اسلام اور اشتراکیّت کا اصولی فرق

سرمایہ داری کے عین مقابل ایک دوسرا نظام معیشت ہے جس کو اشتراکی نظام کہتے ہیں۔ اس کی بنیاد اس نظریہ پر ہے کہ تمام وسائل ثروت سوسائٹی کے درمیان مشترک ہیں’ اس لیے افراد کو فرداً فرداً ان پر مالکانہ قبضہ کرنے اور اپنے حسبِ منشا ان میں تصرف کرنے اور ان کے منافع سے تنہا متمتع ہونے کا کوئی حق نہیں۔ اشخاص کو جو کچھ ملے گا وہ محض ان خدمات کا معاوضہ ہوگا جو سوسائٹی کے مشترک مفاد کے لیے وہ انجام دیں گے۔ سوسائٹی ان کے لیے ضروریات زندگی فراہم کرے گی اور وہ اس کے بدلہ میں کام کریں گے۔

یہ نظریہ ایک دوسرے ڈھنگ پر معیشت کی تنظیم کرتا ہے جو بنیادی طور پر نظام سرمایہ داری سے مختلف ہے۔ اس تنظیم میں سرے سے ملکیت شخصی ہی کا وجود نہیں پھر کہاں اس کی گنجائش کہ کوئی روپیہ جمع کرے اور اس کو بطور خود کاروبار میں لگائے۔ یہاں چونکہ نظریے اور اصول میں اختلاف ہوگیا ہے اس لیے مناہج بھی بدل گئے ہیں۔ نظامِ سرمایہ داری کا کارخانہ بنکنگ’ انشورنس’ شرکت ہائے اسہامی (Joint stock companies) اور ایسے ہی دوسرے اداروں کے بغیر چل نہیں سکتا لیکن اشتراکیت کی ساخت اور اس کے معاشی معاملات میں نہ ان اداروں کی گنجائش ہے’ نہ ضرورت۔ سرمایہ داری کے مزاج سے سود کو جتنی گہری مناسبت ہے’ اشتراکیت کے مزاج سے اس کو اتنی ہی زیادہ شدید ناموافقت ہے۔ اشتراکیت اس چیز کی بنیاد ہی مسمار کردیتی ہے جس کی بنا پر ایک شخص سود لیتا اور دوسرا شخص سود دیتا ہے۔ اس کے اصول کسی شکل اور کسی حیثیت میں سود کو جائز نہیں رکھتے اور جو شخص ان اصولوں پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے ممکن نہیں کہ بیک وقت اشتراکی بھی ہو اور سودی لین دین بھی کرے ۔

اشتراکیت اور سرمایہ داری ایک دوسرے کے خلاف دو انتہائی نقطوں پر ہیں۔ سرمایہ داری افراد کو ان کے فطری حقوق ضرور دیتی ہے مگر اس کے اصول و نظریات میں کوئی ایسی چیز نہیں جو افراد کو جماعت کے مشترک مفاد کی خدمت کے لیے آمادہ کرنے والی اور تا بحدّ ضرورت اس پر مجبور کرنے والی ہو۔ بلکہ درحقیقت وہ افراد میں ایک ایسی خودغرضانہ ذہنیت پیدا کرتی ہے جس سے ہر شخص اپنے شخصی مفاد کے لیے جماعت کے خلاف عملاً جنگ کرتا ہے اور اس جنگ کی بدولت تقسیم ثروت کا توازن بالکل بگڑ جاتا ہے۔ ایک طرف چند خوش نصیب افراد پوری جماعت کے وسائل ثروت کو

_________________________________

۔ واضح رہے کہ یہاں ہم خالص نظریے سے بحث کر رہے ہیں’ ورنہ عملاً اشتراکی نظام نے روس میں بہت پلٹیاں کھائی ہیں اور اپنے انتہا پسندانہ نظریات کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام ہوکر وہ سرمایہ داری کے مختلف طریقوں کی طرف عود کرتا چلا گیا ہے چنانچہ اب وہاں ان لوگوں کے لیے جو اپنی ضرورت سے زیادہ معاوضے پاتے ہیں’ یہ ممکن ہوگیا ہے کہ اپنی زائد از ضرورت آمدنی کو جمع کریں’ اسے بینک میں رکھیں اور سود پائیں۔

سمیٹ کر لکھ پتی اور کروڑ پتی بن جاتے ہیں’ اور اپنے سرمایہ کی قوّت سے مزید دولت کھینچتے چلے جاتے ہیں۔ دوسری طرف جمہور کی معاشی حالت خراب سے خراب تر ہوتی چلی جاتی ہے اور دولت کی تقسیم میں ان کا حصہ گھٹتے گھٹتے بمنزلہ صفر رہ جاتا ہے۔ ابتدا میں سرمایہ داروں کی دولت اپنے شاندار مظاہر سے تمدن میں ایک دلفریب چمک دمک تو ضرور پیدا کردیتی ہے’ مگر دولت کی غیر متوازن تقسیم کا آخری انجام اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ معاشی دنیا کے جسم میں دوران خون بند ہوجاتا ہے’ جسم کے اکثر حصے قلت خون کی وجہ سے سوکھ کر تباہ ہوتے ہیں اور اعضاء رئیسہ کو خون کا غیر معمولی اجتماع تباہ کردیتا ہے۔

اشتراکیت اسی خرابی کا علاج کرنا چاہتی ہے’ مگر وہ ایک صحیح مقصد کے لیے غلط راستہ اختیار کرتی ہے۔ اس کا مقصد تقسیم ثروت میں توازن قائم کرنا ہے’ اور یہ بلا شبہ صحیح مقصد ہے’ مگر اس کے لیے وہ ذریعہ ایسا اختیار کرتی ہے جو در حقیقت انسانی فطرت سے جنگ ہے۔ افراد کو شخصی ملکیت سے محروم کرکے بالکل جماعت کا خادم بنا دینا نہ صرف معیشت کے لیے تباہ کن ہے بلکہ زیادہ وسیع پیمانے پر انسان کی پوری تمدنی زندگی کے لیے مہلک ہے۔ کیونکہ یہ چیز معاشی کاروبار اور نظام تمدن سے اس کی روح رواں’ اس کی اصلی قوّتِ محرکہ کو نکال دیتی ہے۔ تمدن و معیشت میں انسان کو جو چیز اپنی انتہائی قوت کے ساتھ سعی و عمل کرنے پر ابھارتی ہے’ وہ در اصل اس کا ذاتی مفاد ہے۔ یہ انسان کی فطری خود غرضی ہے جس کو کوئی منطق اس کے دل و دماغ کے ریشوں سے نہیں نکال سکتی۔ غیر معمولی (Abnormal)افراد کو چھوڑ کر ایک اوسط درجہ کا آدمی اپنے دل اور دماغ اور دست و بازو کی تمام طاقتیں صرف اسی کام میں خرچ کرتا ہے اور کرسکتا ہے جس سے اس کو خود اپنے مفاد کے لیے ذاتی دل چسپی ہوتی ہے۔ اگر سرے سے یہ دلچسپی ہی باقی نہ رہے اور اس کو معلوم ہو کہ اس کے لیےفوائد و منافع کی جو حد مقرر کردی گئی ہے اس سے بڑھ کر وہ اپنی جدوجہد سے کچھ بھی حاصل نہ کرسکے گا’ تو اس کے قوائے فکر و عمل ٹھٹھر کر رہ جائیں گے’ اور وہ محض ایک مزدور کی طرح کام کرے گا جس کو اپنے کام سے بقدر اجرت ہی دلچسپی ہوتی ہے۔

یہ تو اشتراکی نظام کا باطنی پہلو ہے۔ اس کا خارجی اور عملی پہلو یہ ہے کہ وہ سرمایہ دار افراد کا خاتمہ کرکے ایک بہت بڑے سرمایہ دار کو وجود میں لاتا ہے یعنی اشتراکی حکومت۔ یہ بڑا سرمایہ دار لطیف انسانی جذبات کی اس اقل قلیل مقدار سے بھی خالی ہوتا ہے جو سرمایہ دار افراد میں پائی جاتی ہے۔ وہ بالکل ایک مشین کی طرح پورے استبداد کے ساتھ ان کے درمیان اسباب حیات تقسیم کرتا ہے۔ اس کے پاس نہ ہمدردی ہے’

______________________

اشتراکیت کو نظری طور پر ابتداءً اس حقیقت سے انکار تھا’ بلکہ اس کے انتہا پسند فلسفی تو یہاں تک کہہ گزرے کہ انسان اپنے اندر کسی قسم کے پیدائشی رجحانات نہیں رکھتا’ سب کچھ ماحول کی پیداوار ہے’ اور تعلیم و تربیت سے ہم افراد میں وہ اجتماعی ذہنیت( Social Mindness) پیدا کرسکتے ہیں جو خود غرضانہ رجحانات سے خالی ہو۔ مگر تجربہ نے اشتراکی حضرات کی اس غلط فہمی کو آخر کار رفع کردیا۔ اب روس میں کارکنوں کو عمل پر ابھارنے کے لیے ان کے ذاتی مفاد سے اپیل کرنے کی نت نئی تدبیریں اختیار کی جا رہی ہیں۔

نہ قدرواعتراف۔ وہ انسانوں سے انسانوں کی طرح کام نہیں لیتا بلکہ مشین کے کل پرزوں کی طرح کام لیتا ہے اور ان سے فکر و رائے اور عمل کی آزادی بالکل سلب کرلیتاہے۔ اس شدید استبداد کے بغیر نظامِ اشتراکی نہ قائم ہوسکتا ہے ’ نہ قائم رہ سکتا ہے۔ کیونکہ افراد کی فطرت اس نظام کے خلاف ہر وقت آمادہ بغاوت رہتی ہے۔ اگر ان کو دائماً استبداد کے آہنی پنجہ میں جکڑ کر نہ رکھا جائے تو وہ اشتراکی نظم کو دیکھتے دیکھتے منتشر کردیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج روس کی سوویٹ گورنمنٹ دنیا کی حکومتوں میں سب سے زیادہ مستبد اور جابر حکومت ہے۔ اپنی رعیت کو اس نے ایسے سخت آہنی شکنجہ میں جکڑ رکھا ہے جس کی مثال دنیا کی کسی شخصی یا جمہوری حکومت میں نہیں ملتی۔ اس کا یہ جبر واستبداد کچھ اس وجہ سے نہیں ہے کہ محض بخت و اتفاق نے اسٹالین جیسے ڈکٹیٹر کو پیدا کردیا ہے۔ بلکہ در حقیقت اشتراکیت کا مزاج ہی ایک شدید ترین ڈکٹیٹر شپ کا مقتضی ہے۔

نظامِ اسلامی

اسلام ان دو متضاد معاشی نظاموں کے درمیان ایک معتدل نظام قائم کرتا ہے جس کا اصل الاصول یہ ہے کہ فرد کو اس کے پورے پورے شخصی و فطری حقوق بھی دیے جائیں اور اس کے ساتھ تقسیم ثروت کا توازن بھی نہ بگڑنے دیا جائے۔ ایک طرف وہ فرد کو شخصی ملکیت کا حق اور اپنے مال میں تصرف کرنے کے اختیارات دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ ان سب حقوق اور اختیارات پر باطن کی راہ سے کچھ اخلاقی پابندیاں اور ظاہر کی راہ سے کچھ ایسی قانونی پابندیاں عائد کردیتا ہے جن کا مقصد یہ ہے کہ کسی جگہ وسائل ثروت کا غیر معمولی اجتماع نہ ہوسکے’ ثروت اور اس کے وسائل ہمیشہ گردش کرتے رہیں اور گردش ایسی ہو کہ جماعت کے ہر فرد کو اس کا متناسب حصہ مل سکے۔ اس مقصد کے لیے اس نے معیشت کی تنظیم ایک اور ڈھنگ پر کی ہے جو اپنی روح’ اپنے اصول اور اپنے طریق کار کے اعتبار سے سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے مختلف ہے۔

اسلام کا معاشی نظریہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ معاشی زندگی میں ہر ہر فرد کا شخصی مفاد اور تمام افراد کا اجتماعی مفاد ایک دوسرے کے ساتھ گہرا ربط رکھتا ہے’ اس لیے دونوں میں مزاحمت کے بجائے موافقت اور معاونت ہونی چاہیے۔ فرد اگر اجتماعی مفاد کے خلاف جدوجہد کرکے جماعت کی دولت اپنے پاس سمیٹ لے اور اس کو جمع رکھنے یا خرچ کرنے میں محض اپنے ذاتی مفاد کو ملحوظ رکھے تو یہ صرف جماعت ہی کے لیے نقصان دہ نہیں ہے’ بلکہ مآل کار میں اس کے نقصانات خود اس شخص کی اپنی ذات کی طرف بھی عود کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر جماعت کا نظام ایسا ہو کہ وہ اجتماعی مفاد کے لیے افراد کے شخصی مفاد کو قربان کردے تو اس میں صرف افراد ہی کا نقصان نہیں ہے بلکہ مآل کار میں جماعت کا بھی نقصان ہے۔ پس فرد کی بہتری اس میں ہے کہ جماعت خوش حال ہو’ اور جماعت کی بہتری اس میں ہے کہ افراد خوش حال ہوں’ اور دونوں کی خوش حالی اس پر موقوف ہے کہ افراد میں خود غرضی اور ہمدردی کا صحیح تناسب قائم ہو۔ ہر شخص اپنے ذاتی فائدے کے لیے جدوجہد کرے’ مگر اس طرح کہ اس میں دوسروں کا نقصان نہ ہو۔ ہر شخص جتنا کما سکے کمائے مگر اس کی کمائی میں دوسروں کا حق بھی ہو۔ ہر شخص دوسروں سے خود بھی نفع حاصل کرے اور دوسروں کو نفع پہنچائے بھی۔ منافع کی اس تقسیم اور دولت کی اس گردش کو جاری رکھنے کے لیے محض افراد کے باطن میں چند اخلاقی اوصاف پیدا کردینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ جماعت کا قانون بھی ایسا ہونا چاہیے جو مال کے اکتساب اور خرچ دونوں کی صحیح تنظیم کردے۔ اس کے ماتحت کسی کو مضرت رساں طریقوں سے دولت کمانے کا حق نہ ہو اور جو دولت جائز ذرائع سے کمائی جائے وہ ایک جگہ سمٹ کر نہ رہ جائے’ بلکہ صرف ہو اور زیادہ سے زیادہ گردش کرے۔

اس نظریے پر جس نظم معیشت کی بنیاد رکھی گئی ہے اس کا مقصد نہ تو یہ ہے کہ چند افراد کروڑ پتی بن جائیں اور باقی تمام لوگ فاقے کریں’ اور نہ اس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی کروڑ پتی نہ بن سکے اور جبراً سب کو ان کے فطری تفاوت کے باوجود ایک حال میں کردیا جائے۔ ان دونوں انتہاؤں کے بین بین اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جماعت کے تمام افراد کی معاشی ضروریات پوری ہوں۔ اگر ہر شخص دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر اپنی فطری حد کے اندر رہ کر اکتساب مال کی کوشش کرے’ اور پھر اپنے کمائے ہوئے مال کو خرچ کرنے میں کفایت شعاری اور امداد باہمی کو ملحوظ رکھے تو سوسائٹی میں وہ معاشی ناہمواری پیدا نہیں ہوسکتی جو سرمایہ داری کے نظام میں پائی جاتی ہے کیونکہ اس قسم کا طرز معیشت اگرچہ کسی کو کروڑ پتی بننے سے نہیں روکتا’ مگر اس کے ماتحت یہ بھی ناممکن ہے کہ کسی کروڑ پتی کی دولت اس کے ہزاروں ابنائے نوع کی فاقہ کشی کا نتیجہ ہو۔ دوسری طرف یہ طرز معیشت تمام افراد کو خدا کی پیدا کی ہوئی دولت میں سے حصہ ضرور دلانا چاہتا ہے’ مگر ایسی مصنوعی بندشیں لگانا جائز نہیں رکھتا جن کی وجہ سے کوئی شخص اپنی قوت و قابلیت کے مطابق اکتساب مال نہ کرسکتا ہو۔

Previous Chapter Next Chapter