار الاسلام (اسلامی ملک) اس وقت دار الکفر (غیر اسلامی ملک) ہوجاتا ہے جب کہ غیر اسلامی (کفر کے) قوانین کا وہاں ظہور (نفاذ) ہوجائے۔
فتاوےٰ عالمگیریہ میں غیر اسلامی احکام کے ظہور کی شرح یہ کی گئی ہے:۔
ای علی الاشتہار و ان لا یحکم فیھا بحکم اھل الاسلام
یعنی علانیہ ظہور ہو اور اس ملک میں اہل اسلام کے قوانین سے فیصلے نہ کیے جائیں۔
مطلب یہ ہے کہ جس ملک میں اللہ کے کلام اور خاتم النبیین کے ارشادات گرامی سے اخذ کردہ قانون نافذ نہ رہے وہی ملک غیر اسلامی ملک اور وہی حکومت غیر اسلامی حکومت سمجھی جائے گی۔ خواہ وہاں کوئی قانون نافذ نہ ہو’ یا ہو تو غیر اسلامی دماغوں یا غیر اسلامی مستندات سے ماخوذ ہو۔ بہرحال جس ملک سے اسلامی حکومت کا قانون زائل ہوگیا اور اس میں غیر اسلامی قانون نافذ ہوگیا نہ وہ اسلامی ملک باقی رہتا ہے اور نہ وہ حکومت اسلامی حکومت سمجھی جا سکتی ہے۔ اور یہ تو پھر بھی ایک اجمالی تعبیر ہے’ امام الائمہ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے زیادہ وضاحت سے کام لے کر غیر اسلامی ملک کی حقیقی تنقیح ان لفظوں میں فرمائی ہے:۔
ان دار الاسلام لا تصیر دار الکفر الا بثلاث شرائط احدھا ظہور احکام الکفر فیھا الثانی ان تکون ملحقۃ بدار الکفر والثالث ان لا یبقی فیھا مسلم او ذمی امنا بالامان الاول۔بدائع الصنائع کاسانی ج7۔ ص 13)
‘‘دار الاسلام (اسلامی ملک) دار الکفر (غیر اسلامی ملک) تین شرطوں سے ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ کفر کے احکام (غیر اسلامی قوانین) کا وہاں ظہور (نفاذ) ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ کسی دار الکفر (غیر اسلامی ملک) سے متصل ہو۔ تیسرے یہ کہ اس ملک میں کوئی مسلمان یا ذمی اس امان کے ساتھ نہ ہو جو اسے پہلے حاصل تھی۔ ’’
یوں تو دنیا میں اس وقت زیادہ تر غیر اسلامی حکومتیں ہیں’ لیکن نہ ان کے واقعی حالات میرے سامنے ہیں اور نہ ان کی تمام خصوصیات کے متعلق میرے پاس کوئی شرعی شہادت موجود ہے۔ لیکن ہندوستان ہمارے سامنے موجود ہے۔ بطور مثال اسی ملک کو لینا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے غیر اسلامی ملک کی جو قانونی تنیقح فرمائی ہے وہ اس پر کس حد تک منطبق ہے۔
یہ ظاہر ہے کہ اس ملک میں شریعت کی نہیں بلکہ انگریزی قانون کی حکومت ہے۔ کلام اللہ اور احادیث نبویہ سے جو اسلامی قانون پیدا ہوتا ہے وہ یہاں قطعاً نافذ نہیں ہے بلکہ غیر اسلامی دماغوں (خواہ وہ ایک ہوں یا چند’ ہندی ہوں یا غیر ہندی) کے تجویز کردہ قوانین اس ملک میں نافذ ہیں۔ اس لحاظ سے تو اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے کہ غیر اسلامی احکام کا ظہور “نفاذ” جو امام رحمۃ اللہ علیہ کی تنقیح کی پہلی شرط تھی وہ اس پر بالکلیہ منطبق ہے۔
اسی طرح دوسری شرط کے انطباق پر بھی کون شبہ کرسکتا ہے’ جغرافیائی طور پر کس کو معلوم نہیں ہے کہ ہندوستان کے اکثر حدود غیر اسلامی ممالک اور حکومتوں سے متصل ہیں اور اس طرح متصل ہیں کہ بیچ میں کوئی اسلامی ملک واقع نہیں ہوتا۔ عالمگیری میں ہے:۔
عدم اتصال بان لا یتخلل بینہا بلدۃ من بلاد الاسلام۔ (منقول از شامی ص 277
‘‘عدم اتصال کا مطلب یہ ہے کہ دار الکفر اور دار الاسلام کے درمیان کوئی اسلامی شہر واقع نہ ہو۔ ’’
شمال اور مشرق تو خشکی حدود سے محدود ہیں۔ رہے دریائی حدود تو اولاً بالبداہۃ ان دریاؤں پر غیر اسلامی قوتوں کا کامل اقتدار موجود ہے۔ حتی کہ بغیر ان کی اجازت کے ان سمندروں میں کوئی دوسرا اپنا کوئی جہاز بھی چلا نہیں سکتا۔ اور بالفرض اگر
______________________________
ہندوستان قبل تقسیم
ایسا نہ بھی ہو تو صرف خشکی کا اتصال ہی تکمیل شرط کے لیے کافی ہے۔ نیز فقہائے اسلام کی عام تصریح سمندروں کے متعلق یہ ہے۔
ان بحر الملح ملحق بدار الحرب (شامی ص 277
دریائے شور کا شمار غیر اسلامی مقبوضات میں ہے
بہرحال جس طرح بھی سوچو’ اس شرط کی تحقیق میں بھی کوئی دغدغہ باقی نہیں ہے۔ امام رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی ایسے ملک پر غیر اسلامی حکومت قابض ہو جائے جو چاروں طرف سے اسلامی حکومت و اقتدار سے محصور ہو تو یہ قبضہ دیرپا اور ایسا نہیں سمجھا سکتا کہ اب اسلامی حکومت کا قیام وہاں مشکل ہے۔ فقہاء نے اس کی تصریح بھی کی ہے اور آگے ایک مسئلہ کے ذیل میں اس کا کچھ حصہ آئے گا۔
اب رہ گئی تیسری شرط’ تو ظاہر ہے کہ مختلف قوانین و تعزیرات کے ذیل میں اور قوموں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی یہاں آئے دن پھانسی دی جاتی ہے اور اس کی بالکل پرواہ نہیں کی جاتی کہ آیا اسلامی قانون کی رو سے بھی یہ شخص جانی امان کے دائرے سے نکل چکا ہے یا نہیں۔ اسی طرح یہاں کی عدالتیں عام طور پر موجودہ قوانین کی رو سے مسلمانوں کا مال دوسروں کو دلا رہی ہیں اور اس امر کا کوئی لحاظ نہیں کیا جاتا کہ اس شخص کا مال اسلامی قانون کی رو سے بھی دوسرے کو دلانا جائز ہے یا نہیں۔ روزمرہ لاکھوں اور کروڑوں روپے کے سود کی ڈگریاں عدالتوں سے جاری ہو رہی ہیں۔ اور ایک سود کیا ایسی بے شمار صورتیں ہیں جن میں اسلامی شریعت کے لحاظ سے ایک شخص کا مال مامون اور محفوظ سمجھا جاتا ہے لیکن ملکی قانون اس کا حق دار دوسروں کو سمجھتا ہے۔
یہ تو جانی اور مالی امان کا حال ہوا ۔ اب عزت کی امان کا حال دیکھو! مسلمانوں کو قید کی’ عبور دریائے شور کی’ جرمانہ کی’ تازیانے کی’ اور مختلف قسم کی سزائیں مختلف قانونی دفعات کے ذیل میں دی جاتی ہیں۔ لیکن کیا اس وقت اس کا بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اس سزا پانے والے کی عزت اسلامی قانون کی رو سے بھی اس سلوک کی مستحق ہوچکی تھی؟ میں نہیں کہنا چاہتا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو امن نصیب نہیں ہے۔ بلکہ میری مراد یہ ہے کہ انہیں اسلامی امن حاصل نہیں ہے’ کیونکہ امام ابو حنیفہ نے خود امان کی تشریح میں جو ارشاد فرمایا ہے وہ یہ ہے:۔
امنا بالامان الاول ھو امان المسلمین (بدائع
یعنی وہ امان جو مسلمانوں کے قانون کے لحاظ سے ہو۔
عالمگیری میں اس کی توضیح اور زیادہ کھلے لفظوں میں کردی گئی ہے۔
______________________________
فقہائے اسلام نے یہ بات اس زمانے میں لکھی تھی جب سمندروں میں بحری قزاقی کا زور تھا اور اسلامی حکومت کی بحری طاقت اتنی زبردست نہ تھی کہ بحری راستوں پر کامل اقتدار قائم کرسکے۔ اس چیز کو عام اور دائمی حکم قرار دینا کسی طرح درست نہیں۔ اگر آج کسی اسلامی حکومت کو سمندروں پر وہ اقتدار حاصل ہو جو مثلاً سلطنت برطانیہ کو حاصل ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم خود اس سے دست بردار ہوکر پانی کو دار الحرب سے ملحق کردیں۔ (مودودی
ای الذی کان ثابتا قبل استیلاء الکفار للمسلم باسلامہ وللذمی لعقد الذمۃ (منقول از شامی۔ ج 3۔ ص 277
یعنی غیر اسلامی حکومت کے تسلط سے پیشتر مسلمانوں کو اپنے اسلام کی وجہ سے اور ذمیوں کو عقد ذمہ کی وجہ سے جو امان تھی وہ باقی نہ رہے۔
اور واقع بھی یہی ہے کہ جس ملک میں غیر اسلامی قوتوں کی حکومت قائم ہوچکی ہےاور جس ملک میں غیر اسلام ی قوانین نافذ ہوچکے ہیں اس کو اسلامی ملک کہنا یا وہاں اسلامی راج ہونے کا دعویٰ کرنا ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔ دوسروں کے ملک کو’ دوسروں کی حکومت کو زبردستی اسلامی ملک فرض کرنے کی دنیا کی کونسی حکومت مسلمانوں کو اجازت دے سکتی ہے؟ بلکہ بالکل ممکن ہے کہ وہ اسے جرام قرار دے۔
اسلامی فقہاء کبھی کبھی اس ملک کی تعبیر دار الحرب سے کرتے ہیں۔ غالباً اسی سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی۔ ورنہ واقعہ یہ ہے کہ متقدمین علماء اسلام زیادہ تر ایسے ممالک کے متعلق دار السلام کے مقابلہ میں دار الکفر کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ ابھی ابھی صاحب بدائع کی عبادت گزر چکی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں عموماً دار الکفر کی اصطلاح لکھی ہے جس کے سیدھے اور سادے معنی یہ ہیں کہ “جہاں اسلامی حکومت نہ ہو” آخر جہاں اسلامی حکومت نہ ہوگی’ جو ملک مسلمانوں کے قبضہ میں نہ ہوگا’ اس کو کیا مسلمان مسلمانوں کی حکومت اور مسلمانوں کا ملک کہہ دیں؟ لفظوں پر چونکنے کا یہ عجیب لطیفہ ہے۔ یہ تو پہلے سوال کا جواب تھا۔ اب دوسرے سوال کی تفصیل سنیے۔
غیر اسلامی حکومتوں میں مسلمانوں کی زندگی کا دستور العمل
اسلام مسلمانوں کو آزاد فرض کرتا ہے اور ازادی کو ان کا فطری اور آسمانی حق قرار دیتا ہے۔ لیکن فقہائے اسلام نے یہ فرض کرکے اگر عارضی طور پر کسی مسلمان کو غیر اسلامی حکومتوں میں کسی وجہ سے جانے اور رہنے کی ضرورت پیش آئے تو اس وقت اس حکومت کے باشندوں سے اس کے تعلقات کی کیا نوعیت ہوگی’ اسلامی قانون کی صراحت کردی ہے۔ ظاہر ہے کہ قانونی طور پر اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ اس مسلمان نے اس ملک کی حکومت سے اس امر کا معاہدہ کیا ہے کہ وہ اس ملک کے قوانین نافذہ کی پابندی کرے گا’ یعنی امن و امان میں خلل انداز نہ ہوگا۔ شریعتِ اسلامیہ کی اصطلاح میں ایسے مسلمان کو “مسلم مستامن” کہتے ہیں۔ قرآن پاک کے معاہدے کے متعلق عام قانون یہ ہے:۔
والذین ھم لعھدہم راعون۔ اوفوا بالعقود۔
کامیاب مسلمان وہ ہیں جو اپنے وعدوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ معاہدوں کی پابندی کرو۔
اسلام نے “معاہدہ” کو مسئولیت اور ذمہ داری کے ساتھ بشدت وابستہ کردیا ہے اور یہ تو عام معاہدوں کے متعلق تعلیم ہے۔ خصوصیت کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کے متعلق ایک واضح قانون ان لفظوں میں مسلمانوں پر عائد کیا گیا ہے۔
الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوكُمْ شَيْئًا وَلَمْ يُظَاهِرُواعَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ (التوبۃ:٤
‘‘جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا پھر انہوں نے اس معاہدہ کے کسی حصہ کو نہیں توڑا اور تمہارے مقابلہ میں کسی دوسرے کی انہوں نے مدد نہیں کی تو ان کے عہد کو پورا کرو۔ ’’
اس وقت اس کی تفصیل کا موقعہ نہیں کہ ‘‘عدم عہد “یا غیر اقوام کے “نقض عہد” پر کیا احکام مترتب ہوتے ہیں۔ یہاں “قانونِ معاہدہ” کی صرف اس دفعہ کو پیش کرنا ہے جس کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے ان کے معاہدوں کی تکمیل لازمی اور ضروری ہوجاتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بھی تفصیل فرما دی ہے کہ جو مسلمان معاہدہ کو توڑے گا مذہبی حیثیت سے اس کا کیا انجام ہوگا۔
:ارشاد نبویﷺ ہے
ان الغادر ینصب لہ لواء یوم القیمۃ فیقال انہ غدرۃ فلان (ابو داؤد
معاہدہ توڑنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا کہ یہ پیمان شکنی کا نشان فلاں شخص کا ہے۔
و فی روایۃ لکل غادر لواء یرکز عند باب استہ یوم القیمۃ یعرف بہ غدرہ
ایک دوسری روایت میں ہے کہ پیمان شکن کے مقام مخصوص پر نشان گاڑا جائے گا۔ اور اسی سے وہ قیام تکے روز پہچانا جائے گا۔
:جب لشکر کو رخصت فرماتے تو امراء جیوش کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ وصیت فرماتے
لاتغدوا ولا تغدروا
دیکھنا کسی کے ساتھ خیانت نہ کرنا اور معاہدہ نہ توڑنا
یہی وجہ ہے کہ علماء اسلام نے نقض عہد کی اجماعی حرمت کا فتویٰ دیا ہے۔
ابن ہمام فرماتے ہیں:۔
الغدر حرام بالاجماع (فتح القدیر ج5 ص 336
عہد شکنی (غدر) کے متعلق اجماع ہے کہ وہ حرام ہے۔
مسلمانوں کی بے نظیر امن پسندی
ظاہر ہے کہ “قانون معاہدہ” کی ان تحقیقوں کے بعد جو مسلمان کسی غیر اسلامی حکومت سے امن کا معاہدہ کرنے کے بعد اس کی قلمرو میں بحیثیت “مستامن” رہتا ہے اس کی ذمہ داریاں کتنی سخت ہوجاتی ہیں۔ ہدایہ میں ہے:۔
اذا دخل المسلم دار الحرب فلا یحل لہ ان یتعرض لشیء من اموالھم ولا من دمائھم لانہ ضمن ان لا یتعرض بھم بالاستمان
یعنی مسلمان جب کسی غیر اسلامی ملک (دار الحرب) میں داخل ہو تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہاں کے باشندوں کے مال یا جان سے وہ کوئی تعرض کرے۔ کیونکہ وہ اس کا ضامن ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا اور یہ ذمہ داری معاہدہ امن کا نتیجہ ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب کسی حکومت سے کوئی معاہدہ کرنے کے بعد اس کی سرزمین میں داخل ہو تو اس حکومت نے دوسروں کے جان و مال’ عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے جو قوانین نافذ کیے ہوں ان کی خلاف ورزی کرنا اس کے لیے قطعاً ناجائز ہے۔ جس کے افعال کو اس غیر اسلامی حکومت نے خلافِ قانون قرار دیا ہو ان کے ارتکاب کی وجہ سے وہ نہ صرف قانوناً ہی مجرم ہوگا بلکہ “قانون معاہدہ” کی رو سے وہ غدر کا مرتکب بھی ہوگا۔ اسلام کا’ قرآن کا’ خدا کا مجرم ہوگا’ گناہ گار ہوگا’ ایک ایسے فعل کا مرتکب ہوگا جس کی حرمت’ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے۔ کیا کوئی ہے جو اپنے مذہب میں بھی غیر اقوام کے قانون و آئین کی پابندی کو اس قدر ضروری ثابت کرسکے۔ مسلمانوں پر بد امنی کا الزام ہے لیکن لوگوں کو معلوم نہیں کہ ان سے زیادہ امن پسند اور پابند آئین و قانون قوم دنیا میں کوئی نہیں۔
فای الفریقین احق بالامن ان کنتم تعلمون
بعض علمائے اسلام نے غالباً اسی بنیاد پر یہ فتوی دیا ہے کہ جو شخص ڈاک کے خطوں میں مقررہ وزن سے زیادہ وزن بغیر محصول ادا کرنے کے اضافہ کرتا ہے’ اور جو ریل پر مقررہ وزن سے زیادہ وزن کا اسباب لے جاتا ہے’ صرف قانون وقت ہی کا نہیں بلکہ عنداللہ بھی مجرم ہے’ اپنے مذہب کا مجرم ہے۔
بین الاقوامی قانون کا ایک اہم سوال
یہاں بین الاقوامی قانون کا ایک اہم سوال ہے جس کی توضیح کی سخت ضرورت ہے۔ عموماً اس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں میں مختلف قسم کی غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ ممکن ہے کہ دوسرے قوانین میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہو۔ لیکن بین الاقوامی قوانین کے ذیل میں اسلامی قانون نے اس سوال کو اٹھایا ہے۔ مختلف اقوام مختلف اوقات میں موقع پا کر ایک دوسرے پر چڑھائیاں کرتی ہیں۔ ایک قوم دوسری قوم کے جان و مال’ مملوکات و مقبوضات پر حملہ بول دیتی ہے۔ اس وقت ہمیں اس سے بحث نہیں کہ یہ حملہ جائز ہے یا ناجائز’ اور جائز ہے تو کن صورتوں میں’ بلکہ اس وقت ہمارے پیش نظر یہ سوال ہے کہ ایک قوم نے جو دوسری قوم کے مملوکات پر اس طرح قبضہ کرلیا’ آیا یہ قبضہ مفید ملک صحیح ہے’ یعنی قبضہ کرنے والا کیا قانونی اور مذہبی حیثیت سے اس کا مالک ہوگیا؟ ایک پکے دین دار آئینی مسلمان کو اس سوال کے حل کی ضرورت عموماً اس وقت پیش آجاتی ہے جس وقت مثلاً فرض کیجیے کہ کسی انگریز کو جنگ میں جرمنی یا اور کسی قوم کا مال ملا اور انگریز اس کو کسی مسلمان کے ہاتھ فروخت کرنا چاہتا ہے ۔ دوسری قوموں کو اس سے بحث ہو یا نہ ہو لیکن مسلمان اپنی کسی ملک کو اس وقت صحیح ملک نہیں سمجھتا جب تک کہ اسلامی قانون اس کی صحت کا فتوی نہ دے۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اپنی شریعت سے پوچھے کہ آیا انگریز جرمنی کے اس مال کا مالک ہوا یا نہیں؟ اگر ہوگیا ہے تو اس کا بیچنا اور ہمارا خریدنا اور خرید کر اپنے تصرف میں لانا صحیح ہوگا ۔ لیکن اگر انگریز خود ہی ناجائز مالک بنا ہے تو اس کو بیچنے کا حق نہیں۔ اور جب اسی کو بیچنے کا حق نہیں تو میں خریدنے کے بعد اس کا کس طرح مالک ہوجاؤں گا؟ بہرحال یہ بین الاقوامی قانون کا ایک نہایت دلچسپ سوال ہے۔ فقہائے اسلامی نے اس کے متعلق ابواب قائم کیے ہیں اور اس کے جزئیات کی انہوں نے کافی تفصیل کی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس مسئلہ کی چند صورتیں ہیں۔
ایک تو یہ ہے کہ اگر کسی غیر مسلم قوم کے مملوکات پر اس طرح قبضہ کیا گیا ہے تو اسلام اس قبضہ کے بعد قبضہ کرنے والے کو مال کا مالک صحیح قرار دیتا ہے۔ فتح القدیر میں ہے:۔
اذا غلب الترک علی کفار الروم فسلبوھم واخذوا اموالھم ملکوھا۔ (ج 3 ص 154
اگر ترکی کے کفار یورپ کے کافروں پر قبضہ پا لیں اور ان کو لوٹ لے جائیں’ ان کے مال لے لیں تو وہ اس کے مالک ہوجائیں گے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو مسلمان کے مملوکات پر کامل قبضہ حاصل ہو گیا۔ اس صورت میں بھی امام مالک’ امام احمد اور ہمارے ائمہ ابو حنیفہ وغیرہ رحمہم اللہ کا فتوی یہ ہے ۔
اذا غلبوا علی اموالنا والعیاذ باللہ واحرزوھا بدارھم ملکوھا۔ (ھدایہ
اور اگر کفار ہمارے یعنی مسلمانوں کے مال پر بھی خدانخواستہ قابو پا لیں اور اس کو اپنے ملک میں لے جائیں تو وہ اس کے مالک ہوجائیں گے۔
پس یہی نہیں کہ غیر مسلم ایسی صورت میں صرف غیر مسلم ہی کے مملوکات کا جائز اور صحیح مالک ہوجاتا ہے’ بلکہ اگر کافر کو مسلمان کے مالوں پر بھی اس طرح کامل قبضہ حاصل ہوجائے تو اسلام اس ملک کی بھی تصحیح کرسکتا ہے اور کافر کو اس مال کا مالک جائز قرار دیتا ہے۔ کیا یہی اسلام کی ناروا داری ہے؟
اموال معصومہ و غیر معصومہ اور ان کی اباحت و عدم اباحت
چونکہ ثانی الذکر مسئلہ میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو دوسرے ائمہ سے اختلاف ہے اس لیے فقہاء نے قرآن و حدیث اور مختلف اسلامی مستندات سے اس قانون کے خالص اسلامی قانون ہونے کے نہایت واضح ثبوت پیش کیے ہیں۔ لیکن مضمون طویل ہوتا
______________________________
آئندہ اس کا خیال رہے کہ میں غیر مسلم سے ہمیشہ ان لوگوں کو مراد لیتا ہوں جو مسلمان نہ ہوں اور نہ کسی اسلامی حکومت نے ان کی جان و مال کی ذمہ داری اپنے سر لی ہو۔ (فاضل گیلانی
جاتا ہے اس لیے اس کے نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں اسی موقع پر صرف اس قانونی تنقیح کو پیش کرتا ہوں جس کو قرآن و حدیث سے حاصل کیا گیا ہے:۔
ان الاستیلاء ورد علی مال مباح فیصیر سبیلا للملک۔ (ھدایہ۔ ص 255
جائز اور مباح مال پر کفار کا قبضہ ہوا ہے اس لیے یہ قبضہ ملک کا سبب بن جائے گا۔
مطلب یہ ہے کہ مسلمان کا مال مسلمان کے لیے تو بلاشبہ معصوم اور محفوظ ہے’ ہر مسلمان ذمہ دار ہے کہ دوسرے مسلمان کے مال کو بلاوجہ نہ لے۔ لیکن غیر قوموں پر یہ قانون عائد نہیں ہوتا۔ ان کے لیے تو یہ مباح ہوگا۔ چنانچہ شامی میں ہے:۔
لان العصمۃ من جملۃ الاحکام المشروعۃ و ھم لم یخاطبوا بھا فبقی فی حقھم ما لا غیر معصوم ای ھو مباح یملکونہ (ج 3۔ ص 267
کیونکہ عصمت تو ایک اسلامی قانون ہے۔ غیر اسلامی ملک کے باشندے اس قانون کے محکم نہیں ہیں۔ لہذا مسلمانوں کا مال ان کے حق میں معصوم نہیں ہے’ یعنی وہ ان کے لیے جائز اور مباح ہے پس وہ اس کے مالک ہوجائیں گے۔
اب قدرتی طور پر تیسری صورت سامنے آجاتی ہے کہ اسی طرح اگر کسی مسلمان نے غیر مسلم مقبوضات و مملوکات پر قبضہ کرلیا تو وہ اس کا مالک ہوگا یا نہیں؟ اس بین الاقوامی قانون کے اصول سے اس کا جواب بالکل ظاہر ہے۔ جب غیر مسلم مسلمان کے مال کا مالک ہوجاتا ہے تو آخر مسلم کو بھی یہ حق مذہباً و دیناً و خلاقاً و قانوناً کیوں نہ دیا جائے گا؟ بدائع میں ہے:۔
مال الحربی مباح لانہ لا عصمۃ لمال الحربی (ص 132 کاسانی
یعنی غیر مسلم جس کی جان و مال کی ذمہ دار کوئی اسلامی حکومت نہیں ہے اس کا مال مباح ہے کیونکہ ایسے غیر مسلم کا مال معصوم نہیں ہے۔
کیسی عجیب بات ہے کہ جن قوموں نے اپنی جان و مال کی ذمہ داری مسلمانوں کے سپرد نہیں کی ہے’ اسلام کی حفاظت اور ذمہ داری سے جنہیں انکار ہے’ اگر اسلام بھی ان کی ذمہ داریوں سے انکار نہ کرے تو آخر وہ کیا کرے؟ تم اگر خدا سے براءت کا اعلان کرتے ہو تو خدا بھی تمہاری جان و مال کی ذمہ داری سے براءت کا اظہار کیوں نہ کرے؟ اس لیے قرآن پاک میں ہے:۔
ان اللہ بریٔ من المشرکین
‘‘شرک کرنے والوں سے خدا بری ہے۔’’
اس کے سوا کوئی اور صورت کیا ہوسکتی تھی؟ جب دنیا کی تمام قومیں موقع اور قوت پا کر مسلمانوں کی جان و مال اور مملوکات پر قبضہ کرلیتی ہیں جیسا کہ قرآن کا خود بیان ہے کہ:۔
و ان یثقفوکم یکونوا لکم اعداء و یبسطوا الیکم ایدیہم والسنتہم بالسوء و ودّوا لوتکفرون۔ (الممتحنہ
‘‘اگر تم پر ان کو قابو مل جائے تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں۔ اپنے ہاتھ چھوڑیں’ زبان سے برائی پہنچائیں’ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ کاش تم بھی خدا کے ناشکرے بن جاؤ۔ ’’
تو کیا اس قرآنی اور واقعی حقیقیت کے بعد یہ ظلم نہ ہوتا اگر مسلمانوں کا مذہب ان کو بھی اس کی اجازت نہ دیتا؟ قرآن نے اگر اس کے بعد یہ حکم دیا ہے کہ:۔
قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر و لایحرمون ما حرم ولا یحرمون ما حرم اللہ و رسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اوتوا الکتاب۔ (الایۃ
‘‘مقاتلہ کرو ان لوگوں سے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا اور نہ سچے آئین اور دین کو اپنی زندگی کادستور العمل بناتے ہیں ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی۔ ’’
تو کیا اس کا مفاد اس کلیہ سے زائد ہے جو ابھی اسلامی فقہاء کی تنقیح میں گزر چکا ۔ یعنی مسلمانوں کا مال’ مسلمانوں کے مملوکات جس طرح غیر مسلم اقوام کے لیے خود اسلامی قانون کی رو سے مباح ہیں اسی طرح وہ اور ان کے اموال بھی اللہ اور اس کے رسول کی شریعت اور قانون کی رو سے مباح اور حلال ہیں۔ اگر مسلمان اس پر قبضہ کرلیں گے تو اس کے صحیح مالک اور ہر قسم کے تصرفات مجاز و مختار ہوں گے۔
______________________________
یہ خیال کرناکہ براءت اور مقاتلہ کا حکم صرف ان غیر مسلموں کے ساتھ مخصوص ہے جو قتالی اور مصافی ہیں’ لیکن جو غیر مسلم قوم مسلمانوں سے جنگ نہیں کرتی اور نہ ان کی ذمی ہے اس کے لیے یہ حکم نہیں ہے’ قرآن اور حدیث سے جہل کا نتیجہ یہ ہے۔ آخر “یعدکم احدی الطائفتین” میں خدا نے غیر مصافی قافلہ تجار کا بھی وعدہ کیا تھا یا نہیں؟ صحابہ کا ارادہ بھی یہی تھا۔ اگر ایسا کرنا حرام تھا تو قرآن کو ٹوکنا چاہیے تھا۔ صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں بھی ابوبصیر صحابی اور ان کے رفقاء کا گزر صرف تجارتی قافلہ کے اموال غیر معصومہ پر ہوا تھا۔ حضرت ابو ذر بھی ایک زمانہ میں یہی کھاتے تھے۔ بہرحال قتالی ہو یا غیر قتالی ’ امیر کا اذن ہو یا نہ ہو’ غیر ذمی کفار مباح الدم والاموال ہیں۔ ابوبکر جصاص اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:۔
ولا نعلم احداً من الفقہاء یحظر (یمنع) قتال من اعتزل قتالنا من المشرکین
صحیح مسلم میں ایک حدیث ہے۔
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ایما قریۃ اتیتموھا فافتسمتم فیھا و ایما اقریۃ غنمہ اللہ و رسولہ فان خمسہا للہ و رسولہ ثم ھی لکم
اس کی شرح میں عیاض لکھتے ہیں۔
ان المراد بالقریۃ الاولی ھی التی لم یوجف علیہا المسلمون بخیل ولا رکاب بل اجلی عنہا اھلہا و صالحوا فیکون سہمہم فیھا کما تقر فی الفیئ ۔ (سبل السام بفاضل کیلانی)
حاشیہ از مودودی۔ یہاں مولانا سے بڑی چوک ہوئی کہ انہوں نے محارب (Lellic urtant) اور غیر محارب None belliverant)کے فریق کو بالکل ہی نظر انداز کردیا۔ محارب وہ قوم ہے جو مسلمانوں سے برسرِ جنگ ہو۔ ایسی قوم کا کوئی فرد یا گروہ بالفعل مقاتل (Combatant) ہو یا نہ ہو’ بہرحال اس کا مال مباح ہے۔ ہم اس کے تجارتی قافلوں کو گرفتار کرسکتے ہیں۔ اس کے افراد ہماری زد میں آئیں گے تو ہم ان کو پکڑیں گے اور ا ن کے اموال پر قبضہ کرلیں گے ۔ مولانا نے جتنی مثالیں پیش کی ہیں وہ سب اسی قبیل کی ہیں۔ لیکن جو قوم ہم سے برسرِ جنگ نہیں ہے’ وہ خواہ معاہد ہو یا نہ ہو اس کے اموال ہمارے لیے مباح نہیں ہیں۔ قرآن میں تصریح ہے کہ “لا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین و لم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیہم (الممتحنہ:2)۔ یہ بات عین مقتضائے عقل و انصاف ہے ۔ ورنہ اگر مسلمانوں کے لیے مطلقاً ہرغیر ذمی کافر کا مال مباح ہو’ جیسا کہ مولانا کے بیان سے ظاہر ہورہا ہے’ تو مسلمانوں کی قوم اقوام عالم کے درمیان امت وَسَط ہونے کے بجائے ایک لیٹری قوم بن جائے گی۔ غیر قوموں پر ڈاکے مارنا ’ اس کا پیشہ قرار پائے گا اور دنیا میں اس کا وجود ایک بلائے عام بن جائے گا۔ رہا یہ سوال کہ جب غیر مسلم مسلمانوں کے مال پر ظالمانہ قبضہ کرکے
عود الی المقصود
بہرحال اصلی بحث یہ تھی کہ غیر اسلامی ملک میں مسلمانوں کی زندگی کا دستور العمل کیا ہونا چاہیے اور وہاں کے باشندوں کے ساتھ ان کے تعلقات کی کیا نوعیت ہوگی۔ بیچ میں ایک مسئلہ کا ذکر آ گیا۔ بات تو بہت عام تھی لیکن تصحیح خیالات کے لیے مجھے اصلی بحث سے تھوڑی دیر کے لیے دور جانا پڑا۔ اب میں پھر اپنے اصلی مدعا کی طرف آتا ہوں۔
میں عرض کرچکا ہوں کہ “مستامن مسلمان” کے لیے فرض ہے کہ جس غیر اسلامی حکومت میں وہ امن کی ضمانت لے کر داخل ہوا ہے وہاں کے مروجہ قوانین کی سختی سے پابندی کرے۔ کسی کے مال و جان’ عزت و آبرو پر حملہ کرکے قانون وقت کو توڑنا غدر ہے۔ اور غدر قرآناً و حدیثاً و اجماعاً حرام ہے۔ الغرض قانون وقت کی پابندی اس کا ایک مذہبی فریضہ ہے۔ میں کہہ چکا ہوں کہ قانونِ ملکی کے خلاف لفافہ میں نصف ماشہ کا بھی اضافہ یا ریل کے سامان میں پاؤ سیر کی زیادتی بھی اس کے لیے ناجائز ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں سے زیادہ امن پسند قوم مذہبی حیثیت سے کوئی نہیں ہوسکتی۔
لیکن سوال اس وقت ہوتا ہے جب کہ “اسلامی قانون” کی رو سے ایک ایک فعل ناجائز ہے۔ مثلاً یہی سود کا مسئلہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے کسی دوسرے مال لینا اسلام میں قطعاً حرام ہے’ مگر غیر اسلامی قانون میں اس ذریعہ سے تحصیل مال کی اجازت ہے بلکہ حکومت بھی بڑے وسیع پیمانے پر مختلف صورتوں میں اس کا کاروبار کرتی ہے ۔ ایسی صورت میں مسلمان کو کیا کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں اگر وہ “مستامن مسلمان” اس ذریعہ سے اس ملک کے غیر مسلم باشندے کا مال حاصل کرتا ہے تو نقض معاہدہ یا قانون شکنی یا غدر کا تو وہ قطعاً مرتکب نہیں ہے اور اس لحاظ سے مذہبی طور وہ قانون معاہدہ کا قطعاً مجرم نہیں۔
اب رہ گئی یہ بحث کہ کیا اس نے کسی دوسرے سے ایسے مال کو حاصل کیا ہے جس کے لینے کا گو قانون ملکی نے اسے مجاز گردانا ہے لیکن مذہب یا خدا اس کے لینے سے روکتا ہے؟ یا یوں کہو کہ کیا اس نے ایسا مال حاصل کیا ہے جو قانوناً نہ سہی لیکن اسلام کی رو سے وہ مباح نہ تھا بلکہ معصوم تھا؟ ابھی شریعت (اسلامی قانون) بلکہ قرآن سےگزر چکا ہے کہ اس قسم کا مال مسلمان کے لیے مذہباً غیر معصوم اور مباح ہے پھر
______________________________
اس کا مالک ہوسکتا ہے تو مسلم بھی کیوں نہ اس کے مال پر قبضہ کرنے کا مجاز ہو’ تو یہ بھی درحقیقت حالت جنگ سے تعلق رکھتا ہے۔ حالت امن میں اسلام اپنی رعایا کو دوسری غیر محارب قوموں پر ڈاکہ زنی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہاں اگر دوسری قوم کے افراد مسلمانوں پر ڈاکہ زنی کی ابتدا کریں تو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان حالت جنگ قائم ہوجائے گی اور اس وقت مسلمانوں کے لیے ان کے اموال اور خون مباح ہوجائیں گے۔ قرآن میں جہاں مشرکین سے اعلان براءت کیا گیا ہے وہاں صاف طور پر یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ وھم بدؤوکم اول مرۃ۔یعنی ظلم کی ابتدا ان کی طرف سے ہوئی تھی۔ پس مسلمان اپنی طرف سے سلب و نہب کی ابتداء نہ کریں گے۔ بلکہ جب ابتداء دوسروں کی طرف سے ہوگی تو وہ معاہدہ کی صورت میں فانبذ الیھم علی سواء پر پہلے سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اعلانِ جنگ پر عمل کریں گے۔ اس کے بعد تمام قوم حربی قرار پائے گی اور اس کے اموال اور خون مباح ہوجائیں گے۔
اگر مولانا کی اس تعبیر قانون کو مان لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہندوستان میں کسی غیر مسلم کے مال کو لوٹنے یا چرا لینے یا رشوت و خیانت کے ذریعہ سے لینے والا مسلمان صرف قانون ملکی کا مجرم ہوگا اور مذہباً
ایک مسلمان کیا کرے؟ قرآن اور مذہب جس کو غیر معصوم اور مباح کہتا ہے کیا وہ اپنے مذہب سے روگردانی کرکے اس کو معصوم اور غیر مباح کہہ دے؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ جس مال کو نہ قانون ناجائز قرار دیتا ہے اور نہ شریعت حرام قرار دیتی ہے بلکہ اس کے لینے کا حکم دیتی ہے’ غریب مسلمان آخر اس جائز کو کس طرح ناجائز اور اس حلال کو کس طرح حرام کردے؟ کیا وہ سلطنت کے قانون سے بغاوت کرے؟ یا شریعت کے حکم کو توڑے؟ کیا اس کے بعد مسلمان کے لیے کہیں بھی پناہ ہے؟
اسلامی قوانین کا یہی وہ اضطراری مقتضا ہے کہ شریعت اسلامیہ کے سب سے محتاط’ بلکہ بقول بعضِ عوام’ سخت غیر امام’ امام الائمہ’ قدوۃ الاتقیاء قائم اللیل’ التابعی المجتہد المطلق امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فتوی نہایت بین اور غیر مبہم واضح لفظوں میں امام محمد نے “سیر کبیر” میں نقل فرمایا ہے۔
و اذا دخل المسلم دار الحرب بامان فلا باس بان یاخذ منھم اموالھم بطیب انفسہم بای وجہ کان لانہ انما اخذ المباح علی وجہ عری عن الغدر فیکون ذالک طیبا لہ۔ (منقول از شامی ص 21 ج 4 مطبوعہ مصر
جب مسلمان دار الحرب (غیر اسلامی ملک ) میں ان کا معاہدہ کرکے داخل ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہاں کے باشندوں (غیر مسلم) کی مرضی سے ان کا مال لے خواہ ذریعہ کوئی بھی ہو کیونکہ اس نے ایک مباح مال کو لیا ہے اور ایسے ذریعہ سے لیا ہے جو قانون شکنی (غدر) سے پاک ہے تو یہ مال اس کے لیے پاک اور طیب ہے۔
______________________________
اگر اسے گناہ گار سمجھا جائے گا تو صرف اس بنا پر کہ اس نے قانون معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے نہ کہ ان احکام اسلام کی جن میں ان افعال کو بجائے خود حرام کیا گیا ہے۔ نیز اگر کسی غیر مسلم حکومت میں کوئی مسلمان عورت العیاذ باللہ فحش کاری کا پیشہ اختیار کرے اور غیر مسلموں سے زنا کی اجرت لے تو ایسا مال بھی اس کے لیے حلال و طیب ہوگا۔کیونکہ جب غیر مسلم حکومت کا قانون اس کے اس پیشہ کو جائز رکھتا ہے اور اسے فاحشہ گری کا لائسنس دے دیتا ہے تو وہ قانونِ معاہدہ کی خلاف ورزی کی مجرم نہیں ہے’ اور جب اسلامی شریعت غیر ذمی کافر کے مال کو حلال قرار دیتی ہے۔ خواہ کسی صورت سے اس مال کو لیا جائے تو وہ شریعت کی رو سے بھی حرام خوری کی مجرم نہ ہوئی۔ ممکن ہے کہ مولانا اس نتیجہ کو نہ مانیں مگر ان کے طرز استدلال کا منطقی نتیجہ تو یہی ہے۔ (مودودی)
دار الحرب سے مراد در اصل ایسا ملک ہے جو مسلمانوں سے برسرِ جنگ ہو جس سے سلطنت اسلامی کی مسلم رعایا کے افراد حالتِ جنگ میں بطور خود امان (Safe Conduct of Trade Liciencist ) لے کر غیر معاندانہ کاروبار (Non-Hostile) کے لیے جائیں۔ حنفی قانون کی اس دفعہ کو ایسے دار الکفر پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا جہاں مسلمانوں کی ایک قوم محارب مستامن کی حیثیت سے نہیں بلکہ رعایا کی حیثیت سے آباد ہو اور اسے اپنی حد تک اپنے پرسنل لاء کی پابندی کا حق بھی حاصل ہو۔ مولانا کے نظریہ کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ ہر غیر ذمی کافر کو حربی (Enemy) اور ہر غیر مسلم مقبوضہ کو دار الحرب (Enemy Country) سمجھ رہے ہیں۔ یہ اسلام کے بین الاقوامی قانون کی بالکل غلط تعبیر ہے۔ غیر مسلم کا مال اور خون صرف حالت جنگ میں مباح ہے’ اور وہ بھی اسلامی سلطنت کے لیے نہ کہ خود اس غیر مسلم سلطنت کی مسلم رعایا کے لیے جس کو آپ حربی قرار دے رہے ہیں۔ حنفی قانون کا منشا صرف اس قدر ہے کہ جب کوئی مسلمان دشمن کے ملک میں امان لے کر جائے تو وہاں وہ عقود فاسدہ پر بیع و شرا کرسکتا ہے۔ یہ اجازت دو وجوہ پر مبنی ہے۔ ایک یہ کہ دشمن کا مال فی الاصل مباح ہے۔ جب اس کو بجبر چھین لیا جا سکتا ہے تو عقد فاسد کے ذریعہ سے حاصل کرنا تو بدرجہ اولی جائز ہونا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ جنگ کی حالت ایک اضطراری حالت ہے اور اضطرار میں حرام حلال ہوجاتا ہے۔ (مودودی)
ان الفاظ کی عمومیت محل نظر ہے۔ اگرچہ امام محمد ہی نے یہ لکھا ہو’ مگر اس کو بلا کسی قید و شرط کے نہیں مانا جا سکتا’ ورنہ جائز ہوگا کہ مسلمان دار الحرب میں جا کر شراب فروشی شروع کردے یا قحبہ خانہ کھول دے یا کوئی مسلمان عورت قحبہ گری کا پیشہ کرنے لگے۔ (مودودی)
ظاہر ہے کہ یہ فتویٰ اس عہد تاریک کا نہیں ہے جس وقت مسلمان محکوم تھے۔ جس زمانہ میں امام رحمۃ اللہ علیہ نے شریعت سے اس قانونی دفعہ کو پیدا کیا تھا’ غالباً اس وقت کسی کے حاشیہ خیال میں بھی مسلمانوں کے اعمال و افعال عقائد و رسوم کی وہ “زشتی” نہ تھی جو “نادر یورپ” کی صورت میں یکایک ظاہر ہوگئی’ یہاں تک عباد صالحین نے قوم عابدین کو عبادت کے کٹہرے کی طرف بھگانے کے لیے اپنی میراثوں میں’ غوثی و قطبی میراثوں میں’ ان شیروں کو کچھاروں سے چھوڑ دیا جو سب پر رحم کرسکتے ہیں’ لیکن جن کا فریضہ عبادت تھا ان کے پاس ان کے لیے کوئی رحم نہیں ہے اور کہیں نہیں ہے۔ فقہاء جب اس مسئلہ کا ذکر کرتے ہیں کہ کسی اسلامی مقبوضہ پر فرض کرو کہ غیر اسلامی حکومت قابض ہوجائے تو بطور جملہ معترضہ کے عیاذاً باللہ کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ یعنی اس مفروضہ کو بھی وہ فرض کرنے سے گھبراتے ہیں۔ ایسی صورت میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امام اعظم نے کسی وقتی ضرورت کے آگے نہیں بلکہ کتنی شریعت کی مجبوریوں کے آگے گردن جھکا دی تھی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ صرف قرآن ہی نہیں بلکہ خود جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس فتویٰ کی عملی تصدیق صحیح روایتوں سے ثابت ہے۔ جس وقت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روم و ایران کی باہمی آویزشوں کے زمانہ میں قرآن مجید کی پیش گوئی پر اصرار کرتے ہوئے ایک غیر اسلامی ملک یعنی مکہ مکرمہ میں (جو اس وقت حکومت اسلامیہ کے تحت نہ تھا) قریش سے یہ شرط لگائی کہ قرآن ہی کی پیش گوئی پوری ہوگی۔ تو جب وہ پوری ہوئی تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کے اونٹ لینے کا حکم دیا اور یہ اونٹ وارثوں سے وصول کیے گئے (ترمذی)۔ فقہاء اسلام اس عمل سے اس قانون کی توثیق کرتے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اس قسم کی “شرط” صریح قمار (جوا) ہے جس کی حرمت قطعی نصوص سے ثابت ہے ۔
غالباً امام ابوحنیفہ کے حاشیہ خیال میں یہ بات بھی نہ تھی کہ جو حکم انہوں نے دشمن کے ملک میں امان لے کر جانے والے مسلمان تاجروں یا سیاحوں کے لیے بیان کیا تھا اس کو غیر اسلامی مقبوضات میں مستقلاً رہنے والے ان کروڑوں مسلمانوں پر چسپاں کیا جائے گا جو غیر مسلم حکومت کے ماتحت اتنی آزادی ضرور رکھتے ہیں کہ اسلام کے معاشی و تمدنی احکام کی پابندی کرسکیں۔ امام صاحب نے جو قانون بیان فرمایا ہے وہ صرف ایسے دار الحرب (برسرِ جنگ علاقے) کے متعلق ہے جس میں دار الاسلام کا کوئی مسلمان کاروبار کے لیے امان لے کر جائے۔ ان کا یہ مقصود ہر گز نہ تھا کہ مسلمان جہاں غیر مسلم حکومت کے تحت ایک کثیر تعداد میں مستقل بودوباش رکھتے ہیں وہاں وہ اسلام کے معاشی قانون سے آزاد ہیں۔ اور جن مالی معاملات کو اسلام نے حرام کیا ہے وہ سب وہاں کیے جا سکتے ہیں۔ ایسی جگہ تو مسلمانوں کا فرض یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو نہ صرف غیر اسلامی معیشت سے بچیں بلکہ اپنی پوری اجتماعی قوت اس نظام کو بدلنے اور اس کی جگہ اسلامی نظام قائم کرنے میں صرف کریں۔ لیکن مولانا جس طریق پر اسلامی قانون کی تعبیر فرما رہے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہندوستان کے کئی کروڑ مسلمان اپنی قومی طاقت کو ملک کے معاشی و تمدنی نظام کی اصلاح پر صرف کرنے کے بجائے خود اس فاسد نظام میں جذب ہوکر رہ جائیں گے۔ (مودودی)
ترمذی میں تصریح ہے کہ یہ شرط اس زمانہ میں ہوئی تھی جب تحریم رہان (شرط بدنے کی حرمت) کا حکم نہیں ہوا تھا۔ تفسیر ابن جریر میں بھی اس کی تصریح کی گئی ہے۔ پھر تفسیر بیضاوی میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابوبکر نے اس شرط کا مال ابی بن خلف کے ورثاء سے وصول کیا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے صدقہ کردو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ مال مکروہ تھا’ دشمن سے لے لیا گیا مگر اسے خود اپنے استعمال میں لانا پسند نہ کیا گیا۔ (مودودی
دار الحرب میں سود حلال نہیں بلکہ فے حلال ہے
لوگوں میں یہ عجیب بات مشہور ہے کہ غیر اسلامی حکومتوں میں سود حلال ہوجاتا ہے’ اور زیادہ تر اصل مسئلہ کے سمجھنے میں یہی تعبیر مانع آتی ہے۔ ورنہ مسئلہ کی بنیاد جس قرآنی قانون پر ہے اس کے لحاظ سے یہ کہنا قطعاً غلط ہے کہ جو چیز حرام تھی وہ کسی وقت حلال ہوگئی۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جو چیز ہمیشہ سے حلال تھی وہی حلال ہوئی۔ خدا جس چیز کو حلالاً طیباً فرماتا ہے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ اسی کو طیب فرماتے ہیں’ ورنہ ایک مسلمان کو اس کا کیا حق ہے کہ قرآن جس چیز کو حرام کرے اسے وہ اپنی رائے سے یا کسی معمولی ظنی خبر کی بنیاد پر حلال کردے۔ خصوصاً وہ جو واحد خبروں سے نص پر اضافہ کو کسی طرح جائز قرار نہیں دیتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ علاوہ ای وجہ کان (قانون وقت کے جس جائز کردہ ذریعہ سے بھی وہ مال ملتا ہو) کی عمومیت کے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے سود ہی کو نہیں بلکہ قمار (جوا) کے ان ذرائع سے بھی تحصیل مال کو طیب قرار دیا ہے جس کی قانون وقت میں ممانعت نہ ہو۔ مثلاً یہی بیمہ ہے یا لائف انشورنس کا ذریعہ ہے ۔ علماء اسلام کے نزدیک قمار اور سود کی یہ مرکب شکل ہے’ لیکن سیر کبیر میں امام محمد’ امام اعظم سے ناقل ہیں۔
او اخذ مالاً منہم بطریق القمار فذالک کلہ طیب
______________________________
دار الحرب جو احکام فقہ حنفی میں حالتِ جنگ سے تعلق رکھتے ہیں ان کو ہندوستان پر چسپاں کرکے مولانا سخت غلطی کر رہے ہیں۔ اس کے معنی تو یہ ہیں کہ ہندوستان میں جوئے اور ستے اور لاٹری اور ریس کے ذریعہ سے بھی مسلمان روپیہ کما سکتے ہیں اور یہ مال ان کے لیے طیب ہے۔ اگر اسی پر فتوی ہوجائے تو معاشی حیثیت سے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں قطعاً کوئی فرق نہ رہے گا اور جہاں تک معاشی زندگی کا تعلق ہے’ تمام مسلمانانِ ہند غیر مسلم ہوجائیں گے۔ اصلی غلطی یہ ہے کہ مولانا ہر اس غیر مسلم کے مال کو مباح سمجھ رہے ہیں جس کی ذمہ داری کسی اسلامی حکومت نے نہ لی ہو۔ حالانکہ اس نظریہ کی تائید قرآن و حدیث کے کسی حکم سے نہیں ہوتی۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ وہ ایسے دار الکفر کو جو اسلامی اصطلاح کی رو سے در حقیقت دار الحرب نہیں ہے’ دار الحرب قرار دے رہے ہیں۔ یہ نہ صرف سوءِ تعبیر ہے بلکہ اپنے نتائج کے اعتبار سے مسلمانوں کی قومی زندگی کے لیے مہلک بھی ہے۔ ہندوستان اس وقت بلاشبہ دار الحرب تھا جب انگریزی حکومت یہاں اسلامی سلطنت کو مٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس وقت مسلمانوں کا فرض تھا کہ یا تو اسلامی سلطنت کی حفاظت میں جانیں لڑاتے’ یا اس میں ناکام ہونے کے بعد یہاں سے ہجرت کرجاتے۔ لیکن جب وہ مغلوب ہوگئے’ انگریز ی حکومت قائم ہوچکی اور مسلمانوں نے اپنے پرسنل لا پر عمل کرنے کی آزادی کے ساتھ یہاں رہنا قبول کرلیا تو اب یہ ملک دار الحرب نہیں رہا۔ بلکہ ایک ایسا دار الکفر ہوگیا جس میں مسلمان رعیت کی حیثیت سے رہتے ہیں اور قانون ملکی کے مقرر کیے ہوئے حدود میں اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزدی رکھتے ہیں۔ ایسے ملک کو دار الحرب ٹھہرانا اور ان رخصتوں کو نافذ کرنا جو محض دار الحرب کی مجبوریوں کو پیش نظر رکھ کر دی گئی ہیں’ اصول قانون اسلامی کے قطعاً خلاف ہے’ اور نہایت خطرناک بھی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کو اس ملک میں اسلامی قوانین پر عمل در آمد کرنے کے جو تھوڑے بہت اختیارات حاصل ہیں ان سے بھی وہ خود بخود دست بردار ہوجائیں گے’ شریعت کے جو رہے سہے حدود اس وقت ان کے قومی وجود کی حفاظت کر رہے ہیں’ وہ بھی باقی نہ رہیں گے اور مسلمان غیر اسلامی نظام میں جذب ہوکر رہ جائیں گے۔ انتہائی اضطرار کی حالت میں مسلمانوں کے ایسے منتشر افراد کو جن کی کوئی اجتماعی طاقت نہ ہو’ اور جو معاندین کے درمیان گھرے ہوئے ہوں’ اسلام اپنے قانون کی گرفت ڈھیلی کرکے چند رخصتیں عطا کرتا ہے اور اس کے ساتھ یہ حکم بھی دیتا ہے کہ اس حالت میں قیام نہ کرو’ بلکہ بعجلت ممکنہ دار الاسلام کی طرف واپس آجاؤ۔ مولانا ان رخصتوں کو ایسی قوم کے لیے عام کر رہے ہیں جو کئی کروڑ کی عظیم الشان تعداد میں ہے اور مستقل طور پر اس ملک میں متوطن رہے۔ دار الحرب کے احکام ایسی قوم کے لیے ہرگز نہیں ہیں۔ اس کو تو نہ صرف یہ کوشش کرنی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ جن احکام اسلامی پر عمل کرنا ممکن ہو ان پر عمل کرے بلکہ اسے دار الکفر کو دار الاسلام بنانے کے لیے اپنی پوری طاقت صرف کرنا چاہیے۔ (مودودی
اگر ان سے (غیر مسلموں سے) جوئے کے ذریعہ سے مال لے گا تو یہ سب اس کے لیے پاک اور طیب ہے۔
سود کی شہرت کا سبب غالباً امام مکحول (جو محدثین کے نزدیک ایک ثقہ راوی ہیں) کی وہ مرسل حدیث ہے جو اسی مسئلہ کی تائید پیش کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے:۔
عن مکحول عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا ربٰو بین الحربی والمسلم۔ (اسندہ بیہقی
مکحول سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راوی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حربی (غیر مسلم) اور مسلمان کے درمیان سود نہیں ہے۔
لوگ نہ معلوم اس کا مطلب کیا سمجھتے ہیں ورنہ ظاہر الفاظ سے جو کچھ مستفاد ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ مسلم اور غیر ذمی نا مسلمان کے درمیان اگر سود کا معاملہ ہو تو وہ سود’ سود ہی نہ ہوگا بلکہ “قرآنی قانون اباحت” کے تحت یہ مال مسلمان کے لیے طیب و حلال ہے۔
بہرحال اسلامی شریعت’ قرآن و حدیث’ عمل صحابہ کی رو سے یہ ایک ایسا واضح اور صاف قانون ہے جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لوگ مکحول کی حدیث مرسل کے متعلق حجیت و عدم حجیت کا سوال اٹھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ چیزیں تو تائید میں پیش کی جاتی ہیں’ ورنہ واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کے اموال کے طیب و حلال ہونے کا حکم تو قرآن کے نصوص صریحہ کی واضح عبارت کا نتیجہ ہے۔ علامہ ابن ہمام نے بالکل صحیح لکھا ہے:۔
و فی التحقیق یقتضی انہ لو لم یرو مکحول اجازہ النظر المذکور (فتح القدیر ج7 ص 178
اور تحقیق کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر مکحول کی روایت نہ بھی وارد ہوتی تو مذکورہ بالا “نظر ” اس کی اجازت دیتی ہے۔
صاحب بدائع نے اسی بنیاد پر امام ابو حنیفہ کے مذہب کی صحیح تعبیر کی ہے:۔
و علی ھذا اذا دخل مسلم او ذمی دار الحرب بامان فعاقد حربیا عقد الربا او غیرہ من العقود الفاسدۃ فی الاسلام جاز (ص 132۔ ج7
اور اس بنیاد پر یہ مسئلہ ہے کہ اگر مسلمان یا ذمی دار الحرب (غیر اسلامی ملک) میں امن کا معاہدہ کرکے داخل ہو اور کسی غیر مسلم سے ربٰو (سود) کا معاملہ کیا یا اس قسم کا کوئی معاملہ کیا جو اسلامی قانون کی رو سے فاسد ہو تو وہ معاملہ جائز ہوگا۔
فے اور پھاؤ کی اصطلاح
اور اسی لیے میرا نا چیز خیال ہے کہ اس قسم کی تمام “آمدنیاں” جو مسلمانوں کو غیر اسلامی حکومتوں میں قانوناً میسر آ سکتی ہیں’ ان کو بجائے سود یا قمار یا جوا وغیرہ کہنے کے مناسب ہوگا کہ اس کا خاص نام “فے’’ رکھ دیا جائے جس کے معنی گویا یہ ہوں گے کہ وہ مال جو بغیر کسی حرب و قتال’ جنگ و جدال کے دوسری اقوام سے امن پسندانہ طور پر قانون وقت کی پوری پابندی کے ساتھ مسلمانوں کو ملا ۔ مجھے ایسا خیال آتا ہے کہ ہندی میں ایک لفظ “پھاؤ” کا ہے جو قریب قریب “فے” کا ہم پلہ بھی ہے’ اور غالباً ایک حد تک اسی معنی کو ادا بھی کرتا ہے۔ خواص تو ان آمدنیوں کو اپنی “فے” کی آمدنی کہیں گے۔ عوام کی زبان پر (ف) نہ چڑھے گی تو وہ اس کو “پھاؤ” کہہ دیں گے۔ اس تعین اصطلاح ایک بڑی ضرورت وہ وجہ بھی ہے جو بعض ثقات اسلام کی جانب سے اس مسئلہ کے متعلق بطور اندیشہ یا خطرے کے پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر اس مسئلہ کا اعلان کردیا گیا تو ممکن ہے کہ امتداد زمانہ کے بعد مسلمان اس کو بھول جائیں گے کہ سود’ قمار اور ازیں قبیل دوسرے ذرائع ان کی شریعت میں حرام بھی تھے یا نہیں۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ ان آمدنیوں کا نام “فے” رکھا جائے کہ اس لفظ سے مسلمانوں کو یہ یاد آتا رہے گا کہ غیر اقوام سے ان کے شرعی تعلقات کیا ہیں اور غیر اسلامی حکومتوں کے معاہدہ امن کی تکمیل ان پر شرعاً کس حد تک لازم ہے ۔ آخر جن کاروباری معاملات سے خدا ناراض نہیں ہے’ قانون خوش’ حکومت خوش’ دینے والے خوش’ ان کے اختیار کرنے میں مسلمانوں کو کس چیز سے ڈرنا چاہیے۔
فے سے انکار قومی جرم ہے
سچ یہ ہے کہ مسلمانوں کے بچے کھچے سرمایہ دار’ قلیل البضاعۃ اس حلال’ بلکہ بالفاظ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ طیب آمدنی کو’ جسے میں “فے” یا “بھاؤ” کہتا ہوں’ اور جس کے متعلق قرآن کا صریح حکم حلالاً طیباً ہے’ نہ لے کر قومی جرم اور قومی خودکشی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ مسلمانوں کے سرمائے جو بینکوں
______________________________
شامی میں ہے:وما اخذ منہم بلا حرب ولا قہر کالھدنۃ والصلح فھو لاغنیمۃ ولا فی وحکمہ حکم الفی (ص 25)۔
اور جو کچھ ان سے بغیر جنگ اور زبردستی کے لیے لیا جائے مثلاً خرآج یا مال صلح’ تو وہ نہ غنیمت ہے اور نہ فے بلکہ اس کا حکم فی کا حکم ہے۔
فتح القدیر میں ہے: فکان ھذا اکتساب مباح من المباحات کا لالحتطاب والاصطیاد۔
یہ اکتساب مباحات میں ہوگا جیسے لکڑیاں چننا اور مچھلیاں پکڑنا۔
فے کی تعریف سبل السلام میں ہے: ھو ما حصل للمسلمین من اموال الکفار من غیر حرب ولا جہاد۔
وہ مال جو مسلمانوں کو کفار کے اموال میں سے بغیر جنگ و جہاد کے حاصل ہو۔ اور اراضی بنی نضیر کے متعلق خود قرآن میں ہے: ما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب۔ جس پر تم نے دوڑ دھوپ نہ کی ہو نہ گھوڑوں سے نہ اونٹوں سے۔
تمام احادیث کی کتابیں معمور ہیں کہ اس فے کی آمدنی سے اہل بیت نبوت کے ذاتی مصارف پورے ہوتے تھے۔ (فاضل گیلانی)
قرآن کی اصطلاح میں فے صرف اس مال کو کہتے ہیں جو برسر جنگ قوم سے بغیر قتال کے حاصل ہو۔ سورہ حشر پڑھ جائیے ۔ تمام ذکر حالت جنگ کا ہے ۔ بنی نضیر پر چڑھائی کی گئی۔ کارزار کی نوبت نہ آئی تھی کہ وہ مرغوب ہوگئے اور انہوں نے جلا وطن ہونا قبول کیا۔ اس موقع پر جو اموال مسلمانوں کے قبضہ میں آئے ان کو فے کہا گیا۔ یہ اصطلاح ان اموال پر کیوں کر چسپاں ہوسکتی ہے جو حالتِ امن میں غیر محارب کافروں سے سود اور قمار بازاری اور سٹے اور دوسرے غیر اسلامی طریقوں سے حاصل کی جائے۔ پھر اگر یہ فے ہو بھی’ تو افراد امت فرداً فرداً اس کو کیسے کھا سکتے ہیں۔ اموالِ فے کے متعلق قرآن میں تصریح ہے کہ وہ حکومت کے خزانے میں داخل کیے جائیں اور ان کو عام مصالح اسلامی پر صرف کیا جائے۔ ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللّٰہ وللرسول ولذی القربی والیتمی والمساکین وابن السبیل۔ (الحشر)۔ (مودودی
میں محفوظ ہیں’ ان کے لاکھوں روپے کا “فے” صرف یہی نہیں کہ غیر اسلامی قوتوں کی بالیدگی ہے’ اور مسلمانوں کے لیے معاشی راہوں کے بدلنے سے ہر مال بیکار ہوجاتا ہے’ بلکہ سنا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی اس “فے” کی آمدنی سے مسلمانوں ہی کے بچوں’ عورتوں اور غریبوں کو اسلام چھڑا چھڑا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صف سے توڑ توڑ کر غیروں کی صف میں بھرتی کیا جاتا ہے۔ کھلے بندوں یخرجون الرسول وایاکم ان تومنوا کا ارتکاب ہورہا ہے یہ اپنی قوم کے ساتھ غداری نہیں تو اور کیا ہے ۔ ہائے مسلمانوں ہی کی چاندی کی چھری سے مسلمانوں کا ذبح کرنا کس نے جائز قرار دیا؟ کیا خدا نہیں دیکھ رہا ہے؟ امام الدنیا والدین رسول رب العالمین خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبریں نہیں پہنچ رہی ہوں گی؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو دنیا والو! دیکھو! سود کے جالوں میں پھنسا کر پورب’ پچھم’ اتر’ دکھن’ کے لوگ دل کھول کر شکار کر رہے ہیں۔ سود دو’ یا کھیت دو’ یا جائداد دو’ یا مکان دو’ یا عرب کے امی لقب صلی اللہ علیہ کا آستانہ چھوڑ دو’ ان مہروں کی شطرنج پر کیسی دردناک بازیاں کھیلی جا رہی ہیں۔
بینک کا سود
سچ یہ ہے کہ بینک زیادہ تر سود خوروں کی باضابطہ کمیٹیوں کا نام ہے۔ لیکن جب اس کا تنظیمی و اختیاری عملہ وہ نہیں ہوتا جن سے مسلمانوں کو روکا نہیں گیا ہے تو اب کمیٹی کی ممبری یا رکنیت نہیں ہے’ بلکہ اس کمپنی سے معاملہ ہے جو لوگوں کو سود پر قرض دیتی ہے؟ کن سے سود لیتی ہے؟ یہ اس کا اپنا معاملہ اور جدید عقد ہے جس سے اس معاملہ کو قطعاً نسبت نہیں۔ جو ایک مسلمان نے ارباب بینک سے کیا ہے’ بلکہ بین الملی قوانین کے جو دفعات آئین اسلامی سے گزر چکے ان کو سامنے رکھنےکے بعد بینک والوں کے سارے کاروبار جس کسی سے ہوں صحیح ہوجاتے ہیں ۔ فلیتدبر
______________________________
محتاط علماء نے اسی خیال سے کہ سود کی رقم بینک میں چھوڑ دینا کفار کے لیے موجب تقویت ہوجائے گا’ یہ فتوی دیا ہے کہ سود بینک سے لے کر غریب مسلمانوں پر صدقہ کردیا جائے یا مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کسی کام پر خرچ کردیا جائے یہ فتوی نہایت درست ہے۔ فقہ میں مال محظور کے متعلق یہ مسئلہ موجود ہے کہ اگر غلطی سے ایسا مال لے گیا ہو یا مجبوراً کسی مصلحت سے لینا پڑا ہو’ تو اس کو صدقہ کردینا چاہیے۔ پس جو نقصان مولانا فرما رہے’ اس سے بچنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ سود کو فے قرار دینے کی کوشش کی جائے۔ (مودودی)
بینک کے سود میں کراہت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ ہم جو رقم بینک میں رکھواتے ہیں اس کو بینک والے منجملہ اور معاملات کے سودی قرض کے کاروبار میں بھی لگاتے ہیں’ اور جن لوگوں کو یہ سودی قرض دیا جاتا ہے اور ان میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہوتے ہیں۔ اس طرح جو سود ہم کو بینک سے وصول ہوتا ہے وہ صرف غیر مسلموں ہی کی جیب سے نہیں آتا بلکہ مسلمانوں کی بھی جیب سے آتا ہے۔ بالفاظ دیگر ہم مسلمان براہ راست سود نہیں کھاتے بلکہ بینک کے واسطہ سے کھاتے ہیں۔ مولانا اس اعتراض کو یہ کہہ کر دفع فرماتے ہیں کہ “حربی” بینکر نے خود ہماری امانت کے روپے میں سے جب کسی مسلمان کو قرض دیا اور اس پر سود وصول کیا تو یہ سود کی رقم جائز طور پر اس کی ملک ہوگئی۔ اب اس کے بعد جب ہم نے اس سے اپنی امانت پر سود وصول کیا تو گویا ہم نے “حربی” کے مال پر (جو ہمارے لیے مباح اور حلال و طیب ہے) قبضہ کیا۔ اب یہ سوال باقی رہ گیا کہ جب یہ کافر حربی خود ہمارے دیے ہوئے ہتھیار سے مسلمانوں کو ذبح کرتا ہے’ اور پھر ان کے گوشت میں سے ہم کو بھی حصہ دیتا ہے’ تو ہم اپنا ہتھیار اس کو دیں ہی کیوں؟ مولانا نے اس کی طرف توجہ نہیں فرمائی۔ (مودودی
ہاں میں نے پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں اور ہمیشہ کہوں گا کہ جو ایسا کرتے ہیں وہ وطن کی پاسبانی نہیں کر رہے ہیں۔ وطن والوں کے ساتھ’ وطن کے مزدوروں کے ساتھ اچھا نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن جو وطن کا محافظ ہے۔ جس حکومت کو وطن کے باشندوں کی نگرانی سپرد کی گئی ہے’ جب وہی ان معاملات کو وطن کی بہبودی اور ترقی کا ذریعہ سمجھتی ہے اور خود وطن والے بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں تو مسلمان وطن کی وفا داری میں کیا اپنی قوم سے غداری کریں حالانکہ وطن تو وطن ان پر تو خاندانی حقوق کے سلسلہ میں بھی قومی غداری حرام ہے۔ قرآن کا عام اعلان ہے۔
لَنْ تَنْفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَ لا أَوْلادُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ وَاللَّهُ بِمَاتَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (الممتحنۃ
‘‘تمہارے رشتے اور تمہارے بچے قیامت کے دن کام نہیں آئیں گے۔ خدا تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے دیکھ رہا ہے۔’’
یہ صحیح ہے کہ ہمیں صبر کا حکم دیا گیا ہے اور خاص وقت تک صبر ہی ہمارے لیے بہتر ہے۔ لیکن کیا قانونِ صبر کے ساتھ “مجازاۃ بالمثل” کی بھی قران ہی نے تعلیم نہیں دی ہے؟
وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَاعُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ (١٢٦
اگر تم پر زیادتی کی جائے تو تم بھی اتنی ہی زیادتی کرو جتنی تم پر کی گئی اور صبر کروگے تو صبر کرنے والوں کے لیے یہی بہتر ہے۔
لیکن صبر کی کوئی نہایت بھی ہے؟ استقلال کی کوئی حد بھی ہے؟ جس نے صبر سکھایا اسی نے تو وَلاتُلْقُوابِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ: ١٩٥)اپنے ہاتھوں اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو! بھی سکھایا۔ قسطنطنیہ کی دیواروں کے نیچے سونے والے یورپ کے غازی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو تہلکہ کی تفسیر فرمائی ہے عوام نہیں تو کیا اس سے خواص بھی جاہل ہیں؟
فے کا نہ لینا وطنی جرم بھی ہے
بلکہ سوچنے والے تو یہ کہتے ہیں کہ اس فے کا نہ لینا صرف اپنی قوم کے ساتھ ہی نہیں بلکہ وطن والوں کے ساتھ بھی دشمنی ہے۔ زہر کھانے والے کو دیکھ کر صرف دل میں افسوس کرنا یہ حقیقی ہمدردی ہے؟ یا آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے زہر کا چھین لینا سچی بہی خواہی ہے۔
من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ و ان لم یستطع فبلسانہ وان لم یستطع فبقلبہ و ذالک اضعف الایمان
______________________________
اس مسئلہ میں وطن کی وفاداری یا قوم کی غداری کا قطعاً کوئی سوال نہیں۔ اہل ایمان صرف اس بنا پر سود سے باز رہے کہ خدا نے اس کو مطلقاً حرام کیا ہے۔ آپ اس روک کو ہٹا دیجیے پھر کسی اور دلیل کی حاجت نہ رہے گی۔ سرحدی پٹھان کی طرح ہندوستان کے مسلمان بھی سود خوری میں مارداڑی سے دس قدم آگے ہوں گے۔ (مودودی
زہر چھین لینا تو ضرور بہی خواہی ہے مگر اس سے چھین کر خود کھاجانا اور پھر اس زہر کو کشتۂ طلا سمجھنا نہ بہی خواہی ہے نہ عقل مندی۔ (مودودی
‘‘تم میں سے کوئی بری بات دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ نہ زور رکھتا ہو تو زبان سے اسے پلٹے۔ اس کی بھی مجال نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ بڑے کمزور ایمان والا ہے۔’’
حدیث کی ساری کتابوں میں سیکھتے ہو۔ لیکن پھر بھی ایمانی ضعف کے دائرے سے نکلنے کی لوگوں میں جرات نہیں ہوتی۔ خصوصاً جب استطاعت بھی ہو’ حکومت کی قوت تمہارے ساتھ ہو’ وطن والے اس معاملہ میں تمہارے ہمنوا ہوں تو بتاؤ تمہارے لیے کیا عذر باقی رہا؟ کیا جو لوگوں کے گال پر تھپڑ مارتا ہے وہ جرم کے نتائج و آثار کو اس وقت تک سمجھ سکتا ہے جب تک کہ خود اس کے رخساروں کو بھی اسی گزند کی خوراک نہ دی جائے جس کو اب تک اس نے نہیں چکھا ہے ۔ اگر ایسا نہ کیا جائے گا تو وہ بیچارے غریب انسانوں کی نازک کھالوں کو اپنی انگلیوں میں قوت پیدا کرنے کی مشق گاہ خیال کرلے گا۔ “فھل من مدکر”
ہوسکتا ہے کہ جو گزند آج مسلمانوں کو پہنچایا جا رہا ہے جب اس کا احساس دوسروں کو بھی ہوگا تو ممکن ہے کہ حکومت ہی ان معاملات کو قانوناً بند کردے۔ اگر وہ ایسا کرے گی تو اس وقت سب سے پہلے اس قانون کی تعمیل کے لیے جن کا سر مذہب جھکا دے گا وہ اس نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی امت ہوگی جو دنیا میں اعلا اور برتر مکارم اخلاق کی تکمیل ہی کے لیے مبعوث ہوا تھا۔ نحن احق بمکارم الاخلاق۔ ہم مسلمان سب سے پہلے عمدہ بلند احکام کے حق دار ہیں۔ اس وقت ہم مذہب کے مجرم ہوں گے۔ اگر قانونِ وقت کے ساتھ غدر کریں گے۔ اگر حکومت نے بھی نہ سنا تو کیا تم تعجب کرتے ہو کہ جو دکھ مسلمانوں کو پہنچا جب اسی میں دوسرے پڑیں گے تو “دہن توپ” کے اس وعظ سے وطن والے اسی طرح لاپروائی برتیں گے جس طرح وہ زبان و قلم کے واعظوں پر قہقہے لگاتے رہے ہیں ۔ اگر انہوں نے آگے چل کر ہم سے ان معاملات کے اٹھا دینے کا کبھی معاہدہ کیا تو کیا مسلمانوں کو ان کے خدا نے اس کی اجازت نہیں فرمائی ہے کہ
______________________________
ہندو’ یہودی’ عیسائی’ سب آپس ایک دوسرے کے گال پر یہ تھپڑ مار رہے ہیں’ اور صدیوں سے مار رہے ہیں۔ مگر یہ گزند کی خوراک چکھنے اور چکھانے کے باوجود وہ اس کے نتائج و آثار کو نہیں سمجھتے۔ پھر کیونکر امید کی جائے کہ مسلمانوں کے چند ہلکے سے تھپڑ ان کو اس قدر چونکا دیں گے کہ وہ اس جرم ہی سے باز آجائیں گے؟ مولانا غالباً یہ سمجھ رہے ہیں کہ سود دینے والے صرف مسلمان ہیں’ غیر مسلم صرف سود لیتے ہی ہیں دیتے نہیں ہیں۔ اس لیے ان کا یہ خیال ہے کہ جب مسلمان بھی سود لینے پر اتر آئیں گے تو سود خوار غیر مسلم گھبرا اٹھیں گے اور بالآخر حکومت ہند سودی لین دین کو قانوناً ممنوع قرار دے دے گی۔ مگر صورت واقعہ یہ نہیں ہے۔ تمام غیر مسلم قومیں سود لیتی بھی ہیں اور دیتی بھی ہیں۔ مسلمان ان سے سود لے کر انہیں کوئی نیا مزہ نہیں چکھائیں گے۔ البتہ خود ایک نیا مزہ ضرور چکھیں گے جو ممکن ہے انہیں بے خود کرکے “پھاؤ” اور “غیر پھاؤ” کے فرق سے غافل کردے۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ مسلمان کچھ بڑے سرمایہ دار بھی نہیں ہیں کہ اگر وہ سود لینے پر اتر آئے تو مارواڑیوں اور مہاجنوں کے دیوالے نکلنے کی نوبت آجائے گی’ اور یہ سب کے سب ہار مان کر حرمت سود کا قانون پر آمادہ ہوجائیں گے۔ (مودودی)
۔ ان کے قہقہے تو پھر بھی بند نہ ہوں گے بلکہ وہ ایک اور زور کا قہقہ لگائیں گے’ وہ کہیں گے آخر کار معاشی اور مالی معاملات میں اسلام کا ناقابل عمل ہونا ثابت ہوگیا اور یہ بات کھل گئی کہ سود کی حرمت عملی دنیا میں چلنے والی چیز نہیں۔ جس طرح طلاق اور وراثت اور نکاح ارامل وغیرہ مسائل میں آپ ان کے مذہبی قانون کی جدید ترمیمات پر گرفت کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ بھی اسلام کی کمزوری کا اشتہار دینے کے لیے سود کے مسئلہ میں آپ کی بدلی ہوئی روش کو ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کریں گے۔ (مودودی
لايَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الممتحنۃ:٨
‘‘اللہ تم کو ان لوگوں سے نہیں روکتا جو دین میں تم سے نہیں جھگڑتے اور تم کو وطن سے بے وطن نہیں کرتے کہ ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کے ساتھ انصاف کرو انصاف کرنے والوں کو خدا پیا رکرتا ہے۔’’
ایسے معاہدوں پر جو امت سب سے پہلے دستخط کرے گی وہ وہی ہوگی جو تمام دنیا کے لوگوں کو نفع پہنچانے کے لیے ظاہر کی گئی ہے۔ ہم دل سے بھی ان معاملات کو برا جانیں گے’ زبان سے اس پر اصرار کریں گے’ حکومت کو بھی ادھر بار بار توجہ دلائیں گے’ وطن والوں سے بھی کہیں گے’ جس طرح اب تک کہا ہے آئندہ بھی کہیں گے’ زور سے کہیں گے’ اور مسلسل کہیں گے’ ہم کو وطن سے بے وطن اور اپنے گھروں سے بے گھر بنانے پر وہ جس قدر بھی چاہیں اصرار کریں’ لیکن ہم ان کی بہی خواہی میں کبھی کمی نہ کریں گے اور اسی بہی خواہی کے سلسلہ میں زبان سے آگے بڑھ کر ہم ہاتھ سے بھی اپنے: “نھی عن المنکر” (بری باتوں سے روکنا)۔ اور “امر بالمعروف ” (اچھی جانی پہچانی باتوں کا حکم دینا) ۔ کے آسمانی فریضہ کو ادا کریں گے جس کے لیے ہم بنائے گئے ہیں تا ایں کہ وطن کے فرزندوں کا’ ہمارے پڑوسیوں کا اس کی خرابی و ضرر رسانی پر اتفاق ہوجائے۔ ٹوٹے ہوئے دل یوں ہی ملیں گے’ اور وہ تو ان شاء اللہ ایک دن مل کر ہی رہیں گے۔
اسلامی حکومتوں اور ریاستوں کا حکم
مسئلہ ختم کرنے سے پہلے چند باتیں اور بھی قابل ذکر رہ جاتی ہیں’ آخر ان کو کیوں چھوڑا جائے۔ جب اسلامی قوانین ہماری رہنمائی ودست گیری کے لیے ہر حال میں تیار ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن اسلامی ممالک میں شرعی قانون کسی نہ کسی وجہ سے اٹھ گیا ہے ان کا کیا حکم ہے؟ ہاں وہاں کے حکام دولاۃ سلاطین و ملوک تو مسلمان ہیں۔ شامی میں اس کا فتویٰ موجود ہے کہ اگر سلاطین اسلام ان ممالک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی نہیں کرتے’ تو ایسا ملک دار السلام ہی رہے گا۔ کہتے ہیں:۔
و بھذا ظھر ان ما فی الشام من جبل تیم اللہ المسمی بجبل الدروز و بعض البلاد التابعۃ لہ کلھا دار السلام لانھا وان کانت بھا حکم الدروز او نصاری ولھم قضاۃ علی دینھم و بعضھم یعلنون بشتم الاسلام والمسلمین لکنھم تحت حکم ولاۃ امورنا و بلاد الاسلام
______________________________
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا یہ طریقہ تو نہایت ہی عجیب کہ جس منکر سے ہم دوسروں کو روکنا چاہتے ہیں اسی میں خود مبتلا ہوجائیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر کوئی شخص شراب پی کر دنگا فساد کرتا ہو اور نصیحت سے نہ مانے تو ہم خود اس کی ضد میں شراب پییں اور ایسا ہی دنگا فساد مچا کر اس سے کہیں کہ دیکھو اس حرکت سے یہ تکلیف ہوتی ہے’ اب یا تو ہم سے معاہدہ کرو کہ نہ تم شراب پیو گے نہ ہم پئیں گے’ یا نہیں تو یاد رکھو کہ ہم تم سے زیادہ شراب پی کر اور تم سے زیادہ دنگا کرکے دکھائیں گے۔ اس طریق نصیحت سے ترک مے خواری کا معاہدہ تو شاید نہ ہو’ البتہ ہوگا یہ کہ زاہد کو در میخانہ پر دیکھ کر رند مے خوار ایک نعرہ فتح بلند کرے گا اور پکار اٹھے گا کہ مے کشوں کی ٹولی میں شیخ کی آمد مبارک۔ (مودودی
محیط ببلادھم من کل جانب و ازار اوا ولی الامر تنفیذ احکامنا فیھم نفذوھا۔ (ص 277۔ شامی ج 3
اور اس سے معلوم ہوا کہ شام کا علاقہ کوہ تیم اللہ جس کا عام نام جبل دروز ہے اور دوسرے شہر جو اس کے تابع ہیں سب دار الاسلام ہیں کیوں کہ اگرچہ وہاں دروزیوں کا یا عیسائیوں کا قانون ہے اور ان کے جج و حکام ان ہی کے مذہب کے ہیں اور ان میں بعض علانیہ مسلمانوں کو اور اسلام کو گالیاں دیتے ہیں’ لیکن چونکہ اسلامی حکومت کے ماتحت ہیں اور اسلامی ممالک ان کو چاروں طرف سے محیط ہیں اور مسلمانوں کا امیر اگر چاہے تو ان میں ہمارے (یعنی اسلامی) احکام نافذ کرسکتا ہے۔
اس سے ظاہر ہے کہ جن ممالک میں مسلمان سلاطین یا ولاۃ امور باوجود ارادے کے اسلامی احکام کے نفاذ پر قادر نہ ہو وہ دار الاسلام باقی نہیں رہ سکتے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
باقی یہ مسئلہ کہ اس قسم کے غیر اسلامی ممالک میں جمعہ’ عید وغیرہ کا نظم کس طرح ہوگا ‘ شامی میں اس کے متعلق موجود ہے:۔
کل مصروفیۃ و الی مسلم من جھۃ الکفار یجوز منہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذ الخراج و تقلید القضاء وتزویج الایامی ناقلا عن جامع الفصولین (ص 277۔ ج3
ہر وہ شہر جہاں کا رئیس کفار کی منظوری سے ہو اس کی جانب سے جمعہ اور عید کا قیام کرنا جائز ہے اور اس ملک کا خراج لینا بھی نیز عدالت کے قضاۃ (حکام) کے تقرر کا بھی اسے اختیار ہے’ اور بیواؤں کی شادی بھی وہی کردے۔
لیکن جس غیر اسلامی ملک میں غیر اسلامی حکومت کا کوئی تسلیم شدہ مسلمان رئیس نہ ہو تو اس کے متعلق یہ حکم ہے:۔
و اما فی بلاد علیھا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع والاعیاد و یصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین ویجب علیھم طلب والی مسلم (صف ایضاً
______________________________
مولانا کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستا کی مسلمان ریاستیں بھی دار الحرب کی تعریف میں داخل ہیں اور ان کی غیر مسلم رعایا بھی “حربی” ہے جس کے اموال مباح ہیں اس اجتہاد کے لیے کم از کم فقہ حنفی میں تو کوئی گنجائش ہے نہیں۔ فقہا کی تصریحات ملاحظہ ہوں۔ حواشی در المختار للطحاوی میں ہے۔ لو اجریت احکام المسلمین و احکام الشرک لا تکون دار الحرب۔ فتاوی بزازیہ میں ہے۔ فاذا وجدت الشرائط کلھا صارت دار الحرب و عند تعارض الدلائل و الشرائط یبقی ما کان او یترجح جانب الاسلام احتیاطا۔ خزانۃ المفتین میں ہے۔ ان دارالاسلام لا تصیر دارالحرب متی لم یبطل جمیع ما صارت بہ دار الاسلام فما بقی علقمۃ من علائق الاسلام یترجح جانب الاسلام۔ ان تصریحات کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ حیدر آباد اور بھوپال اور جونا گڑھ وغیرہ ریاستیں دارالحرب ہوگئی ہیں اور ان کی غیر مسلم رعایا حربی ہے۔ مولانا جانتے ہوں گے کہ فقہ اسلامی میں دارالحرب دار الاباحۃ کا دوسرا نام ہے جہاں عارضی طور پر قانون اسلامی کی اکثر بندشیں ضرورتاًکھول دی جاتی ہیں۔ اگر ان عارضی اباحتوں کو استمراری حیثیت دے دی جائے تو مسلمانوں کا مسلمان رہنا غیر ممکن ہے۔ مثال کے طور پر اگر لارڈ دلزلی کے سبسیڈیری الانیس میں شریک ہونے کے بعد سے علماء اسلام حیدر آباد کو دار الحرب قرار دے کر دار الاباحت بنا دیتے تو 136 برس کے اندر اس ریاست کے مسلمان اس قدر مسخ ہوچکے ہوتے کہ آج ممالک اسلامیہ کا کوئی شخص ان کو پہچان بھی نہ سکتا کہ یہ مسلمان ہیں۔ (مودودی
لیکن ایک ایسا ملک جہاں کے ولاۃ کفار ہیں تو مسلمان کو یہ جائز ہے کہ اس شہر میں بھی خود جمعہ اور عیدین قائم کریں’ قاضی مسلمان باہمی سمجھوتہ سے مقرر کرلیں’ لیکن ان پر مسلمان رئیس کی تلاش واجب ہے۔
اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جن مسائل میں مسلمانوں کو “قضاء شرعی” کی ضرورت پیش آتی ہے’ “دین کامل” نے غیر اسلامی ممالک میں اس کا کیا چارہ کار بتایا ہے’ اور غالباً اس تفصیل کے بعد عہدِ حاضر کے اسلامی ممالک کے احکام واضح ہوگئے۔
فللّٰہ الحمد فی الاولی والاخرۃ و صلی اللہ علیہ علی النبی الخاتم الرسل وعلی آلہ واصحابہ اجمعین واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
——————————-
مولانا کے سابق مضمون کی اشاعت پر بعض اہل علم نے اعتراضات کیے تھے جن کے جواب میں مولانا نے یہ مضمون تحریر فرمایا تھا۔)مرتب)
مسئلہ کی تعبیر میں ضرور مسامحت ہوئی ہے جس سے شدید غلط فہمی کا اندیشہ ہے۔ ارقام فرمایا گیا ہے کہ” غیر اسلامی حکومتوں کے ماتحت ربٰو’ ربٰو نہیں رہتا۔ الخ۔ اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ فقہ حنفی میں ہر شخص خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم’ اس کے ساتھ اس قسم کے معاملات جائز ہیں’ اور ان کے اموال غیر معصوم و مباح ہوجاتے ہیں حالانکہ مقصد یہ نہیں ہے بلکہ یہ حکم صرف ایسی غیر اسلامی اقوام مثلاً یہود و نصاری مجوس و ہنود وغیرہ کے ساتھ مخصوص ہے جن کی ذمہ داری کسی اسلامی حکومت نے نہیں لی ہے۔ میں نے اپنے دعوے کی ثبوت میں امام محمد کی “سیر کبیر” کا مشہور فتویٰ نقل کیا ہے ۔اسی سے غایت اطمینان کے لیے اس قانون کی یہ دفعہ بھی نقل کردیتا ہوں۔
ولو کانت ھذہ المعاملۃ بین المسلمین مستامنین او اسیرین فی دارالحرب کان باطلا مردودا لانھما یلتزمان احکام الاسلام فی کل مکان (سیر کبیر ج 3۔ ص 126)۔
اور اگر یہ معاملہ دو مسلمانوں کے درمیان ہو جو دارالحرب (غیر اسلامی ملک) میں معاہدہ امن کرکے مقیم ہوں’ یا قیدی ہوں’ تو یہ معاملہ باطل و مردود ہوگا کیونکہ یہ دونوں اسلامی قوانین کے ہر جگہ ذمہ دار ہیں ۔
______________________________
اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کے دو شہری علاقہ غیر میں ایک دوسرے سے سود نہیں لے سکتے۔ لیکن دار الاسلام کی رعایا کا کوئی مسلمان فرد اگر دار الحرب میں امان لے کر جائے تو وہ دار الحرب کے مسلمان باشندے سے سود لے سکتا ہے کیونکہ فقہ حنفی میں کافر حربی کی طرح اس مسلمان کا مال بھی معصوم نہیں ہے۔ بحر الرائق میں ہے۔ وحکم من اسلم فی دارالحرب ولم یحاجر کالحربی عند ابی حنیفۃ لان مالہ غیر معصوم عندہ فیجوز للسلم الربا معہ (جلد 6 ص 147) اس لحاظ سے مولانا کی تعبیر کے مطابق اگر ہندوستان دار الحرب ہے تو سرحدی پٹھانوں کے لیے ہندوستان نہ صرف ہندوؤں سے بلکہ مسلمانوں سے بھی سود لینا حلال و طیب ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ وہ یہاں کے مسلمانوں سے جوا بھی کھیل سکتے ہیں اور حرام چیزیں بھی ان کے ہاتھ فروخت کرسکتے ہیں’ کما فی الفتح ج 5 ص 300۔
قیدی اسیر کے لیے فقہی طور پر ضروری نہیں کہ وہ جیل خانہ میں ہو بلکہ ہر وہ شخص جو کسی ملک سے دوسرے ملک میں بغیر اجازت یا پاسپورٹ کے نہیں جا سکتا وہ اسیر ہے ۔ والتفصیل ان شاء اللہ فی وقت آخر۔
دوسری بات مجھے یہ کہنی ہے کہ بلاشبہ میں نے ذرا عجلت سے کام لے کر اس مضمون کو قبل از مشورہ شائع کرا دیا۔ اس عبد خاطی و عاجز کو اپنے اس قصور کا اعتراف ہے۔ لیکن میں نے جن جذبات اور ہیجانات سے مجبور ہوکر اس مضمون کو لکھا تھا اس سے خدائے خبیر و بصیر خوب واقف ہے۔ ماسوا اس کے اس مسئلہ کی بنیاد جن مقدمات پر ہے وہ کل دو ہیں۔ ایک تویہ کہ ہندوستان دار الکفر ہے۔ دوسرے یہ کہ دار الکفر میں عقود فاسدہ فی الاسلام کے ذریعہ سے اموال غیر معصومہ کا لینا مباح ہے۔
ان میں سے پہلے مقدمہ کے متعلق میں نے ہندوستان کے اکثر علماء ثقاوت و ارباب فہم و تقوی کو متفق پایا۔ البتہ دوسرے مقدمہ کے متعلق میں نے ان کرام و اکابر علماء سے بالتفصیل نہیں دریافت کیا’ جن کے اسمائے گرامی آپ نے درج کیے ہیں’ اور جن میں سے اکثر اس خاکسار کے اساتذہ یا فی حکم الاساتذہ ہیں۔ صرف مولانا اشرف علی صاحب تھانوی مدظلہ العالی کی رائے گرامی کا مجھے علم تھا کہ وہ اس مسئلہ میں فقہ حنفی کے اس جزئیہ کے متعلق مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے فتاوی نیز تفسیر میں دوسرے مقدمہ کی صحت میں حدیثاً و اصولاً کلام کیا ہے۔ لیکن جہاں تک اس ناچیز کی رسائی تھی امام ابوحنیفہ کے مسلک کو میں نے اوفق الکتاب والسنہ پایا۔ امام صاحب نے یہ سمجھا ہے کہ جس طرح “لاتقتلوا انفسکم” “اپنی جانوں کو نہ مارو” کا منصوص اور بظاہر عام حکم صرف مسلمانوں تک محدود ہے ورنہ قانون جہاد بے معنی ہوجاتا ہے’ اسی طرح “لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل” تم اپنے مالوں کو اپنے درمیان ناجائز ذرائع سے نہ کھایا کرو۔ اور اسی کی ایک ذیلی تفصیل “لا تاکلوا الربٰو” (سود نہ کھاؤ)۔ کا بظاہر عام حکم بھی صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ خصوصاً جب “اموال محرمہ” کے حکم نہی میں
______________________________
اگر اسیر کی تعریف صرف اتنی ہی ہے تو ہندوستان کے تمام مسلمان مستامن نہیں بلکہ اسیر قرار پائیں گے’ اور اسیر کے احکام مستامن کے احکام سے بالکل مختلف ہیں۔ اسیر جنگ کے لیے قانونِ ملک کی پابندی بھی لازم نہیں۔ وہ چوری اور قتل اور رشوت دہی کا بھی حق رکھتا ہے۔ بحر الرائق میں ہے۔ لان الاسیر یباح لہ التعرض وان اطلقوہ طوعا لانہ غیر مستامن فھو کالتلصص فجوز لہ اخذ المال وقتل النفس دون استباحۃ الفرج (ج5 ص 107) اگر قانون کے مقاصد سے قطع نظر کرکے صرف اس کے الفاظ سے غرض رکھی جائے تو آزادی کی اس سے بھی زیادہ گنجائشیں نکل سکتی ہیں۔ (مودودی)
مولانا کے اس بیان سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خون کا احترام اور کسب اموال میں حرام و حلال کی تمیز’ اور سود کی حرمت سب کچھ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہے۔ دائرہ اسلام کے باہر نہ تو غیر مسلم انسانوں کے خون کی کوئی وقعت ہے اور نہ ان سے مالی معاملات میں حلال و حرام کی کوئی تمیز۔ اس سے بڑھ کر اسلامی قانون کی غلط نمائندگی اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ قرآن میں ارشاد ہےکہ ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق۔ اس آیت کی رو سے ہر انسان کی جان اصلاً قابلِ احترام ہے۔ اس کے حلال ہونے کی صورت صرف یہ ہے کہ حق اس پر قائم ہوجائے۔ جہاد میں یہ حرام اسی طرح “حق” کی خاطر حلال ہوجاتا ہے جس طرح قصاص میں خود مسلمان کا حرام خون بھی حلال ہوجاتا ہے۔ اگر اصولاً کافر غیر ذمی کو اسلام نے “حربی” قرار دیا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ امام اور جماعت سے الگ ہوکر ہر مسلمان ہر غیر ذمی کافر پر جب چاہے “حق” قائم کردے اور جہاں چاہے قتل کردے اور لوٹ لے ۔ اگر ایسا ہو تو ایک مسلمان اور ایک انارکسٹ میں کیا فرق باقی رہا؟ اسی طرح مال کمانے اور خرچ کرنے کے جو طریقے اسلام نے حرام کیے ہیں وہ سب قطعی طور پر حرام ہیں۔ ان میں یہ امتیاز نہیں ہے کہ مسلمان سے مال لینے کا جو طریقہ حرام ہو’ کافر سے مال
“بینکم” کی تصریح بھی ہے تو وہ قانون قتل کی عمومیت سے اور بھی زیادہ خاص ہوجاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ”ربٰو” کا قانون سخت ہے۔ لیکن کیا قتل سے بھی زیادہ سخت؟ قرآن نے ایک شخص کا قتل عام بنی آدم کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے جس کی جزاء میں جہنم کے عذاب’ خلود ابدی کی دھمکی دی گئی ہے۔ لیکن کون نہیں جانتا کہ اسلام نے اس سخت قانون کے ایک رخ کو (اسی رخ کو جو امام ابوحنیفہ کے نزدیک “اموال” کے متعلق ہے) ثواب اور بڑا ثواب قرار دیا ہے۔ آخر امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کیا کرتے ؟ قرآن مجید میں کہا گیا ہے۔
وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونہا
اللہ تم سے مغانم کا وعدہ کرتا ہے جنہیں تم لوگے۔
کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ اموال مسلمان خریدیں گے؟ یا وراثت میں پائیں گے؟ یا ان کو کوئی ہبہ کرے گا؟ پھر بزور ہی نہیں بغیر زور و قوت کے بھی جو مال ملے اس کے متعلق تصریح ہے کہ یہ وہ چیز ہے کہ:۔
وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَ لارِكَابٍ وَ لَكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ (الحشر:٦
جو پلٹایا خدا نے اپنے رسول کے پاس تو تم نے نہ اس پر اونٹ دوڑائے نہ گھوڑے لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔
صرف جنگ کے موقعہ پر اس کا وعدہ نہیں کیا گیا’ بلکہ سب کو معلوم ہے کہ:۔
اذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم
‘‘جب اللہ نے تم سے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کے متعلق یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ تمہارے لیے ہے۔ ’’
ان طائفوں میں کون نہیں جانتا کہ خدا نے اس طائفہ کا بھی وعدہ کیا تھا جو “عیر” یعنی قافلہ تجارت تھا؟ اور کیا وعدہ کیا تھا؟ “انھا لکم” وہ تمہارے لیے ہیں” مسلمانوں کے لیے وہ بذریعہ بیع و فروخت’ تجارت’ ہبہ’ وراثت’ ہدیہ’ صدقہ’ خیرات’ آخر کس طور پر وعدہ کیے گئے تھے ؟ یہی ذریعہ اگر مسلمانوں کے لیے اموال کے حصول کا قرار دیا
______________________________
لینے کا وہی طریقہ حلال ہو۔ ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بھا الی الحکام لتاکلوا فریقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون ۔ اور ۔ احل اللہ البیع و حرم الربٰو۔ اور ۔ انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان۔ ان احکام میں سے کس حکم کو صرف مسلمانوں کے باہمی معاملات کے ساتھ مخصوص کیا جا سکتا ہے؟ اگر مسلمانوں کا یہی مسلک ہو کہ شراب کو حرام بھی کہیں اور پھر غیر مسلموں کے ہاتھ بیچیں بھی’ جوئے کو حرام بھی کہیں’ اورغیر قوموں سے کھیلیں بھی’ سود کو حرام بھی کہیں اور سود کھانے والوں کے ہاتھ فروخت بھی کریں’ سود کی حرمت میں تقریر بھی کریں اور پھر غیر مسلم قوموں سے سودی لین دین کو حلال و طیب بھی سمجھیں’ تو دین اسلام ایک مضحکہ بن جائے گا۔ اور کوئی صاحب عقل ایسے مذہب کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوگا۔ افسوس یہ ہے کہ مولانا اس غلط تعبیر کو امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے ان عام احکام میں جو استثناء تجویز کیا ہے وہ صرف خاص جنگی ضروریات میں ان لوگوں کے لیے ہے جو مبتلائے جنگ ہوں۔ اس کا یہ منشاء ہر گز نہیں ہے کہ مسلمانوں کی پوری پوری آبادیاں مستقل طور پر غیر قوموں کے ساتھ تجارتی و مالی معاملات میں حرام و حلال کی تمیز اڑا دیں اور نسل در نسل اور پشت در پشت اسی حرام خوری پر زندگی بسر کرتی رہیں۔ (مودودی)
یہ ایک برسرِ جنگ قوم کا تجارتی قافلہ تھا’ گو بالفعل مقاتل نہ تھا۔ غنیم کی تجارت میں مزاحمت کرنا’ اس کے تجارتی جہازوں یا قافلوں کو پکڑ لینا اور اس کے اموال پر قبضہ کرلینا قانونِ جنگ میں بالکل جائز ہے۔ مولانا کوئی ایسی
جائے تو کیا وہ ذریعہ باطل اور “لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل” کے نیچے داخل ہوگا؟ بخاری میں ہے کہ حضرت ابوبصیر صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صلح حدیبیہ کی رو سے جب مدینہ میں رہنے کی اجازت نہ ملی تو وہ سمندر کے کنارے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جم گئے اور ان کا مشغلہ کیا تھا؟ امام بخاری راوی ہیں:۔
فواللہ ما یسمعون بعیر خرجت لقریش الی الشام الا اعترضوا لھا فقتلوھم و اخذوا اموالھم۔
بخدا قریش کے جس قافلے کے متعلق وہ سنتے کہ شام کی طرف نکلا ہے اس سے وہ تعرض کرتے اور اہل قافلہ کو قتل کرکے ان کے اموال چھین لیتے۔
کیا اس سے بھی زیادہ تشریح کی ضرورت ہے؟ قرآن میں تو صرف “عیر” کا وعدہ تھا’ لیکن یہاں تو وقوع ہوا۔ کیا یہ قانون فقہ حنفی کا ہے یا نصوص بینہ کا مقتضی ہے؟ عجیب بات ہے کہ جس قانون کے ذیل میں امام صاحب نے اس جزئیہ یا دفعہ کو پیدا فرمایا (یعنی قانون غنیمت) وہ تو صرف امت محمدیہ کے لیے بروئے روایات صحیحہ مخصوص مانا جاتا ہے’ لیکن پھر بھی لوگ کہے جاتے ہیں کہ اگر “ربٰو” کا کاروبار غیر اقوام کے ساتھ جائز ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے متعلق قرآن مجید میں کیوں فرمایا:۔
واخذھم الربٰو و قدنھوا عنہ و اکلھم اموال الناس بالباطل
اور یہودیوں کے سود لینے کی وجہ سے جس سے وہ روکے گئے اور لوگوں کے اموال کو باطل و ناجائز ذرائع سے کھانے پر۔
جب یہودیوں پر غنیمت ہی حرام تھی تو پھر کس بنا پر ان کے لیے سود جائز ہوتا ۔ اور یہ بھی اسی وقت کہا جائے گا جب یہ ثابت ہولے کہ وہ صرف غیر یہودیوں سے اس کا کاروبار کرتے تھے۔ مولانا شبلی نے اپنی سیرت میں ابوداود کی روایت کو متعدد بار نقل فرمایا ہے۔ اس سے غلط فہمی میں نہ پڑجانا چاہیے۔ کیونکہ اس تشدد کی بنیاد مسئلہ غلول (یعنی قبل تقسیم کے اموالِ غنیمت میں تصرف کرنے) پر ہے جیسا کہ خود سمرہ بن جندب نے “کابل” کی جنگ میں اس کی توضیح فرما دی۔ ابولبید راوی ہیں کہ ہم لوگ کابل میں سمرہ بن جندب کے ساتھ تھے۔ لوگوں کو مال غنیمت میں ہاتھ آیا تو لگے لوٹنے۔ حضرت سمرہ اس پر تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے “نہبیٰ” سے منع فرمایا۔ لوگوں نے سب مال واپس کردیا۔ پھر حسبِ تقسیم شرعی انہوں نے بانٹ دیا (مجمع الفوائد) اس میں یہ نہیں ہے کہ اصل مالکوں کو واپس دے دیا بلکہ قبل تقسیم کے لوٹ مار کرنے سے ممانعت کی گئی تھی جو غلول تھا۔
“ربٰو” کا قانون کب سے نازل ہوا۔ یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ “لاتاکلوا الربا اضعافا مضاعفۃ” تو بہت پہلے نازل ہوا۔ لیکن اس کو شراب کی طرح تدریجی غیر قطعی حکم
______________________________
مثال پیش فرمائیں جس میں ماسوا حالت جنگ کے غیر ذمی کافروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مطلقا مباح الدم والاموال قرار دیا گیا ہو’ اور فرداً فرداً ہر مسلمان کو یہ حق بخشا گیا ہو کہ جس غیر ذمی کو وہ جب اور جہاں پائے لوٹ لے۔ (مودودی
قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن “ربٰو” کی جزئی فروع کی حرمت پر عمل در آمد مسلمانوں میں 7ھ سے شروع ہوگیا تھا۔ مؤطا امام مالک میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں چاندی کے ایک برتن کی فروخت کے معاملہ میں فرمایا:۔
اربیتما فردوا
تم دونوں نے ربٰو کا معاملہ کیا’ پس انہوں نے واپس کردیا۔
اس سے ثابت ہوا کہ “دار الاسلام” میں یہ قانون 7ھ سے نافذ ہوچکا تھا۔ لیکن سارے عرب میں کب نافذ ہوا۔ سب کو معلوم ہے کہ عام فتح میں بھی نہیں بلکہ حجۃ الوداع میں ربا الجاھلیۃ کے سقوط کا اعلان حکومت نبویہ کی جانب سے کیا گیا۔ اس سے کیا یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ جس ملک میں اسلامی اقتدار قائم نہ ہو وہاں ان معاملات کی نوعیت وہ نہیں رہ سکتی جو اسلامی اقتدار کے بعد ہوجاتی ہے۔ ورنہ کم از کم حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو حجۃ الوداع سے بہت پہلے مسلمان ہوچکے تھے’ ان کے ربٰو کو قطعاً 7ھ سے پہلے ساقط ہوجانا چاہیے تھا نہ کہ حجۃ الوداع میں۔ تعجب یہ ہے کہ بعض اکابر کو اسی حجۃ الوداع کی روایت سے شبہ ہوا کہ اگر غیر مسلموں سے ربٰو جائز ہوتا تو قبل اسلام کا جو سود بقایا تھا اس کو شارع علیہ السلام نے کیوں ساقط کیا؟
بلاشبہ اگر مسئلہ یہ ہوتا کہ نفس عقد ربٰو سے سود کا مستحق سود خوار ہوجاتا ہے تو یہ اعتراض ہوسکتا تھا کہ حقوق ثابتہ کے اسقاط کے کیا معنی ہوسکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ کی بنیاد استحقاق بواسطہ الربٰو پر نہیں ہے اباحت کا حکم باقی رہے گا۔ جب ملک اسلامی ہوجائیگا تو غیر معصوم معصوم ہوجائے گا۔ پھر اس معصوم کو غیر معصوم کس طرح قرار دیا جاتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب نجران کے لوگوں نے اسلامی حکومت کی ذمہ داری قبول کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ اب اس کاروبار کو ترک کردیں’ کیوں کہ عہد ذمہ کی وجہ سے ان کے اموال معصوم ہوچکے تھے۔
______________________________
اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کسی ملک میں سودی کاروبار کی ممانعت کا عام حکم صرف اسی وقت جاری کریں گے’ جب کہ وہ اس ملک پر قابض و متصرف ہوں اور اپنے احکام کو غیر مسلموں پر بھی نافذ کرنے کی قوت رکھتے ہوں۔ ہر ذی فہم سمجھ سکتا ہے کہ ملک پر قبضہ ہونے سے پہلے ملک میں قانون کے نفاذ کا حکم دینا صریح غیر معقول بات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس طرح یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ربا الجاہلیت کے سقوط کا اعلان فرما دیتے جب کہ در حقیقت ربا الجاہلیت لینے اور دینے والے آپ کے تحت حکم آئے ہی نہ ہوں۔ البتہ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت حکم تھے (یعنی مسلمان) ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودی لین دین سے منع فرما دیا تھا قبل اس کے کہ ملک غرب میں سودی کاروبار مسدود ہو۔ (مودودی)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے کہ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ واپس چلے گئے تھے اور وہاں مسلمان ہونے کے بعد وہ سود کا جو کاروبار کر رہے تھے اس کی کوئی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ تھی (ملاحظہ ہو کتاب المبسوط الامام السرخسی ج 14 ص 57)۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضور کو کب اس کی اطلاع ہوئی۔ بہرحال جب حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام الہی کے تحت ربا کی عام ممانعت کا اعلان فرمایا تو سب کے ساتھ حضرت عباس کے سودی بقایا بھی ساقط کیے گئے۔ یہ واقعہ اس باب میں قطعی الثبوت نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے اس سودی کاروبار کو جائز رکھا تھا۔
حکم قرآنی کی یہ توجیہہ درست نہیں۔ اباحت کے مسئلہ کا اس مسئلہ سے کیا واسطہ؟ قرآن میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ یہ ہے:”فمن جاءہ موعظۃ من ربہ فانتھی فلہ ما سلف”‘ جو شخص خدا کی نصیحت مان کر سود خواری سے باز آجائے وہ پہلے جو کچھ سود کھا چکا ہے وہ اس کے لیے معاف ہے’ اب وہ اس سے واپس نہیں دلایا جائے گا۔ و ذروا ما بقی من الربٰو’ اور اب جو سود تمہارے لوگوں پر چڑھے ہوئے ہیں ان کو تم چھوڑ دو۔ فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ ۔ اگر
لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا صحابہ کے طرزِ عمل میں بھی ایسا کوئی خصوصی اثر ہے جس سے معلوم ہو کہ انہوں نے غیر مسلموں سے ربٰو کا خاص کرکے معاملہ کیا ہو؟ امام محمد نے اس کے جواب میں”سیر کبیر” میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا عمل پیش کیا ہے کہ وہ فتح مکہ سے پیشتر اسی کاروبار کے لیے مدینہ سے مکہ جاتے تھے جو اس وقت تک دار الاسلام نہ تھا ۔ اسی طرح ربوٰ تو نہیں’ لیکن یہ تو حدیثوں سے ثابت ہے کہ قمار کا معاملہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا اور بدر کے بعد اس کی آمدنی انہوں نے لی۔ یہ کہنا کہ یہ فعل حکم “میسر و قمار” کے نزول سے پہلے کا ہے’ بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ ایران نے روم سے شکست انہی ایام میں کھائی جب کفار قریش کو مسلمانوں سے ہزیمت ہوئی۔ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا اس معاملہ میں فریق ثانی امیہ ابن خلف تھا جو بدر میں مارا گیا۔ شرط سو اونٹوں کی تھی۔ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کے ورثہ پر دعویٰ کیا اور وہ دعویٰ مسموع ہوا۔ سو اونٹ ان کو ملے۔ مدینہ آئے۔ یہ صحیح ہے کہ ٹھیک طور پر یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ اونٹ بدر سے کتنے سال بعد وصول کیے گئے لیکن بعید از قیاس ہے کہ غم و غصہ کے بھرے ہوئے قریش نے ٹھیک بدر کے بعد انصاف کو اتنی راہ دی ہوگی کہ سو اونٹ اصل شرط لگانے والے نہیں بلکہ اس کے ورثہ سے حضرت صدیق کو دلوائے ہوں گے۔ بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات اگر طے ہوئی ہوگی تو صلح حدیبیہ کے بعد طے ہوئی ہوگی اور یہ مسلم ہے کہ خمر (شراب) اور میسر (قمار) کی تحریم کا حکم احد کے قریب قریب نازل ہوا تھا۔ بخاری کی روایتوں سے یہ ثابت ہے۔ پس غالب قرینہ یہی ہے کہ واقعہ حرمت قمار کے نزول کے بعد کا ہے۔ تاریخی طور پر اگر ان واقعات کی جستجو کسی مد نظر ہو تو سیرۃ النبی’ مولانا شبلی مرحوم سے میرے بیان کی توثیق کرسکتے ہیں’ خصوصاً جن لوگوں کی عربی تک رسائی نہیں ہے۔
بہرحال سیر و آثار نہ بھی ہوں تو کیا اثر سے زیادہ
______________________________
اس حکم کی پابندی تم نے نہ کی تو اللہ تعالیٰ اور رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ یہ بات سراسر حکمت عملی پر مبنی تھی اور ہر حکومت کسی معاملہ میں احکام امتناعی نافذ کرتے وقت ایسا ہی کیا کرتی ہے۔ قانون کے اعلان سے قبل جو سود لیا دیا جا چکا تھا اگر اس کی واپسی کا حکم دیا جاتا تو مقدمات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا جو کبھی ختم ہی نہ ہوسکتا۔ اور اگر اعلان کے بعد پچھلے سودی بقایا وصول کرنے کی اجازت دی جاتی تو قانون بے اثر ہوکر رہا جاتا’ اور نہ معلوم کب تک ان کا بقایا کی تحصیل کا سلسلہ جاری رہتا۔ لہذا بیک وقت سود اور اس کے معاملات کا سلسلہ منقطع کردینا ہی حکمت تشریع کے نقطۂ نظر سے ایک کارگر تدبیر ہوسکتا تھا۔ (مودودی)
بالفرض اگر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا یہ سودی کاروبار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و اجازت سے بھی ہو تب بھی یہ حقیقت ہے کہ عام الفتح سے پہلے تک مکہ اور اس کے اطراف کے تمام قبائل مسلمانوں سے برسر جنگ تھے۔ عام الفتح کے بعد اگرچہ مکہ اسلامی حکومت کے ماتحت آ گیا مگر نواحی علاقوں میں جو مشرکین آباد تھے ان سے جنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ پس یہ مثال زیادہ سے زیادہ اس امر کے ثبوت میں پیش کی جا سکتی ہے کہ حالتِ جنگ میں دشمن سے عقود فاسدہ پر معاملہ ہوسکتا ہے۔ (مودودی)
یہ “فعل” سے کیا مراد ہے؟ اس فعل کے دو جزء ہیں ایک شرط کرنا۔ دوسرے شرط کا مال وصول کرنا۔ پہلا جزء تو یقینا میسر و قمار کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کا ہے کیونکہ وہ ہجرت سے چھ سات سال قبل کا واقعہ ہے اور میسر و قمار کی حرمت کے احکام ہجرت کے بعد نازل ہوئے ہیں۔ رہا دوسرا جزء یعنی شرط کے اونٹ وصول کرنا تو یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔ غالباً تحریم قمار کا حکم نازل ہونے کے بعد ہی کا ہے۔ مگر اس کا کیا جواب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو یہ مال اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہ دی بلکہ صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ (مودودی
وزن دار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل نہیں بلکہ قانونی قول نہ ہوگا جس کے راوی خود امام ابوحنیفہ ہیں؟ امام شافعی نے قاضی ابو یوسف کے حوالہ سے بروایت ابوحنیفہ اس روایت کو نقل کیا ہے:۔
عن مکحول عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا ربٰو بین المسلم و الحربی۔ (کتاب الام للشافعی
مکحول سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ مسلمان اور حربی کے درمیان ربٰو نہیں۔
میں مانتا ہوں کہ یہ روایت مرسل ہے لیکن کیا اثر صحابہ کے ڈھونڈھنے والوں کے لیے ایک مرسل حدیث میں تسلی نہیں ہے؟ عجیب بات ہے کہ ابن سعد یا اصابہ سے اگر کوئی اثر نقل کردیا جائے تو لوگ اس کی وقعت کرتے ہیں لیکن امام ابو حنیفہ اپنے اعتماد پر ایک مرفوع مرسل قولی حدیث پیش کرتے ہیں تو اس کو صرف مرسل کہہ کر ٹالنا چاہتے ہیں۔ اس روایت کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خبر واحد ہے اس سے نص کی تخصیص جائز نہیں لیکن کیا نص کی تائید بھی اس سے نہیں ہوسکتی؟ کیا اس کی وقعت آثار صحابہ کے برابر بھی نہیں؟ غالباً اس تفصیل کے بعد یہ مسئلہ صرف فقہ حنفی کا نہیں رہ جاتا۔ بہرحال میں اور بھی تفصیل کرتا لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے۔ ذرا ان لوگوں کا انتظار ہے جو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے فتویٰ کو اس مسئلہ میں مضمحل بنانا چاہتے ہیں۔
اسی کے ساتھ شاہ عبدالعزیز صاحب اپنے فتاویٰ میں ایک سے زائد مقامات پر اس کے متعلق صریح فتویٰ صادر فرما چکے تھے۔ اگر ان کے فتویٰ میں کلام ہے تو کیا ہندوستان میں کسی کے پاس حدیث کی سند محفوظ رہ سکتی ہے؟ جمیعۃ العلماء کے اخبار “الجمعیۃ” میں بھی اس کا فتوی شائع ہوچکا تھا۔ دار العلوم دیوبند کے مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خواہ کسی وجہ سے ہو لیکن بنک کے سود لے لینے کا فتوی دیا تھا۔ حرام مال لے کر صدقہ کرنے کی اجازت کون دے سکتا ہے؟ جہاں تک میرا خیال ہے ان کے سامنے مسئلہ کی وسعت موجود تھی۔ ورنہ کم از کم میں ان کے اس فتویٰ کی توجیہہ سے عاجز ہوں۔ مولانا عبدالحئی صاحب مرحوم نے اپنے فتاویٰ میں گو ہندوستان کی تصریح نہیں کی لیکن مطلقاً دار الکفر میں انہوں نے جواز کا فتویٰ دیا ہے اور متعدد بار دیا ہے۔ بریلی اور بدایوں کے علماء کو بھی اس سے کم از کم میرے علم میں اختلاف نہیں۔ با ایں ہمہ میں نے اپنے مضمون میں افتاء کا رنگ نہیں اختیار کیا ہے بلکہ مسئلہ کی تشریح کرنے کے بعد استفتاء کیا ہے علماء سے پوچھا ہے کہ کیا ہندوستان میں اس مسئلہ کے نفاذ کا وقت آ گیا ہے ؟
مگر سچ پوچھتے ہیں تو ذاتی طور پر اسی شبہہ کی وجہ سے جسے آپ نے نقل فرمایا ہے میں اس کے لکھنے میں متردد تھا۔ پھر کیا کہوں کن مظالم بےجا نے آخر میرے ہاتھ سے صبر کرکے دامن کو چھڑا لیا۔ مسلمان جلائے گئے’ لوٹے گئے’ برباد کیے گئے’ اور کیے جا رہے ہیں ۔ میں ان حالات کو دیکھ دیکھ کر بے اختیار ہوگیا۔ کوئی اور صورت نظر کے سامنے نہ تھی۔
مالی مدافعت’ یا مالی حملہ کی صورت سامنے تھی’ پیش کردی گئی اور اسی وجہ سے اس کا نام میں نے فَے رکھا’ کیونکہ شامی میں جزئیہ موجود تھا۔
وما یوخذ منھم بلا حرب ولا قھر کالھدنۃ والصلح فھو لاغنیمۃ ولا فی وحکمہ حکم الفی۔ (ص 250 ج3
اور ان سے جو کچھ بغیر جنگ اور قہر کے لیا جائے مثلاً مال صلح تو وہ غنیمت ہے اور نہ فے البتہ اس کا حکم فے کا حکم ہے۔
پس جو حکم فے میں ہو اگر مجازاً اسے “فے” کہا جائے تو کیا حرج ہے؟ اور اگر اجازت ہو تو کیا اتنا عرض کرسکتا ہوں کہ “زنا” کے خطرے سے کیا ترک نکاح کا فتویٰ دیا جا سکتا ہے؟ واقعی مسلمان جو بعد میں باہم لڑ پڑے کیا وہ قانون قتال کا نتیجہ تھا؟ کیا یہ خطرات بھی واقعی ہیں؟
لیکن اس کے ساتھ مجھے ان مولویوں سے ضرور خطرہ ہے جو زوال حکومت کے بعد معمولی معمولی باتوں پر تکفیر کا فتوی صادر کر کے فسخ نکاح و ناجوازی اولاد کا حکم لگا رہے ہیں۔ اس صورت میں بالکل ممکن ہے کہ ہر مسلمان دوسرے کے کفر کا فتویٰ لے کر آپس ہی میں اس فعل کو شروع کردے گا جو اس کے لیے قطعاً مورث عذاب جہنم ہے۔ لیکن کاش اس فتویٰ کو عملی شکل دینے کے لیے یہ علما ان مکروہ طریقوں سے باز نہ آئیں’ ورنہ ہر شخص اپنی نیتوں کا خود ذمہ دار ہے۔
لکل امرء ما نوی فمن کانت ھجرتہ الی اللہ و رسولہ و من کانت ھجرتہ الی دینار یصیبھا وامراۃ تنکحھا فھجرتہ الی ما ھاجر الیھا
‘‘ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے۔ چنانچہ جس کی ہجرت خدا اور رسول کی طرف ہو’ اور جس کی ہجرت دنیا کے فائدے کی خاطر ہو’ اور جس کی ہجرت کسی عورت کی خاطر ہو ان میں سے ہر ایک کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی اس نے نیت کی ہے۔ ’’
یوں تو نماز بھی دوزخ کی کلید بن سکتی ہے۔ اگر اسی طرح فتویٰ دے کر لوگ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگیں تو کیا اس کی وجہ سے قانون جہاد کی حرمت کا فتویٰ صحیح ہوگا؟
ایک شبہ اور بھی کہ سیونگ بینک میں تو نہیں لیکن عام بینکوں اور کواپریٹو بینکوں کے مالکوں میں بعض بعض مسلمان بھی ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا کیا جائے گا؟ یہ صحیح ہے کہ بینک کا کاروباری عملہ جس سے لوگ لین دین کرتے عموماً غیر اقوام کے لوگ ہوتے ہیں’ لیکن مالکوں کی جماعت میں جب مسلمان بھی ہیں تو عمل کی صورت کیا ہوسکتی ہے؟
______________________________
آگے چل کر مولانا نے خود ہی اپنے اس ارشاد کا جواب دے دیا ہے۔ (مودودی
کاش علماء غور کرتے۔ مسئلہ جوائز السلاطین میں فقہاء نے کیا لکھا ہے؟ بہرحال میری غرض کچھ نہیں۔ صرف ایک مسئلہ کے متعلق علماء کو چونکانا ہے۔ یا تو وہ انسداد سود کے لیے ایسی آواز بلند کریں جیسی کہ “مانع مسکرات” کی سوسائٹی نے بلند کی ہے۔ یا کم از کم قانونی حدود میں رہ کر اتنا تو کریں جتنا گائے والے کرتے ہیں۔ شاید حکومت توجہ کرے یا وطن والے کچھ رحم کھائیں۔ ہوسکتا ہے کہ “سود” کا تصفیہ قربانی گاؤ کی قربانی سے ہوجائے۔ ورنہ پھر سرمایہ دار مسلمانوں کو کسی باضابطہ نظام کے تحت اس پر آمادہ کیا جائے کہ جو سلوک غیر اقوام کے لوگ غریب مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں وہی وہ دوسروں کے ساتھ کریں۔
فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم۔
‘‘پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر زیادتی کرو جتنی کہ اس نے کی۔’’
مقصد صرف اس قدر ہے۔ ورنہ جو لوگ محض شکم پروری یا دولت مندی کے لیے اس مسئلہ کے جواز کی فکر میں ہیں اور اس فکر میں اتنے دیوانے ہورہے ہیں کہ صحیح’ غلط’ جس طرح بن پڑتا ہے قرآن کے ایک منصوص حکم کے توڑنے میں زور لگا رہے ہیں’ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام کی بنیاد امارۃ و دولت پر نہیں بلکہ جس کا فخر “فقر” تھا’ اسی حقیقتِ مقدسہ کبری نے اس کے ستون قائم کیے ہیں۔ بلندی صرف ایمان کے ساتھ ہے۔ “انتم الاعلون” کا وعدہ محض “ان کنتم مومنین” کے ساتھ مشروط ہے۔ ثروت دولت والے پہلے بھی وہی تھے جواب ہیں؟ اس وقت بھی قرآن کی یہی ہدایت تھی۔
فلا تعجبک اموالھم و اولادھم انما یرید اللہ ان یعذبھم بھا فی الحیوۃ الدنیا وتزھق انفسھم وھم کافرون۔
‘‘پھر ان کے اموال اور اولاد (مردم شماری) تم کو پسندیدہ نہ معلوم ہوں۔ اللہ چاہتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے انہیں دکھ پہنچائے اور ان کی جان فرسودہ ہوکر نکلے ایسی حالت میں کہ وہ ناشکرے ہوں۔ ’’
اور اب بھی ہم مسلمانوں کے لیے اسی حکم میں قوت ہے۔ ہم امتیوں کو کیا’ خود ہمارے پیشوا اور سردار آقا و امام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا۔
ولا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم زھرۃ الحیوۃ الدنیا لنفتنھم فیہ و رزق ربک خیر و ابقی
اور اپنی آنکھیں ان کی طرف اونچی نہ کرو جنہیں میں نے قسم قسم کی تازگی دے رکھی ہے۔ میں اس میں انہیں آزماتا ہوں۔ تیرے ربّ کی روزی تیرے لیے بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔
آج جو یورپ کے خداؤن کو دیکھ دیکھ کر چیخ رہے ہیں کہ ہمارے لیے بھی اس قسم کے “الہ” ہونے چاہئیں کیا ان کو یہ سنایا جائے کہ تم جس کی امت کے لیے روتے ہو’ اس نے ارشاد فرمایا اور قسم کھا کر فرمایا۔ بخاری میں ہے:۔
فوا اللہ ما اخشی علیکم الفقر و لکن اخشی ان تبسط علیکم الدنیا کما بسطت علی من کان قبلکم فتنافسوھا کما تنافسوھا و تھلیکم کما الھتھم۔ (بخاری
پس قسم خدا کی میں فقر یا افلاس سے تمہارے لیے نہیں ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا پھیلائی جائے گی جس طرح تم سے پہلوں پر پھیلائی گئی پھر جس طرح انہوں نے اس میں باہم رشک و تنافس کیا۔ اسی طرح کہیں تم بھی نہ کرو اور تم بھی غافل نہ ہوجاؤ جس طرح وہ ہوئے۔
تم کہتے ہو کہ مسلمانوں کے پاس روپیہ نہیں ہے’ گنیاں نہیں ہیں’ عمدہ کوٹ نہیں ہیں’ عمدہ کپڑے نہیں ہیں’ یہ نہیں ہے وہ نہیں ہے۔ لیکن مسلمان جن کے ہیں انہوں نے جو فرمایا ہے’ دیوانو! اس کی تمہیں خبر بھی نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا’ بخاری میں ہے:۔
تعس عبد الدینار و عبد الدرھم والقطیفۃ والخمیصۃ
اشرفیوں اور روپوں والے جھالر دار لباس والے سیاہ عبا والے سب گرے’ ہلاک ہوئے۔
تم کہتے ہو کہ مفلس قوم تباہ ہوئی جاتی ہے۔ لیکن جس کی قوم ہے وہ فرماتا ہے کہ درہم و دینار کے بندے تباہ ہوئے۔ اب تم ہی بتاؤ کہ ہم مسلمان کس کی سنیں؟ اور سچ ہے کہ جس قوم میں افلاس کا رونا ہے انہوں نے جب سود کھایا اور خوب پیٹ بھر کر کھایا’ تیرہ تیرہ برس کے اندر بائیس بائیس روپیہ کو بائیس بائیس لاکھ روپیہ تک بنا کر رہے ان کے افلاس کے مرثیہ خوانوں کو دنیا میں کیا کمی ہے۔ کیا دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا اسی قوم کو پہنچ جاتا ہے جو سود کے میدان میں بازی مارے ہوئے ہے؟ فی کس تین پیسے کن قوموں کی آمدنی ہے؟ اور ان کو تو جانے دو’ حکومت کے زور سے جو سود کھا رہے ہیں ان کے مزدوروں کا حال اخبارات میں کیا تمہاری نظروں سے نہیں گزرتا ہے’ سچ فرمایا امت کے ہادی صلی اللہ علیہ وسلم نے:۔
لو کان لابن ادم و ادیان من مال لابتغی ثالثا و لا یملاء جوف ابن آدم (وفی روایۃ) عین ابن ادم الا التراب۔ (بخاری
اگر آدم کے بچوں کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش میں مصروف ہوگا اور آدم کے بچے کا پیٹ (یا آنکھ) مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔
پس ؎
سر منزل قناعت نتواں زدست دادن
اے سارباں فرد کش کیں رہ کراں ندارد!
مسلمان کے لیے تو وہی نغمہ کافی ہے جو آج سے تیرہ سو برس پیشتر گایا گیا۔
اللھم لا عیش الا عیش الاخرۃ۔
(ترجمان القرآن۔ شعبان 55ھ۔ رمضان 55۔نومبر 36۔ دسمبر 36)










