زکوٰۃ کی حقیقت اور اس کے اصولی احکام

(۱) زکوٰۃ کی تعریف کیا ہے؟
(۲) کن کن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ اس سلسلے میں عورتوں، نابالغوں، قیدیوں، مسافروں، فاتر العقل افراد اور مستامنوں یعنی غیر ملک میں مقیم لوگوں کی حیثیت کیا ہے۔ وضاحت سے بیان کیجیے؟
(۳) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کتنی عمر کے شخص کو بالغ سمجھنا چاہیے؟
(۴) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے عورت کے ذاتی استعمال کے زیور کی کیا حیثیت ہے؟
(۵) کیا کمپنیوں کو زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے یا ہر حصے دار کو اپنے اپنے حصے کے مطابق فرداً فرداً زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟
(۶) کارخانوں اور دوسرے تجارتی اداروں پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کی حدود بیان کیجیے؟
(۷) جن کمپنیوں کے حصص ناقابل انتقال ہیں، ان کے سلسلے میں تشخیص زکوٰۃ کے وقت کس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوگی؟ حصص خریدنے والے پر یا فروخت کرنے والے پر؟
(۸) کن کن اثاثوں اور چیزوں پر اور موجودہ سماجی حالت کے پیش نظر کن کن حالات میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ بالخصوص ان چیزوں کے بارے میں یا ان سے پیدا شدہ حالات میں کیا صورت ہوگی؟
(ا) نقدی، سونا، چاندی، زیورات اور جواہرات۔
(ب) دھات کے سکے (جن میں تلائی، نقرئی اور دوسری دھاتوں کے سکے شامل ہیں) اور کاغذی سکے۔
(ج) بینکوں میں بقایا امانت، بینک یا کسی دوسری جگہ حفاظت میں رکھی ہوئی چیزیں، لیے ہوئے قرضے، مرہونہ جائداد اور متنازعہ جائداد اور ایسی جائداد جو قابل ارجاع نالش ہو۔ (د) عطیات۔
(ر) بیمے کی پالیسیاں اور پراویڈنٹ فنڈ کی رقمیں۔
(و) مویشی، شیر خانے کی مصنوعات، زرعی پیداوار اور مع اناج، سبزیاں، پھل اور پھول۔
(ز) معدنیات۔
(ح) برآمد شدہ فیتہ۔
(ط) آثار قدیمہ۔
(ی) جنگلی اور پالتو مکھی کا شہد۔
(ک)مچھلی، موتی اور پانی سے نکلنے والی دوسری چیزیں۔
(ل) پٹرول۔
(م) درآمد و برآمد۔
(۹) رسول اکرمﷺ کے زمانے میں جن املاک پر زکوٰۃ واجب تھی کیا خلفائے راشدین نے ان کی فہرست میں کوئی اضافہ فرمایا؟ اگر کوئی اضافہ یا تبدیلی کی گئی تو کن اصولوں پر؟
(۱۰) کیا نکل کے سکے اور سونے چاندی کے سوا دوسری دھاتوں کے رائج الوقت سکوں پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟ جو سکے رائج نہیں رہے یا جو خراب ہیں یا حکومت نے واپس لے لیے ہیں یا دوسرے ملکوں کے سکے ہیں، ان کا بھی اس سلسلے میں شمار ہونا چاہیے یا نہیں؟
(۱۱) مال ظاہر اور مال باطن کی تعریف کیا ہے؟ اس سلسلے میں بینکوں میں جمع شدہ رقوم کی حیثیت کیا ہے؟
(۱۲) اغراض زکوٰۃ کے لیے مال نامی (نموپذیر) کی حدود بیان کیجیے۔ کیا صرف مال نامی پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟
(۱۳) جو مکان زیورات اور دوسری چیزیں کرائے پر دی جاتی ہیں، ان پر اور ٹیکسی گاڑی موٹر وغیرہ پر زکوٰۃ لگانے کے کیا قاعدے ہونے چاہئیں؟
(۱۴) کس آدمی کے کن کن مملوکہ جانوروں پر زکوٰۃ نقدی کی شکل میں یا جنس کی صورت میں یا دونوں طرح دی جاسکتی ہے؟ کسی آدمی کے مختلف مملوکہ جانوروں کی کتنی تعداد پر اور کن حالات میں زکوٰۃ واجب ہونی چاہیے؟
(۱۵) جن مختلف سامانوں اور چیزوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ان پر زکوٰۃ کس شرح سے لی جائے؟
(۱۶) کیا خلفائے راشدین کے زمانے میں نقدی، سکوں، مویشیوں، سامان تجارت، زرعی پیداوار پر زکوٰۃ کی شرح میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟ اگر ایسا ہوا تو سند کے ساتھ تفصیلی وجوہ بیان کیجیے۔
(۱۷) نقدی کی صورت میں اگر زکوٰۃ دو سو نقرئی درہم اور ۲۰ طلائی مشقال پر واجب ہو تو یہ سکے کتنے پاکستان کے روپوں کے برابر ہوں گے؟ اناج کی صورت میں صاع اور وسق پاکستان کے مختلف علاقوں اور صوبوں میں کن مروجہ اوزان کے برابر ہوں گے؟
(۱۸) کیا موجودہ حالات کے پیشِ نظر نصاب (وہ کم از کم سرمایہ جس پر زکوٰۃ واجب ہے) اور زکوٰۃ کی شرح میں کوئی تبدیلی ہوسکتی ہے؟ اس مسئلے پر اپنے خیالات دلائل کے ساتھ پیش کیجیے۔
(۱۹) مختلف اثاثوں اور سامان پر کتنی مدت گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟
(۲۰) اگر ایک سال میں کئی فصلیں ہوں تو کیا سال میں صرف ایک بار زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے یا ہر فصل پر؟
(۲۱) زکوٰۃ قمری سال کے حساب سے واجب ہونی چاہیے یا شمسی سال کے حساب سے؟ کیا زکوٰۃ کی تشخیص اور وصولی کے لیے کوئی مہینہ مقرر ہونا چاہیے؟
(۲۲) زکوٰۃ کی رقم کن مصارف میں خرچ ہونی چاہیے؟
(۲۳) قرآن حکیم میں جن مختلف مصارف میں زکوٰۃ خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ان کی حدود بیان کیجیے۔ بالخصوص اصطلاح’’ فی سبیل اللہ‘‘ کے معنی اور مفہوم کی وضاحت کیجیے۔
(۲۴)کیا یہ لازمی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کا ایک حصہ ان مصارف میں سے ہر ایک مصرف پر خرچ کرنے کے لیے الگ رکھا جائے جن کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے یا زکوٰۃ کی پوری رقم قرآن مجید میں بتائے ہوئے تمام مصارف پر خرچ کرنے کی بجائے ان میں سے کسی ایک یا چند مصارف میں خرچ کی جاسکتی ہے؟
(۲۵) مستحقین زکوٰۃ کے ہر طبقے میں کسی فرد کو کن حالات میں زکوٰۃ لینے کا حق پہنچتا ہے؟ پاکستان کے مختلف حصوں میں جو حالات پائے جاتے ہیں، ان کی روشنی میں اس امر کی وضاحت کی جائے کہ سیدوں اور بنی ہاشم سے تعلق رکھنے والے دوسرے افراد کو زکوٰۃ لینے کا کہاں تک حق پہنچتا ہے؟
(۲۶) کیا زکوٰۃ صرف افراد کو دی جاسکتی ہے یا اداروں (مثلاً تعلیمی اداورں، یتیم خانوں اور محتاج خانوں وغیرہ) کو بھی دی جا سکتی ہے؟
(۲۷) کیا زکوٰۃ کی رقم میں سے مستحق غریبوں، مسکینوں، بیواؤں اور ان لوگوں کو جو اپاہج یا ضعیف ہونے کی وجہ سے روزی کمانے سے معذور ہوں، عمر بھر کی پینشن کے طور پر گزارہ الاؤنس دیا جاسکتا ہے؟
(۲۸) کیا زکوٰۃ کو رفاہ عامہ کے کاموں مثلاً مسجدوں، ہسپتالوں، سڑکوں، پلوں، کنوؤں اور تالابوں وغیرہ کی تعمیر پر خرچ کیا جاسکتا ہے جس سے ہر آدمی بلا لحاظ مذہب و ملت فائدہ اٹھا سکے؟
(۲۹) کیا زکوٰۃ کی رقم کسی شخص کو قرض حسنہ یا قرضہ بلاسود کے طور پر دی جاسکتی ہے؟
(۳۰) کیا یہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ جس علاقے سے وصول کی جائے، اسی علاقے میں خرچ کی جائے یا اس علاقے سے باہر یا پاکستان سے باہر تالیف قلوب کے لیے یا آفات ارضی و سماوی مثلاً زلزلہ یا سیلاب وغیرہ کے مصیبت زدگان کی امداد پر بھی خرچ کی جاسکتی ہے؟ اس سلسلے میں آپ کے نزدیک علاقے کی کیا تعریف ہوگی؟
(۳۱)کسی متوفی کے متروکہ سے زکوٰۃ وصول کرنے کا کیا طریقہ ہونا چاہیے؟
(۳۲) ایسی کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں کہ لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کے لیے حیلہ نہ کرسکیں؟
(۳۳) زکوٰۃ کی تحصیل اور اس کا انتظام مرکز کے ہاتھ میں ہونا چاہیے یا صوبوں کے ہاتھ میں؟ اگر زکوٰۃ مرکز جمع کرے تو اس میں سے صوبوں یا دوسرے علاقوں کا حصہ مقرر کرنے کے کیا اصول ہوں؟
(۳۴) آپ کی نظر میں زکوٰۃ کے نظم و نسق کو چلانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ کیا زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے کوئی الگ محکمہ قائم کیا جائے یا حکومت کے موجودہ محکموں سے ہی کام لیا جائے؟
(۳۵) کیا کبھی زکوٰۃ کو سرکاری محصول قرار دیا گیا ؟ یا وہ کوئی ایسا محصول ہے کہ حکومت محض اس کی وصولی اور انتظام ہی کی ذمہ دار رہی ہو؟
(۳۶) کیا رسول اکرمﷺ کے زمانے یا خلفائے راشدین کے دور حکومت میں اغراض عامہ کے کاموں کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ بھی کوئی سرکاری محصول وصول کیا گیا۔ اگر کیا گیا تو وہ کون سا محصول تھا؟
(۳۷) اسلامی ملکوں میں زکوٰۃ کی وصولی اور انتظام کرنے کا کیا طریقہ رہا ہے اور اب کیا ہے؟
(۳۸) کیا زکوٰۃ کی وصولی اور خرچ کا انتظام صرف حکومت کے پاس رہنا چاہیے یا کوئی مجلس امناء مقرر ہو کر اس کا انتظام حکومت اور عوام کی مشترکہ نگرانی میں ہونا چاہیے؟
(۳۹) زکوٰۃ جمع کرنے اور اس کا انتظام کرنے کے لیے جو عملہ رکھا جائے، تنخواہیں، الاؤنس، پنشن، پراویڈنٹ فنڈ اور شرائط ملازمت کیا ہونی چاہئیں؟

جواب: (۱) زکوٰۃ کے لغوی معنی طہارت اور نمو کے ہیں۔ انہی دونوں صفتوں کے لحاظ سے اصطلاح میں ’’زکوٰۃ‘‘ اس مالی عبادت کو کہتے ہیں جو ہر صاحب نصاب مسلمان پر اس لیے فرض کی گئی ہے کہ خدا اور بندوں کا حق ادا کرکے اس کا مال پاک ہوجائے اور اس کا نفس، نیز وہ سوسائٹی جس میں وہ رہتا ہے، بخل، خود غرضی، بغض وغیرہ جذبات رویہ سے پاک ہو اور اس میں محبت واحسان، فراخ دلی اور باہمی تعاون و مواساۃ کے اوصاف نشونما پائیں۔
فقہا نے زکوٰۃ کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں مثلاً:
حق یجب فی المال (المغنی لا بن قدامہ ج ۲ ص ۳۳۴)
’’وہ ایک حق ہے جو مال میں واجب ہوتا ہے‘‘۔
اعطاء جزء من النصاب الیٰ فقیر و نحوہ غیر متصف بمانع شرعی یمنع من الصرف الیہ (نیل الاوطار۔ ج ۴ ص ۹۸)
’’نصاب میں سے ایک جزو کسی محتاج اور اس کے مانند شخص کو دینا جو کسی ایسے مانع شرعی سے متصف نہ ہو جس کی بنا پر اسے زکوٰۃ نہ دی جا سکے۔‘‘
تملیک مال مخصوص لمستحقہ بشرائط مخصوصہٓ (الفقہ علی المذہب الاربعۃ ج ۱ ص ۹۵)
’’ایک مخصوص مال کو مخصوص شرائط کے مطابق اس کے مستحق کی ملک میں دینا۔‘‘
(۲) عاقل و بالغ مسلمان مرد و زن اگر صاحب نصاب ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے اور اس کی ادائیگی کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔
نابالغ بچوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک مسلک یہ ہے کہ یتیم پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔دوسرا مسلک یہ ہے کہ یتیم کے سن رشد کو پہنچنے پر اس کا ولی اس کا مال اس کے حوالے کرتے وقت اس کو زکوٰۃ کی تفصیل بتادے، پھر یہ اس کا اپنا کام ہے کہ اپنے ایام یتیمی کی پوری زکوٰۃ ادا کرے۔
تیسرا مسلک یہ ہے کہ یتیم کا مال اگر کسی کاروبار میں لگایا گیا ہے اور نفع دے رہا ہے تو اس کا ولی اس کی زکوٰۃ ادا کرے ورنہ نہیں۔ چوتھا مسلک یہ ہے کہ یتیم کے مال کی زکوٰۃ واجب ہے اور اس کو ادا کرنااس کے ولی کے ذمے ہے۔ ہمارے نزدیک یہی چوتھا مسلک زیادہ صحیح ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے:
الامن ولی یتیمالہ مال فلیتجر لہ فیہ ولا یترکہ فتا کلہ الصدقہٓ (ترمذی، دارقطنی، بیہقی، کتاب الاموال لابی عبید)
’’خبردار جو شخص کسی ایسےیتیم کا ولی ہو جو مال رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ اس کے مال سے کوئی کاروبار کرے اور اسے یونہی نہ رکھ چھوڑے کہ اس کا سارا مال زکوٰۃ کھا جائے۔‘‘
اسی کے ہم معنی ایک حدیث امام شافعی نے مرسلاً اور ایک دوسری حدیث طبرانی اور ابو عبید نے مرفوعاً نقل کی ہے اور اس کی تائید صحابہ وتابعین کے متعدد آثار و اقوال سے ہوتی ہے جو حضرت عمرؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت جابر بن عبداللہؓ، اور تابعین میں سے مجاہد، عطاء، حسین بن یزید، مالک بن انس اور زہری سے منقول ہیں۔
فاتر العقل لوگوں کے معاملے میں بھی اسی نوعیت کا اختلاف ہے جو اوپر مذکور ہوا ہے اور اس میں بھی میرے نزدیک قول راجح یہی ہے کہ مجنون کے مال میں زکوٰۃ واجب ہے اور اس کا ادا کرنا مجنون کے ولی کے ذمے ہے۔امام مالک اور ابن شہاب زہری نے اس رائے کی تصریح کی ہے۔ قیدی پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ جو کوئی اس کے پیچھے اس کے کاروبار یا مال کا متولی ہو، اس کی طرف سے جہاں اس کے دوسرے واجبات ادا کرے گا، زکوٰۃ بھی ادا کرے گا۔ ابن قدامہ اس کے متعلق اپنی کتاب ’’المغنی‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’اگر مال کا مالک قید ہوجائے تو زکوٰۃ اس پر سے ساقط نہ ہوگی، خواہ قید اس کے اور اس کے مال کے درمیان حائل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ کیوں کہ اپنے مال میں اس کا تصرف قانوناً نافذ ہوتا ہے۔ اس کی بیع، اس کا ہبہ اور اس کا مختار نامہ، سب کچھ قانوناً جائز ہے‘‘۔ (جلد ۲، صفحہ ۲۴۶)
مسافر پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ مسافر ہونے کی حیثیت سے زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ صاحب نصاب ہے تو زکوٰۃ کا فرض اس پر سے ساقط ہوجائے گا۔ اس کا سفر اسے زکوٰۃ کا مستحق بناتا ہے اور اس کا مال دار ہونا اس پر زکوٰۃ فرض کرتا ہے۔
پاکستان کا مسلمان باشندہ اگر کسی غیر ملک میں مقیم ہو تو اس پر زکوٰۃ اس صورت میں عائد ہوگی جبکہ اس کا مال یا جائیداد یا کاروبار پاکستان میں بقدر نصاب موجود ہو۔کسی مسلمان مملکت کا مسلمان باشندہ اگر پاکستان میں مقیم ہو اور یہاں اس کے پاس مال یا جائیداد یا کاروبار بقدر نصاب ہو تو اس سے بھی زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔ رہا وہ مسلمان جو غیر مسلم حکومت کی رعایا ہو تو اسے ادائے زکوٰۃ پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ الا یہ کہ وہ بخوشی دینا چاہے۔ اس لیے کہ اس کی آئینی حیثیت اس حکومت کی غیر مسلم رعایا سے مختلف نہیں ہے۔
وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَلَمْ يُهَاجِرُواْ مَا لَكُم مِّن وَلاَيَتِهِم مِّن شَيْءٍ (سورۃ الانفال)
(۳) زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہونے کے لیے کسی عمر کی قید نہیں ہے۔ جب تک کوئی یتیم سن رشد کو نہ پہنچے، اس کی زکوٰۃ ادا کرنا اس کے ولی کے ذمے ہے اور جب وہ سن رشد کو پہنچ کر اپنے مال میں خود تصرف کرنے لگے تو وہ اپنی زکوٰۃ خود ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔
(۴) زیور کی زکوٰۃ کے بارے میں کئی مسلک ہیں۔ ایک مسلک یہ ہے کہ اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ اسے رعایتاً دینا ہی اس کی زکوٰۃ ہے۔ یہ انس بن مالک، سعید بن مسیب، قتادہ اور شعبی کا قول ہے۔ دوسرا مسلک یہ ہے کہ عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ زیور پر زکوٰۃ دے دینا کافی ہے۔ تیسرا مسلک یہ ہے کہ جو زیور عورت ہر وقت پہنے رہتی ہو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے اور جو زیادہ تر رکھا رہتا ہے، اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ چوتھا مسلک یہ ہے کہ ہر قسم کے زیور پر زکوٰۃ واجب ہے۔ ہمارے نزدیک یہی آخری قول صحیح ہے۔ اول تو جن احادیث میں چاندی سونے پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کا حکم بیان ہوا ہے، ان کے الفاظ عام ہیں۔ مثلاً یہ کہ:
فی رقۃ ربع العشر ولیس فی مادون خمس اواق صدقۃ۔
’’چاندی میں ڈھائی فیصد زکوٰۃ ہے اور پانچ اوقیہ سے کم پر زکوٰۃ نہیں ہے‘‘۔
پھر متعدد احادیث و آثار میں تصریح ہے کہ زیور پر زکوٰۃ دینا واجب ہے۔ چنانچہ ابو داؤد، ترمذی اور نسائی میں قوی سند کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ ایک عورت نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس کے ساتھ اس کی ایک لڑکی تھی جس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے۔ آپﷺ نے اس سے پوچھا کہ تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو۔ اس نے کہا نہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا:
ایسرک ان یسورک اللہ بھما یوم القیامۃ سوارین من النار(کیا تجھے پسند ہے کہ خدا قیامت کے روز تجھے ان کے بدلے آگ کے کنگن پہنائے) نیز موطا، ابو داؤد اور دارقطنی میں نبیﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے۔ما ادیت زکوٰتہ فلیس بکنز(جس زیور کی زکوٰۃ تو نے ادا کردی وہ کنز نہیں ہے)۔ابن حزم نے محلّٰی میں بیان کیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے گورنر ابو موسیٰ اشعریؓ کو جو فرمان بھیجا تھا، اس میں یہ بھی ہدایت تھی مرنساء المسلمین یزکین عن حلیھن (مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنے زیوروں کی زکوٰۃ ادا کریں)۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے فتویٰ پوچھا گیا کہ زیور کا کیا حکم ہے تو انہوں نے جواب دیا اذبلغ مائتین ففیہ الزکوٰۃ (جب وہ دو سو درہم کی مقدار کو پہنچ جائے تو اس میں زکوٰۃ ہے)۔ اسی مضمون کے اقوال صحابہ میں سے ابن عباسؓ، عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ، اور حضرت عائشہؓ سے تابعین میں سے سعید بن مسیب، سعید بن جبیر،عطاء، مجاہد، ابن سیرین اور زہری سے اور آئمہ فقہ میں سے سفیان ثوری، ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب سے منقول ہیں۔
(۵) کمپنیوں کے بارے میں ہمارا خیال یہ ہے کہ جو حصہ دار قدر نصاب سے کم حصے رکھتے ہوں، یا جو ایک سال سے کم مدت تک اپنے حصے کے مالک رہے ہوں، ان کو مستثنٰی کرکے باقی تمام حصے داروں کی اکھٹی زکوٰۃ کمپنیوں سے وصول کرنی چاہیے۔ اس میں انتظامی سہولت بھی ہے اور اس طریقے میں کوئی بات ایسی بھی نہیں ہے جو اصول شرع میں سے کسی اصل کے خلاف پڑتی ہو۔ ہماری یہ رائے امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور متعدد دوسرے فقہا کے مسلک کے مطابق ہے۔( بدایۃ المجتہد، ج ۱، ص ۲۲۵)
(۶) کارخانوں کی مشینری اور آلات پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی۔ صرف اس مال کی قیمت پر جو آخر سال میں ان کے پاس خام یا مصنوع شکل میں، اور اس نقد روپے پر جو ان کے خزانے میں موجود ہو، عائد ہوگی۔اسی طرح تاجروں کے فرنیچر، اسٹیشنری، دوکان یا مکان اور اس نوعیت کی دوسری اشیاء پر زکوٰۃ عائد نہ ہوگی۔ صرف اس مال کی قیمت پر جو ان کی دکان میں، اور اس نقد روپے پر جو ان کے خزانے میں ختم سال پر موجود ہو، عائد ہوگی۔ اس معاملے میں اصول یہ ہے کہ ایک شخص اپنے کاروبار میں جن عوامل پیدائش سے کام لے رہا ہو وہ زکوٰۃ سے مستثنٰی ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ لیس فی الابل العوامل صدقۃ (کتاب الاموال) یعنی کوئی شخص جن اونٹوں سے آب پاشی کا کام لیتا ہو، ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ کیوں کہ ان کی زکوٰۃ اس زرعی پیداوار سے وصول کی جاتی ہے جو ان کے عمل سے حاصل کی گئی ہو۔ اسی پر قیاس کرکے فقہا نے بالاتفاق دوسرے تمام آلات پیدائش کو زکوٰۃ سے مستثنٰی قرار دیا ہے۔
(۷) کمپنیوں کے جو حصے قابل فروخت ہوں وہ جب سال کے دوران میں فروخت کردیے جائیں تو اس سال نہ ان کے بائع پر زکوٰۃ واجب ہوگی اور نہ مشتری پر کیوں کہ دونوں میں سے کسی کی ملکیت پر بھی سال نہ گزرے گا۔
(۸) شریعت میں جو اشیاء محل زکوٰۃ ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
زرعی پیداوار فصل کٹنے کے بعد، سونا، چاندی، جبکہ وہ سال کے آغاز و اختتام پر بقدر نصاب یا اس سے زائد موجود ہوں، اسی طرح نقد روپیہ جو سونے چاندی کا قائم مقام ہو۔ مویشی جبکہ وہ افزائش نسل کے لیے پالے گئے ہوں اور سال کے آغاز و اختتام پر وہ بقدر نصاب ہوں۔ اموال تجارت، جبکہ وہ سال کے آغاز و اختتام پر بقدر نصاب ہوں۔ معادن ورکاز۔
(الف) نقدی، سونے چاندی اور زیورات پر زکوٰۃ ہے۔ زیور کی زکوٰۃ میں صرف اس سونے یا چاندی کا وزن کا اعتبار کیا جائے گا جو ان میں موجود ہو۔ جواہر خواہ زیور میں جڑے ہوں یا کسی اور صورت میں ہوں، زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص جواہری تجارت کرتا ہو تو اس پر وہی زکوٰۃ عائد ہوگی جو دوسرے اموال تجارت پر ہے، یعنی ان کی قیمت کا ڈھائی فیصدی۔ ’’الفقہ علی المذہب الاربعہ‘‘ میں لکھا ہے: ’’موتی، یاقوت اور دوسرے تمام جواہر پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے جبکہ وہ تجارت کے لیے نہ ہوں۔ اس پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے‘‘۔ (جلد ۱، صفحہ ۵۹۵)
(ب) دھات کے سکے اور کاغذی سکے محل زکوٰۃ ہیں، کیوں کہ ان کی قیمت ان کی دھات یا ان کے کاغذ کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی قوت خرید کی بنا پر ہے جو قانوناً اس کے اندر پیدا کردی گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ سونے اور چاندی کے قائم مقام ہیں۔ ’’الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘‘ میں ہے۔ ’’جمہور فقہا کی رائے یہ ہے کہ اوراق مالیہ پر زکوٰۃ ہے کیوں کہ وہ تعامل میں سونے اور چاندی کے قائم مقام ہیں اور ان کو بلا تکلف سونے اور چاندی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے آئمہ میں سے تین ابو حنیفہؒ، مالکؒ اور امام شافعیؒ کا مذہب یہ ہے کہ ان پر زکوٰۃ ہے‘‘۔ (جلد، صفحہ ۶۰۵)
(ج) بینکوں میں جو امانتیں رکھی ہوں وہ محل زکوٰۃ ہیں۔ دوسرے ادارے اگر رجسٹرڈ ہوں اور حکومت ان کے حساب کتاب کی پڑتال کرسکتی ہو، تو ان میں رکھی ہوئی امانتوں کا وہی حکم ہے جو بینک کی امانتوں کا ہے اور اگروہ رجسٹرڈ نہ ہوں، نہ ان کے حساب کتاب کی پڑتال کرنا حکومت کے لیے ممکن ہو تو ان میں رکھی ہوئی امانتیں اموال باطنہ کی تعریف میں آتی ہیں، جن کی زکوٰۃ وصول کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔ ان کے مالک خود ان کی زکوٰۃ نکالنے کے ذمہ دار ہیں۔
لیے ہوئے قرضے اگر ذاتی حوائج کے لیے لیے گئے ہوں اور خرچ ہوجائیں تو ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ اگر قرض لینے والا سال بھر تک ان کو رکھے اور وہ بقدر نصاب ہوں تو ان پر زکوٰۃ ہے۔ اور اگر ان کو تجارت میں لگایا جائے تو وہ قرض لینے والے کا تجارتی سرمایہ شمار ہوں گے اور اس کی تجارتی زکوٰۃ کو وصول کرتے وقت اس کے ایسے قرضوں کو مستثنیٰ نہ کیا جائے گا۔
دیئے ہوئے قرضے اگر بآسانی واپس مل سکتے ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔ بعض فقہا کے نزدیک ان کی زکوٰۃ سال بہ سال ادا کرنی ہوگی۔ یہ حضرت عثمانؓ، ابن عمرؓ، جابر بن عبداللہؓ، ابراہیم نخعیؒ ، اور حسن بصریؒ کا مسلک ہے اور بعض کے نزدیک جب وہ قرضے وصول ہوں تو تمام گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔ یہ حضرت علیؓ، ابوثورؒ، سفیان ثوری اور حنفیہ کا قول ہے اور اگر ان قرضوں کی واپسی مشتبہ ہو تو اس بارے میں ہمارے نزدیک قول راجح یہ ہے کہ جب رقم واپس ملے، اس وقت صرف ایک سال کی زکوٰۃ نکالی جائے۔ یہ حضرت عمر بن عبد العزیز، حسن لیث اوزاعی اور امام مالک کا قول ہے اور اس میں بیت المال اور صاحب مال، دونوں کے مفاد کی منصفانہ رعایت پائی جاتی ہے۔
مرہونہ جائداد کی زکوٰۃ اس شخص سے وصول کی جائے گی جس کے قبضے میں وہ ہو۔ مثلاً مرہونہ زمین اگر مرتہن کے قبضے میں ہے تو اس کا عشر اس سے وصول کیا جائے گا۔
متنازع فیہ جائداد کی زکوٰۃ دوران نزاع میں اس شخص سے لی جائے گی جس کے قبضے میں وہ ہو اور فیصلہ ہونے کے بعد اس کی ذکوٰۃ کا ذمہ دار وہ ہوگا جس کے حق میں فیصلہ ہو۔
قابل ارجاع نالش جائیدادکا بھی وہی حکم ہے جو اوپر بیان ہوا۔ وہ بالفعل جس شخص کے قبضے میں ہو اور جب تک رہے، اس کی زکوٰۃ اسی کے ذمے رہے گی۔ کیوں کہ جو شخص کسی چیز سے فائدہ اٹھاتا ہے، اس کے واجبات بھی اس کو ادا کرنا ہوں گے۔
(د) عطیہ اگر بقدر نصاب ہو اور اس پر سال گزر جائے تو جس شخص کو وہ دیا گیا ہو، اس سے زکوٰۃ لی جائے گی۔
(ہ) بیمہ اور پراویڈنٹ فنڈ اگر جبری ہوں تو ان کا حکم وہی ہے جو عسیر الحصول قرضوں اور امانتوں کا ہے۔ یعنی جب ان کی رقم واپس مل جائے تو صرف ایک سال کی زکوٰۃ نکالنی ہوگی اور اگر وہ اختیاری ہوں تو ہمارے نزدیک ہر سال کے خاتمے پر جتنی رقم ایک شخص کے حساب میں بیمہ کمپنی یا پراویڈنٹ فنڈ میں جمع ہو، اس پر زکوٰۃ وصول کی جانی چاہیے۔ کیوں کہ اگرچہ یہ رقم اب اس کے لیے قبل از وقت قابل وصول نہیں ہے لیکن اس نے اپنے مال کو باختیار خود اس حالت میں ڈالا ہے، اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ وہ زکوٰۃ سے بچ جائے۔
(و) شیر خانہ (ڈیری فارم) کے مویشی عوامل کی تعریف میں آتے ہیں اس لیے ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ البتہ شیر خانے کی مصنوعات پر اسی طریقے سے زکوٰۃ عائد ہوگی جس طرح دوسرے کارخانوں پر۔
زرعی پیداوار میں جو چیزیں ذخیرہ کرکے رکھنے کے قابل ہوں، ان پر عشر یا نصف عشر ہے اور یہی حکم ان پھلوں کا بھی ہے جو ذخیرہ کرکے رکھے جاسکتے ہوں، جیسے خشک میوہ اور چھوہارے۔ جو زراعت بارانی زمینوں میں ہو، اس پر عشر واجب ہوگا اور جس میں مصنوعی ذرائع سے آب پاشی کی جائے، اس پر نصف عشر۔
سبزی، ترکاری، پھول اور پھل جو ذخیرہ کرکے نہیں رکھے جاسکتے، ان پر عشر تو نہیں ہے لیکن اگر زمیندار انہیں مارکیٹ میں فروخت کرتا ہے تو اس پر تجارتی زکوٰۃ عائد ہوگی جبکہ وہ بقدر نصاب ہو۔ اس معاملے میں نصاب وہی ہوگا جو تجارت میں معتبر ہے، یعنی اس کاروبار کا تجارتی سرمایہ سال کے آغاز و اختتام پر دو سو درہم یا اس سے زائد ہو۔
(ر) معدنیات کے بارے میں ہمارے نزدیک سب سے بہتر مسلک حنابلہ کا ہے یعنی وہ تمام چیزیں جو زمین سے نکلتی ہیں، خواہ وہ دھات کی قسم سے ہوں یا مائعات (پٹرول، پارہ وغیرہ) کی قسم سے، ان سب پر ڈھائی فیصدی زکوٰۃ ہے، جبکہ ان کی قیمت بقدر نصاب ہو اور جبکہ وہ پرائیوٹ ملکیت میں ہوں۔ اس مسلک پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت میں عمل بھی تھا۔ (المغنی لا بن قدامہ، جلد ۲، صفحہ ۵۸۱)
(ح) برآمد شدہ دفینہ (رکاز) کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ فی الرکاز الخمس یعنی اس میں خمس (۲۰ فیصدی) لیا جائے گا۔
ط) آثار قدیمہ، یعنی وہ قیمتی نوادرات جو کسی نے بطور یادگار اپنے گھر میں رکھ چھوڑے ہوں، ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ بغرض تجارت ہوں تو ان پر تجارتی زکوٰۃ ہے۔
(ی) شہد کے بارے میں یہ بات مختلف فیہ ہے کہ آیا بجائے خود شہد کی ایک مقدار میں سے زکوٰۃوصول کی جانی چاہیے یا اس کی تجارت پر وہی زکوٰۃ عائد کی جائے جو تجارتی مال پر ہے۔ حنفیہ اس بات کے قائل ہیں کہ شہد بجائے خود محل زکوٰۃ ہے اور یہی مسلک احمد، اسحاق بن راہویہ، عمر بن عبدالعزیز، ابن عمرؓ اور ابن عباسؓ کا ہے، اور امام شافعیؒ کا بھی ایک قول اس کے حق میں ہے۔ بخلاف اس کے امام مالک اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ بجائے خود محل زکوٰۃ نہیں ہے۔ امام شافعی ؒ کا بھی مشہور قول یہی ہے اور امام بخاریؒ کہتے ہیں کہ لیس فی زکوٰۃ العسل شئی یصح شہد کی زکوٰۃ کے معاملے میں کوئی حدیث صحیح موجود نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک بہتر یہ ہے کہ شہد کی تجارت پر زکوٰۃ عائد کی جائے۔
(ک) مچھلی بجائے خود محل زکوٰۃ نہیں ہے بلکہ اس کی تجارت پر وہی زکوٰۃ واجب ہے جو اموال تجارت پر عائد ہوتی ہے۔
موتی، عنبر اور دوسری وہ چیزیں جو سمندر سے نکلتی ہیں، وہ ہمارے نزدیک معدنیات کے حکم میں ہیں اور ان پر وہی زکوٰۃ عائد ہونی چاہیے جو معدنیات میں بیان ہوچکی ہے۔ یہ امام مالکؒ کا مذہب ہے اور اسی پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت کا عمل رہا ہے۔ (کتاب الاموال، کتاب المغنی لا بن قدامہ ص ۳۴۹،جلد ۲، صفحہ ۵۸۴)
(ل) پٹرول کا حکم اوپر معادن کے سلسلے میں گزر چکا ہے۔
(م) برآمد پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ درآمد پر جو محصول حضرت عمرؓ کے زمانے میں لیا جاتا تھا، اس کی حیثیت زکوٰۃ کی نہ تھا، بلکہ وہ صرف جواب تھا اس محصول کا جو ہمسایہ حکومتیں اسلامی مملکت کے مال کی درآمد پر اپنے ملک میں وصول کرتی تھیں۔
(۹) خلافت راشدہ میں نبیﷺ کے عہد کے اموال زکوٰۃ کی فہرست میں کوئی ایسا اضافہ نہیں کیا گیا جو اپنی ایک مستقل بالذات نوعیت رکھتا ہو بلکہ ایسی چیزوں کا اضافہ کیا گیا تھا کہ حضورﷺ کے مقرر کیے ہوئے اموال زکوٰۃ میں سے کسی پر قیاس کی جاسکتی تھیں۔ مثلاً حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بھینس کو گائے پر قیاس کیا اور اس پر وہی زکوٰۃ عائد کی جو گائے کے لیے آنحضرتﷺ نے مقرر کی تھی۔
(۱۰) ہر قسم کے سکوں پر زکوٰۃ عائد ہوگی۔اوپر نمبر(۸)ضمن(ب)میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
جو سکے رائج الوقت نہیں ہیں،یا جو خراب ہیں،یا جو حکومت نے واپس لے لیے ہیں،ان میں اگر چاندی یا سونا موجود ہو تو ان پر چاندی یا سونے کی اس مقدار کے لحاظ سے زکوٰۃ عائد ہوگی جو ان کے اندر پائی جاتی ہے۔
دوسرے ملکوں کے سکے اگر ہمارے ملک کے سکوں سے بآسانی تبدیل کیے جاسکتے ہیں تو ان کا حکم نقدی کا ہے۔ اور اگر تبدیل نہ کیے جاسکتے ہوں تو ان پر صرف اس صورت میں زکوٰۃ عائد ہوگی جبکہ ان کے اندر بقدر نصاب سونا یا چاندی موجود ہو۔
(۱۱) مال ظاہر وہ ہے جس کا معائنہ اور تشخیص عاملین حکومت کرسکتے ہوں اور مال باطن وہ جو عاملین حکومت کے لیے قابل معائنہ نہ ہو۔ بینکوں میں جمع شدہ رقوم مال ظاہر کی تعریف میں آتی ہیں۔
(۱۲) مال نامی وہ ہے جو یا تو طبعاً افزائش کے قابل ہو، یا جسے سعی و عمل سے بڑھایا جاسکے۔ اس تعریف کی رو سے زکوٰۃ انہی اموال پر عائد کی گئی ہے جو نامی ہیں۔ اور جمع شدہ روپے پر اس لیے عائد کی جاتی ہے کہ اس کے مالک نے اسے نموکے لیے روک رکھا ہے۔
(۱۳) جو اشیاء کرایہ پر دی جاتی ہیں، ان کی مالیت رائج الوقت قواعد کے مطابق ان کے منافع سے تشخیص کی جائے اور اس پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ لی جائے۔ لیث بن سعد کہتے ہیں کہ ’’میں نے دیکھا کہ اونٹ کرائے پر چلائے جاتے ہیں، ان پر مدینے میں زکوٰۃ لی جاتی تھی‘‘۔ (کتاب الاموال، صفحہ ۳۷۶)
(۱۴) مویشی (مثلاً اونٹ، گائے، بھینس، بکری اور جو ان کی مانند ہوں) اگر افزائش نسل کی غرض سے پالے جائیں اور بقدر نصاب یا اس سے زائد ہوں تو ان پر وہ زکوٰۃ عائد ہوگی جو شریعت میں مواشی کے لیے مقرر ہے۔ (اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سیرت النبی مصنف مولانا سید سلیمان ندوی، جلد ۵، صفحہ ۱۶۵ تا ۱۶۷) اور اگر وہ تجارت کے لیے ہوں تو ان پر تجارتی زکوٰۃ ہے۔ یعنی اگر ان کی قیمت بقدر نصاب (دو سو درہم) یا اس سے زائد ہو تو ان پر ڈھائی فیصدی زکوٰۃ لی جائے گی۔ اور اگر ان سے زراعت یا حمل و نقل کا کام لیا جاتا ہو، یا کسی شخص نے ان کو ذاتی استعمال کے لیے پالا ہو، تو ان کی تعداد خواہ کتنی ہی ہو، ان پرکوئی زکوٰۃ نہیں۔
مرغیاں اور دوسرے جانور اگر شوقیہ پالے جائیں تو وہ زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں۔ اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان پر تجارتی زکوٰۃ ہے۔ اور اگر انڈوں کی فروخت کے لیے مرغی خانہ قائم کیا جائے تو اس کا وہی حکم ہے جو شیر خانہ اور دوسرے کارخانوں کا ہے۔
مویشی کی زکوٰۃ نقدی کی صورت میں بھی وصول کی جاسکتی ہے اور خود مویشی بھی زکوٰۃ میں لیے جاسکتے ہیں۔ اس پر حضرت علیؓ کا فتویٰ ہے۔ (کتاب الاموال، صفحہ ۳۶۸)
(۱۵) جن مختلف سامانوں پر زکوٰۃ واجب ہے، ان کی شرح حسب ذیل ہے۔
زرعی پیداوار= ۱۰ فیصدی جبکہ وہ بارانی زمینوں سے حاصل ہو۔
زرعی پیداوار= ۵ فیصدی جبکہ وہ مصنوعی آب پاشی سے حاصل ہو۔
نقدی اور سونا چاندی= ڈھائی فیصدی۔
اموال تجارت= ڈھائی فیصدی۔
مواشی= جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اسکا تفصیلی نقشہ سیرۃ النبی جلد پنجم میں ملاحظہ ہو۔
معادن= ڈھائی فیصدی۔
رکاز= ۲۰ فیصدی۔
کارخانوں کے اموال= ڈھائی فیصدی۔
(۱۶) خلفائے راشدین کے زمانے میں نبیﷺ کے مقرر کیے ہوئے نصاب اور شرح زکوٰۃ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، نہ اب اس کی کوئی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور ہمارا خیال یہ ہے کہ نبیﷺ کے بعد کوئی آپﷺ کی مقرر کردہ مقادیر میں ترمیم کرنے کا مجاز نہیں ہے۔
(۱۷) نقدی، چاندی، اموال تجارت، معادن، ارکاز اور کارخانوں کے اموال میں نصاب دوسو درہم ہے۔ مولانا عبدالحی صاحب فرنگی محلی کی تحقیق یہ ہے کہ دو سو درہم کی چاندی ہمارے ملک کے معیاری وزن کے حساب سے ۳۶ تولہ ۵ ماشہ ۴ رتی ہوتی ہے۔ مگر مشہور ساڑھے باون تولہ چاندی ہے۔
۲۰ طلائی مثقال کے متعلق مولانا عبدالحی صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ وہ ۵ تولہ ۲ ماشہ ۴ رتی سونے کے برابر ہیں۔ اور عام طور پر مشہور یہ ہے کہ ساڑھے سات تولے کے برابر۔
کتاب الاموال لابی عبید میں جو حساب لگایا گیا ہے، اس کی رو سے دس درہم کا وزن ۱۰\ ۳\ ۸۲ جو بنتا ہے اور وہ ۷ مثقال طلائی کے برابر ہے۔
(۱۸) اس کا جواب نمبر ۱۶ میں گزر چکا ہے البتہ سونے کے نصاب میں تبدیلی ممکن ہے کیوں کہ اس کا نصاب ۲۰ مثقال جس روایت میں آیا ہے، اس کی سند بہت ضعیف ہے۔
(۱۹) معادن،رکاز اور زرعی پیداوار کے سوا تمام صورتوں میں واجب زکوٰۃ کے لیے یہ شرط ہے کہ قدر نصاب یا اس سے زائد مال پر ایک سال گزر جائے۔ معادن اور رکاز کے لیے سال گزرنے کی شرط نہیں ہے۔ اور زرعی پیداوار پر فصل کٹنے کے ساتھ ہی زکوٰۃ واجب ہوجائے گی، خواہ سال میں دو یا زائد فصلیں کاٹی جائیں۔ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ آتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ
(۲۰)اس کا جواب نمبر ۱۹ میں گزر چکا ہے۔
(۲۱) چوں کہ آج کل تمام مالی معاملات اور حساب کتاب شمسی سال کے لحاظ سے ہورہے ہیں اس لیے زکوٰۃ کے معاملہ میں بھی شمسی سال ہی استعمال کیا جائے تو مضائقہ نہیں ہے۔ قمری سال کا وجوب اس معاملے میں کسی نص سے ثابت نہیں ہے۔
تحصیل زکوٰۃ کے لیے کوئی خاص مہینہ شرعاً مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت جس تاریخ سے زکوٰۃ کی تحصیل کا انتظام شروع کرے، اسی سے سال کا آغاز ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
(۲۲، ۲۳) قرآن مجید میں زکوٰۃ کے آٹھ مصرف بیان کیے گئے ہیں، فقراء، مساکین، عاملین زکوٰۃ، مولفتہ القلوب، رقاب، غارمین، فی سبیل اللہ، ابن السبیل۔
فقیر سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اپنی بسر اوقات کے لیے دوسروں کا محتاج ہو۔ یہ لفظ تمام حاجت مندوں کے لیے عام ہے، خواہ وہ بڑھاپے یا کسی جسمانی نقص کی وجہ سے مستقل طور پر محتاج اعانت ہوگئے ہوں، یا کسی عارضی سبب سے سردست مدد کے محتاج ہوں اور کچھ سہارا پاکر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکتے ہوں، جیسے یتیم بچے، بیوہ عورتیں، بیروز گار لوگ اور وہ لوگ جو کسی وقتی حادثے کا شکار ہوگئے ہوں۔
مسکین کی تشریح حدیث میں یہ آئی ہے کہ الذی لایجد غنی یغنیہ ولا یفطن لہ فیتصد ق علیہ ولا یقوم فیسأل الناس۔ ’’جو نہ اپنی حاجت بھر مال پاتا ہے، نہ پہچانا جاتا ہے کہ لوگ اس کی مدد کریں، نہ کھڑے ہوکر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے‘‘۔ اس لحاظ سے مسکین اس شریف آدمی کو کہتے ہیں جواپنی روزی کمانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہو مگر اپنی ضرورت کے قابل روزی نہ پاسکتا ہو۔ لوگ اسے برسر روزگار پاکر اس کی مدد نہیں کرتے اور وہ اپنی شرافت کی وجہ سے مدد مانگتا نہیں پھرسکتا۔
عاملین سے مراد وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کی تحصیل، تقسیم اور اس کے حساب کتاب کا انتظام کرتے ہیں۔ وہ صاحب نصاب ہوں یا نہ ہوں۔ ہر حال میں وہ اس مد سے اپنے کام کی تنخواہ پائیں گے۔
مؤلفۃ القلوب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اسلام اور اسلامی مملکت کے مفاد کی مخالفت سے روکنا، یا اس مفاد کی خدمت پر آمادہ کرنا مقصود ہو اور اس غرض کے لیے مال دے کر ان کی تالیف قلب کرنے کے سوا چارہ نہ ہو ۔ یہ لوگ کافر بھی ہوسکتے ہیں اور ایسے مسلمان بھی جن کا اسلام انہیں ،اسلامی مفاد کی خدمت پر ابھارنے کے لیے کافی نہ ہو۔نیز یہ لوگ اسلامی مملکت کے باشندے بھی ہوسکتے ہیں اور کسی بیرونی مملکت کے بھی۔اس قسم کے لوگ اگرصاحب نصاب بھی ہوں تو ا ن کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے بشرطیکہ اسلامی حکومت اس کی ضرورت محسوس کرے۔ہمیں اس خیال سے اتفاق نہیں ہے کہ مولفتہ القلوب کا حصہ ہمیشہ کے لیے ساقط ہو چکا ہے۔حضرت عمرؓ نے اس بارے میں جو رائے قائم کی تھی وہ ان کے اپنے زمانے کے لیے تھی نہ کہ آئندہ زمانوں کے لیے۔
رقاب سے مراد غلام ہیں۔ غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے زکوٰۃ دینا اس مد میں شامل ہے۔ اگر کسی زمانے میں غلام موجود نہ ہوں تو یہ مد ساقط رہے گی۔
غارمین سے مراد ایسے قرض دار لوگ ہیں جو اگر اپنا پورا قرض ادا کردیں تو ان کے پاس بقدر نصاب مال باقی نہ رہے۔ ایسے لوگ کمانے والے بھی ہوسکتے ہیں اور بے روز گار بھی۔
فی سبیل اللہ سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے، خواہ تلوار سے ہو یا قلم و زبان سے، یا ہاتھ پاؤں کی محنت اور دوڑ دھوپ سے۔ سلف میں سے کسی نے بھی اس لفظ کو رفاہ عامہ کے معنی میں نہیں لیا ہے۔ ان کے نزدیک بالاتفاق اس کا مفہوم ان مساعی تک محدود ہے جو خدا کے دین کو قائم کرنے، اس کی اشاعت کرنے اور اسلامی مملکت کا دفاع کرنے کے لیے کی جائیں۔
ابن السبیل یعنی مسافر۔ ایسا شخص خواہ اپنے گھر میں غنی ہو، لیکن اگر حالات سفر میں وہ مدد کا حاجت مند ہو تو زکوٰۃ سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔
(۲۴) یہ ضروری نہیں ہے کہ زکوٰۃ کی رقم ان تمام مصارف میں صرف کی جائے جو قرآن مجید میں مقرر کیے گئے ہیں۔ حکومت حسب موقع وضرورت ان میں سے جن جن مصارف میں جس جس قدر مناسب سمجھے خرچ کرسکتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر ضرورت پڑے تو ایک ہی مصرف میں ساری زکوٰۃ خرچ کی جاسکتی ہے۔
(۲۵) مستحقین زکوٰۃ میں سے فقیر اور مسکین اس صورت میں زکوٰۃ لے سکتا ہے جبکہ وہ صاحب نصاب نہ ہو۔ عاملین اور مولفۃ القلوب صاحب نصاب ہوں تب بھی ان کو زکوٰۃ کی مد سے دیا جاسکتا ہے۔ غلام کا غلام ہونا بجائے خود اسے اس بات کا مستحق بناتا ہے کہ اسکی آزادی پر زکوٰۃ صرف کی جائے۔ قرض دار اس حالت میں زکوٰۃ لے سکتا ہے جبکہ وہ اپنا پورا قرض ادا کرکے صاحب نصاب نہ رہ سکتا ہو۔ راہ خدا میں جہاد کرنے والے اگر بجائے خود صاحب نصاب بھی ہوں تو اس جہاد کے مصارف کے لیے انہیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ ابن السبیل ایسی صورت میں زکوٰۃ پاسکتا ہے جبکہ حالت سفر میں وہ مدد کا محتاج ہو۔
بنی ہاشم پر زکوٰۃ لینا حرام ہے۔ مگر آج پاکستان میں یہ تحقیق کرنا بہت مشکل ہے کہ کون ہاشمی ہے اور کون نہیں ہے۔ اس لیے حکومت تو ہر شخص کو زکوٰۃ دے گی جو اس کا حاجت مند نظر آئے۔ یہ لینے والے کا اپنا کام ہے کہ اگر وہ اپنے ہاشمی ہونے کا یقین رکھتا ہو تو وہ زکوٰۃ نہ لے۔
(۲۶) زکوٰۃ جب حکومت کے خزانے میں جمع ہوجائے تو وہ افراد اور اداروں سب کو دے سکتی ہے اور خود بھی زکوٰۃ سے ایسے ادارے قائم کرسکتی ہے جو مصارف زکوٰۃ سے متعلق ہوں۔
(۲۷) جو لوگ زکوٰۃ کے مستقل یا عارضی طور پر محتاج ہوں، ان کو مستقل طور پر یا عارضی طور پر وظائف دیے جاسکتے ہیں۔
(۲۸) مصارف زکوٰۃ کی مد فی سبیل اللہ اتنی عام نہیں ہے کہ ’’رفاہ عام‘‘ کی ہم معنی قرار پائے۔
(۲۹)زکوٰۃ کی مد سے قرض حسنہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ موجودہ حالات میں حاجت مند لوگوں کو قرض دینے کے لیے بیت المال میں ایک مد مخصوص کردینا ہمارے نزدیک مستحسن ہے۔
(۳۰) عام حالات میں تو یہی مناسب ہے کہ ایک علاقے کی زکوٰۃ اسی علاقے کے حاجت مندوں پر صرف کی جائے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کے زمانے میں ایک مرتبہ رے کی زکوٰۃ کوفہ منتقل کردی گئی تو انہوں نے حکم دیا کہ وہ رے واپس کی جائے۔ (کتاب الاموال، صفحہ ۵۹) البتہ اگر دوسرے علاقے میں کوئی زیادہ شدید ضرورت پیش آجائے تو ایسے علاقوں کی زکوٰۃ، جہاں زکوٰۃ کے بقایاجات موجود ہوں، یا جہاں کی ضرورت کم تر درجے کی ہوں، ضرورت مند علاقے میں لے جاکر صرف کی جاسکتی ہے۔ ملک سے باہر بھی اگر کوئی بڑی مصیبت پیش آجائے تو انسانی ہمدردی اور تالیف قلوب کی خاطر زکوٰۃ بھیجی جاسکتی ہے، مگر اس امر کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ خود ملک کے اندر جو حاجت مند ہیں، وہ محروم نہ رہ جائیں۔
علاقے سے مراد انتظامی حلقے ہیں۔ اس سے مراد ضلع، قسمت اور صوبہ تینوں ہوسکتے ہیں۔ ملک کے لحاظ سے ایک علاقہ صوبہ ہوگا۔ صوبہ کے لحاظ سے قسمت اور قسمت کے لحاظ سے ضلع۔
(۳۱) متوفی کے ترکے سے پہلے وہ قرضے ادا کیے جائیں جو اس نے دوسرے لوگوں سے لیے ہوں، پھر زکوٰۃ کے بقایا، پھر وصیت اور اس کے بعد جو کچھ بچے گا، وہ وارثوں میں تقسیم ہوگا۔ صاحب مال کی موت کی وجہ سے اس کی زکوٰۃ ساقط نہیں ہوجاتی۔ اس نے چاہے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو، وہ اس کے مال میں سے نکالی جائے گی۔ عطاء، زہری، قتادہ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام محمدؒ، اسحاق بن راہویہ اور ابو ثور کی رائے قریب قریب یہی ہے۔ بعض فقہا نے یہ رائے دی ہے کہ اگر صاحب مال نے زکوٰۃ کے لیے وصیت کی ہو تو وہ نکالی جائے ورنہ نہیں۔ مگر ہماری رائے میں اس کا تعلق صرف اموال باطنہ سے ہے، کیوں کہ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ صاحب مال نے اپنی موت سے پہلے زکوٰۃ نکال دی ہو اور دوسروں کو اسکی خبر نہ ہو۔ لیکن جب اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ وصول کرنے کا باقاعدہ انتظام حکومت کر رہی ہو، تو ایسا کوئی احتمال باقی نہیں رہتا۔ اس لیے زکوٰۃ کے بقایا اس شخص کے ذمے بمنزلہ قرض ہوں گے۔ پہلے اس کے مال میں سے افراد کا قرض وصول کیا جائے اور اس کے بعد خدا اور جماعت کا۔
(۳۲) زکوٰۃ سے بچنے کے حیلوں کا علاج تین طریقوں سے ہوسکتا ہے:
اول یہ کہ حکومت کا انتظام ایماندار لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو رشوتیں نہ کھائیں، زکوٰۃ کی تحصیل اور تقسیم میں جانبداری اور بد دیانتی سے کام نہ لیں، اور اموال زکوٰۃ کا بڑا حصہ اپنی تنخواہوں اور الاؤنسوں پر صرف کردیں۔محصلین کی دیانت لوگوں میں یہ اعتماد پیدا کرے گی کہ ان کی زکوٰۃ صحیح طریقے سے وصول اور صحیح مصارف میں صرف کی جائے گی، اس لیے وہ ادائے زکوٰۃ سے بچنے کی کوشش نہ کریں گے۔
دوم یہ کہ اجتماعی اخلاق کی اصلاح کی جائے اور لوگوں کی سیرت و کردار کو خدا کی محبت اور اس کے خوف پر تعمیر کیا جائے۔ حکومت کا کام صرف انتظام ملک اور دفاع ملک تک ہی محدود نہ رہے بلکہ وہ عوام کی تربیت کا فریضہ بھی انجام دے۔
سوم یہ کہ زکوٰۃ سے بچنے کی عام اور ممکن التصور صورتوں کے خلاف قوانین بنائے۔ مثلاً جو شخص اپنے قابل زکوٰۃ اموال کو ختم سال سے پہلے کسی غیر معمولی مقدار میں اپنے کسی عزیز کے نام منتقل کرے، اس پر مقدمہ چلایا جائے اور بار ثبوت اس پر ڈالا جائے کہ اس نے یہ انتقال زکوٰۃ سے بچنے کے لیے نہیں کیا ہے۔
(۳۳) ہماری رائے میں زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم کا انتظام صوبوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور مرکز کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ ایک صوبے کی وافر زکوٰۃ کو دوسرے صوبوں میں بھجواسکے جہاں کی زکوٰۃ معمولی یا غیر معمولی مقامی ضرورتوں کے لیے کافی نہ رہی ہو۔ نیز مرکز کو یہ بھی اختیار ہونا چاہیے کہ اگر زکوٰۃ کی مد سے کچھ ایسے ادارے قائم کرنے یا کچھ ایسے کام کرنے کی ضرورت پیش آئے جن کا تعلق ملک کے اندر اور باہر ’’فی سبیل اللہ‘‘ خدمات انجام دینے سے ہو، یا ملک کے باہر غیر معمولی مصائب کے موقع پر مدد بھیجنے کی ضرورت ہو، تو وہ صوبوں سے ان کی زکوٰۃ کا ایک حصہ طلب کرسکے۔
(۳۴) ہمارے نزدیک زکوٰۃ کی تحصیل کے لیے کوئی الگ محکمہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مختلف قسم کی زکوٰۃ وصول کرنا ایسے محکموں کے سپرد ہونا چاہیے جن کے فرائض اسی قسم کے دوسرے ٹیکس وصول کرنے سے متعلق ہیں۔ مثلاً زرعی زکوٰۃ اور مواشی کی زکوٰۃ وصول کرنا محکمہ مال کے سپرد ہو۔ اموال تجارت کی زکوٰۃ انکم ٹیکس کا محکمہ وصول کرے۔ کارخانوں کی زکوٰۃ ایکسائز کا محکمہ و علی ہذا القیاس۔ زکوٰۃ کی حفاظت سرکاری خزانے کے سپرد اور اس کا حساب اکاؤنٹنٹ جنرل کے محکمے کے سپرد ہو۔
اگر ہماری سفارش کے مطابق زکوٰۃ کو صوبوں کے انتظام میں دیا جائے اور تحصیل زکوٰۃ کے کسی شعبے کا کام ایسے محکمے کے حوالے کرنا پڑے جو مرکزی محکمہ ہو، تو باہمی قرار داد سے یہ انتظام کیا جاسکتا ہے کہ تحصیل زکوٰۃ کی حد تک اس محکمے کے مصارف صوبہ ادا کرے۔
البتہ زکوٰۃ کی تقسیم اور مصارف زکوٰۃ میں اموال زکوٰۃ کو خرچ کرنے کے لیے ایک الگ محکمہ قائم ہونا ضروری ہے جسے کسی ایسے وزیر کے ماتحت رکھا جائے جو اوقاف اور دوسرے مذہبی اداروں کی نگرانی کا کام بھی کرتا ہو۔
(۳۵) یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ زکوٰۃ کوئی ’’ٹیکس‘‘ نہیں ہے بلکہ ایک مالی عبادت ہے۔ ’’ٹیکس‘‘ اور ’’عبادت‘‘ میں بنیادی تصور اور اخلاقی روح کے اعتبار سے زمین و آسمان کا فرق ہے۔ حکومت کے کارندوں اور زکوٰۃ دینے والوں میں اگر ’’ عبادت‘‘ کی بجائے ’’ٹیکس‘‘ کی ذہنیت پیدا ہوجائے گی تو یہ ان اخلاقی و روحانی فوائد کو بالکل ہی ضائع کردے گی جو زکوٰۃ سے اصل مقصود ہیں اور اجتماعی فوائد کو بھی بہت بڑی حد تک نقصان پہنچائے گی۔ حکومت کے سپرد زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم کرنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ ایک سرکاری محصول ہے، بلکہ دراصل اس عبادت کا انتظام اس وجہ سے حکومت کے سپرد کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی تمام اجتماعی عبادات میں نظم پیدا کرنا ایک اسلامی حکومت کا فریضہ ہے۔ اقامت صلوٰۃ اور امارت حج بھی اسی طرح اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ہے جس طرح تحصیل و تقسیم زکوٰۃ۔
(۳۶) حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’ان فی المال حقاً سوی الزکوٰۃ‘‘ ’آدمی کے مال میں زکوٰۃ کے سوا اور بھی حق ہے۔‘‘ اس اصولی ارشاد کی موجودگی میں یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کیا ایک اسلامی حکومت زکوٰۃ کے سوا دوسرے محاصل عائد کرسکتی ہے۔ پھر جبکہ قرآن مجید میں زکوٰۃ کے لیے چند مخصوص مصارف معین کردیے گئے ہیں تو لامحالہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان مصارف کے ما سوا جو دوسرے فرائض حکومت کے ذمے عائد ہوں، ان کو بجا لانے کے لیے وہ دوسرے محاصل پبلک پر عائد کرے۔ نیز قرآن مجید میں یہ اصولی ہدایت بھی دی گئی ہے کہ يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ’’تم سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں، کہو عفو۔‘‘ عفو کا لفظ (Economic Surplus) کا ہم معنی ہے اور اس میں نشان دہی کی گئی ہے کہ ’’عفو‘‘ ٹیکس کا صحیح محل ہے۔ مزید برآں ایسے نظائر بھی موجود ہیں کہ خلفائے راشدین کے عہد میں دوسرے محصول عائد کیے گئے ہیں۔ مثلاً حضرت عمرؓ کے عہد میں محصول درآمد مقرر کیا گیا اور اس کا شمار ’’زکوٰۃ‘‘ میں نہیں بلکہ ’’فے‘‘(حکومت کی عام آمدنیوں) میں تھا۔علاوہ بریں شریعت میں کوئی ایسی ہدایت موجود نہیں ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکے کہ حکومت اجتماعی ضروریات کے لیے کوئی دوسرا ٹیکس نہیں لگا سکتی اور اصول یہ ہے کہ جس چیز سے منع نہ کیا گیا ہو، وہ مباح ہے۔ فقہائے اسلام سے بھی، جہاں تک ہم کو معلوم ہے، ایک غیر معروف شخصیت ضحاک بن مزاحم کے سوا کوئی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ نسخت الزکوٰۃ حق فی المال (زکوٰۃ نے مال میں ہر دوسرے حق کو منسوخ کردیا ہے) ضحاک کی اس رائے کو کسی قابل ذکر فقیہ نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ (المحلّٰی لا بن حزم، جلد ۲ صفحہ ۱۵۸)
(۳۷) صدر اول میں حکومت کی طرف سے محصلین مقرر تھے جو اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ ان مقامات پر خود ہی جا کر وصول کرتے تھے جہاں وہ اموال ہوں۔ زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے الگ خزانے نہیں تھے، البتہ ان کا حساب کتاب الگ رہتا تھا اور زکوٰۃ کی تقسیم حکومت کے وہ عمال کرتے تھے جن کے سپرد دوسری سرکاری خدمات بھی ہوتی تھیں۔ تقسیم زکوٰۃ کے لیے کسی الگ محکمے کا وجود ہمارے علم میں نہیں ہے۔ لیکن یہ ایسے انتظامی معاملات ہیں جن میں آج کے احوال و ضروریات کے لحاظ سے ہم جس طرح مناسب سمجھیں عملی صورتیں اختیار کرسکتے ہیں۔
موجودہ مسلم حکومتوں کے متعلق ہمیں علم نہیں ہے کہ کسی نے زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم کا باقاعدہ انتظام کیا ہو۔
(۳۸) ہماری رائے میں زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم کا انتظام اسلامی حکومت ہی کو کرنا چاہیے۔
(۳۹) زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم کا انتظام کرنے والے عملے کی حیثیت تنخواہوں، الاؤنسوں، پنشنوں اور شرائط ملازمت کے لحاظ سے دوسرے سرکاری ملازمین سے مختلف نہ ہونی چاہیے۔ البتہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے میں حکومت کو اپنے طریق کار میں بنیادی تبدیلیاں کرنی چاہئیں۔ موجودہ افراط و تفریط اگر بحال رہے تو نہ زکوٰۃ کی تحصیل صحیح طریقے سے ہوسکے گی اور نہ اس کی تقسیم۔
(ترجمان القرآن، محرم ۱۳۷۰ھ، نومبر ۱۹۵۰ء)

FAQs